تازہ ترین
Home / Home / مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

وہ رمضان 6 جون 2017ء کا ایک ابر آلود دن تھا مجھے لمبے عرصے بعد سعودیہ سے لوٹے ابھی ذیادہ وقت نہیں ہوا تھا، میرا بچپن اور ابتدائی جوانی کراچی اور پھر سعودی عرب میں ایک لمبا عرصہ گزارنے سے میں اپنے شہر کے نظام اور سوچ سے بالکل ناواقف تھا۔
میری متاع عزیز میرا چھوٹا بھائی ہمارے ہاتھوں سے پھسل رہا تھا مجھ سے پہلے ہی اسے ایمرجنسی میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سمبڑیال لیجایا جا چکا تھا مجھے اس سے پہلے یہ بھی نہیں پتہ تھا یہ ہسپتال کہاں ہے میں موٹر سائیکل بھگاتا لوگوں سے پوچھتا ایمرجنسی میں پہنچا۔
دروازہ کھولا تو بھائی اسٹریچر پہ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلاء تھا اس کے پاس صرف ایک نرس اور خاکروب تھے جو اسے دیکھ رہے تھے جبکہ چار پانچ مسیحا نما جلاد ڈاکٹرز جن میں شائد دو لیڈی ڈاکٹر بھی تھیں میز کے گرد بیٹھے چائے اور مونگ پھلی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
یہ منظر یکدم میرے اندر آگ سی لگا گیا میں نے زور سے میز پر ہاتھ مارا اور ایک ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑا کہ تم لوگ انسان ہو ؟ ایک مریض مر رہا ہے اور تم لوگ گپیں ہانک رہے ہو، میرے ساتھ ان کا رویہ بھی شاید کچھ جارحانہ ہوتا مگر میرے ہاتھ میں وی او اے(وائس آف امریکہ ،اردو سروس) کا پریس کارڈ انہیں ٹھنڈا اور متحرک کرنے کے لئے کافی ثابت ہوا۔
اب وہی سب ڈاکٹرز طاہر کو دیکھ رہے تھے اور مجھے تسلی دے رہے تھے کہ لڑکے کی حالت خطرے سے باہر ہے آپ پُرسکون ہو جائیں اور اسے فوری ڈی ایچ کیو ہسپتال سیالکوٹ لیجائیں ، بعد میں انکی باتیں غلط ثابت ہوئیں کیونکہ وہ پہلے ہی بہت وقت ضائع کر چکے تھے۔
اب ایک اور مسئلہ کھڑا ہوگیا قریباً گھنٹے ڈیڑھ تک بہت کوشش کