تازہ ترین
Home / آرٹیکل / رَو میں ہے رَخشِ عمر تحریر: پروفیسر مظہر

رَو میں ہے رَخشِ عمر تحریر: پروفیسر مظہر

رَو میں ہے رَخشِ عمر

تحریر: پروفیسر مظہر

 سرگوشیاں

میرے اندر یہ ”فنکارانہ خوبی“ آج تک پیدا نہیں ہوسکی کہ کسی کتاب کو کھولے بغیر اُس پر تبصرہ کر سکوں۔ اِسی لیے اکثر احباب کے گلے شکوے وعدہٗ فردہ پر ٹال دیتا ہوں۔ یہ وعدے ہمیشہ سیاسی ہوتے ہیں اور وہ سیاستدان ہی کیا جو ایفائے عہد کرے۔ کچھ معاملات البتہ ایسے کہ جن سے مفر ناممکن۔ برادرِ محترم ڈاکٹر فرید احمد پراچہ سے دوستی، محبت اور باہمی احترام کا رشتہ چار عشروں پر محیط ہے۔ پھر بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ اُن کی خود نوشت (عمرِرواں) بِلا تبصرہ چھوڑ دیتا۔ ابتداََ فطری سستی اور کاہلی آڑے آئی اور پھر اسباب پڑے یوں کہ قلم سنبھالتے سنبھالتے دو ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا۔ کچھ فرصت ملی تو سوچا کہ ”عمرِرواں“ پر ایک طائرانہ نظر ہی ڈال لی جائے۔ جب خودنوشت کھولی تو اُس لفظوں کے جادوگر نے یوں جکڑا کہ وقت گویا تھم سا گیا اور پتہ ہی نہ چلا کب دن ڈھلا، کب رات آئی۔ جب سپیدہ سحر شب کی سیاہی کو اپنے دامن میں سمیٹنے لگا تب اِس ”طائرانہ نظر“ کا سفر تمام ہوا۔ دعویٰ نہیں مگر یقین کہ ”عمرِرواں“ کی روانی تاریخ و ادب سے لگاؤ رکھنے والے ہر قاری کو مسحور کر دے گی۔ معروف سکالر خورشید رضوی صاحب نے بالکل بجا لکھا ”فرید پراچہ کا اسلوبِ تحریر قارئین کی توجہ کو بہت جلد اپنی گرفت میں لے لیتا ہے“۔

”عمرِرواں“ محض نصف صدی کا قصہ نہیں، اُس شخص کی داستان ہے جس کے حضور لفظوں کی سواریاں ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہیں۔ وہ جب لفظوں کے تانے بانے بُنتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خوبصورت رنگوں سے مزین تتلیاں لفظوں کو اپنے پَروں میں چھپائے اِدھر اُدھر منڈلاتے ہوئے قوس قُزح بکھیر رہی ہوں۔ وہ رلانے کا فَن بھی جانتا ہے اور ہنسانے کا بھی۔ اپنے والدِ محترم مولانا گلزار احمد مظاہری کی رحلت پر لکھا ”خود مرحوم ہوگئے، ہمیں محروم کر گئے۔۔۔ اُن کے اُٹھ جانے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے گویا کسی مسافر کو یکلخت حوادثِ زمانہ نے جھرنوں کے نیلگوں پانیوں اور درختوں کے لطیف و مہرباں سایوں سے اُٹھا کر چلچلاتی دھوپ اور گرم ریگزار کی حدت و شدت میں پھینک دیا ہو۔ وہ برگر کا گھنا سایہ تھے، مخمل کی نرم چھتنار تھے۔ اُن کی شفقت میں شبنمی ٹھنڈک اور محبت میں بہارآفریں حلاوت تھی“۔ اِس پیراگراف میں جہاں جابجا غم و اندوہ کی لہریں جنم لے رہی ہیں وہیں عقیدت و محبت کے جھرنے بھی پھوٹتے نظر آتے ہیں۔ پراچہ صاحب کی اہلیہ محترمہ جب گردن توڑ بخار میں مبتلاء ہو کر ہسپتال پہنچیں تو اُنہوں نے لکھا ”بے یقینی کے پُل صراط سے گزرتے ہوئے روز و شب کی گھڑیاں کاٹتے رہے۔۔۔۔ بیہوشی تو یکساں چلتی ہی تھی اِس دوران کئی مرتبہ یوں لگتا جیسے اُمید کی ناؤ اب ڈوب چلی ہے۔ مغرب سے کچھ قبل پروفیسر غفور صاحب اور اسلم سلیمی صاحب تشریف لائے اور میرے چہرے سے اضطراب کی تحریریں پڑھ کر خصوصی دعاؤں سے نوازتے رہے“۔ اہلیہ محترمہ کے دمِ واپسیں پر اپنے کرب کا یوں اظہار کیا ”بیہوشی کے بعد سے اب تک اگرچہ کوثر نے ایک حرف بھی زبان سے ادا نہ کیا لیکن اُس وقت اُس کے سانسوں کی بے ترتیبی خاموش زبان سے بہت کچھ کہہ رہی تھی۔ شاید اِس کائنات کو، اپنے پیاروں کو، اپنی سہیلیوں کو، اپنے خوبصورت بچوں کو، اپنے مضطرب والدین کو، اپنی بے چین بہنوں کو اور اپنی تحریکِ اسلامی کو خُدا حافظ کہہ رہی تھی“۔ اردو ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ خود نوشت ہے نہ تاریخ بلکہ اُردو ادب کے ایسے شہ پارے ہیں جو ”عمرِرواں“ میں ستاروں کی مانند جابجا بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے ہیں۔ مجھے پوری خود نوشت میں کہیں ادبی جھول نظر نہیں آیا۔ جہاں دیکھو وہ آسمانِ ادب کی رفعتوں کو چھوتے نظر آتے ہیں۔

”عمرِرواں“ میں شائستہ و شُستہ مزاح کی جھلکیاں بھی جابجا۔ سنجیدہ و متین پراچہ صاحب کو واقعاتی مزاح پر عبور ہے۔ شگفتگی و رعنائی اُن کے مزاح کا جوہر ہے۔ وہ خوشگوار لمحوں کی کہکشاں یوں سجاتے ہیں کہ لب بے ساختہ مسکرا اُٹھتے ہیں۔ قاری کو عمرِرواں میں واقعاتی مزاح کی جھلکیاں جابجا ملتی ہیں۔ چند دلچسپ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے اُنہوں نے سیالکوٹ میں تحریکِ ختمِ نبوت کے جلسے کے دوران ایک معروف مقرر کی طویل تقریر کا ذکر کیا جنہوں نے دورانِ تقریر کہا ”سامعین میری مٹھی میں بند ہوتے ہیں۔ میں جب تک چاہوں اُن کو مٹھی میں رکھوں اور جب چاہوں نکال لوں، یہ میری مرضی ہے“۔ اُن کی اِس بات پر مجمعے میں سے آواز آئی ”مولوی صاحب! مٹھی کھولنا اندر بہت حبس ہے“۔ ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے پراچہ صاحب نے لکھا ”ایک معرکہ اورینٹل کالج میں پیش آیا۔ یہاں ہم نے غنڈوں کی عبرتناک پٹائی کی تھی۔ اُسی شام میں نیو کیمپس اپنے ہوسٹل میں بیٹھا تھا کہ چوکیدار نے بتایا کچھ لوگ آپ سے ملنے آئے ہیں۔ میں نیچے اُترا تو دیکھا کہ پندرہ بیس مشٹنڈے دھوتیاں پہنے بڑھتے چلے آرہے ہیں۔ ایک نے آگے بڑھ کر مجھ سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ میرا نام مولوی لہولہان ہے۔ اُس کا انداز صاف بتا رہا تھا کہ یہ کوئی نامی گرامی گروہ ہے جو صبح کی پٹائی کا بدلہ لینے آیا ہے۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو صرف ایک ساتھی موجود تھا اور بھی قاری مغیث الدین۔۔۔۔ یکلخت اُس شخص نے جیب میں ہاتھ ڈالا، میں کسی پستول یا خنجر کا منتظر تھا کہ اُس کا ہاتھ نکلا جس میں ایک تعارفی کارڈ تھا۔ اُس پر لکھا تھا مولوی عبد الرشید لہولہان، صدر مِنی بس ایسوسی ایشن“۔ دراصل وہ لوگ اپنا ایک مسئلہ لے کر آئے تھے۔ اُدھر چودہ نمبر ہوسٹل میں سُرخوں کا جلسہ ہو رہا تھا۔ اُنہیں کسی نے خبر پہنچائی کہ جماعتی غنڈے حملہ آور ہونے آرہے ہیں تو جلسہ درہم برہم ہوا اور سبھی فرار ہو گئے۔ اِسی طرح کا ایک اور قصہ لڑکی کے اغوا کا ہے۔ جسے پراچہ صاحب اور ساتھیوں نے محمد بِن قاسم بن کر غنڈوں سے چھڑوانے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ وہ تو کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ اِسی طرح کے کئی اور دلچسپ واقعات بھی ہیں لیکن اس مختصر سے کالم میں اُن کی گنجائش نہیں۔
”عمرِرواں“ محض ایک خود نوشت نہیں بلکہ اُس شخص کی کہانی ہے جس کی عمرِعزیز کا غالب حصہ زمینی خداؤں سے پنجہ آزمائی کرتے گزرا لیکن کبھی پایہ استقلال میں لرزش نہ آئی۔ یہ عزم و ہمت اور جرأت و استقامت کی ایسی داستان ہے جو نونہالانِ وطن کو جہدِ مسلسل کا درس دیتی ہے۔ یوں تو پراچہ صاحب نے کسرِ نفسی سے کام لیتے ہوئے لکھا ”دھماکہ خیز انکشافات نہیں تاہم یہ کسی درماندہ راہرو کی صدائے درد ناک ضرور ہے“۔ حقیقت مگر اِس کے برعکس کہ عمرِرواں نے تاریخ کے کئی نہاں گوشے عیاں کر دیئے۔ اُنہوں نے تاریخِ وطن کو وقت کی دھول میں گم ہونے دیا نہ اپنے قلم کو وقتی مصلحتوں سے آلودہ کیا۔ اُنہوں نے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے نہ صرف حقائق کے گلہائے رنگارنگ بکھیرے بلکہ صحنِ چمن کے نہاں کانٹے بھی عیاں کر دیئے۔ اِس خود نوشت میں اتنی تاریخی سچائیاں ہیں کہ اگر حوالے دینا شروع کر دوں تو صفحات کے صفحات سیاہ کر دوں۔ ایوبی آمریت، جنرل رانی کے انکشافات، سقوطِ مشرقی پاکستان کے اسباب، پاکستان قومی اتحاد، 1977ء کے انتخابات، جنرل ضیاء کا مارشل لاء، افغانستان میں روسی اور امریکی جارحیت، افغانستان میں امریکہ کی تاریخی شکست اور اِس جیسے کئی دیگر موضوعات جن پر پراچہ صاحب نے کھل کر لکھا اور جو کچھ لکھا وہ ایسی مستند تاریخ جس کے مجھ سمیت کئی عینی شاہد اب بھی موجود۔ اپنی خود نوشت میں پراچہ صاحب نے حیاتِ بے مہار کے ایک ایک لمحے کا رَس نچوڑ کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستند تاریخی حوالہ مرتب کیا ہے۔ اِس لیے بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی مورخ ”عمرِرواں“ سے مستفید ہو سکتا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

وہ رمضان 6 جون 2017ء کا ایک ابر آلود دن تھا مجھے لمبے عرصے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے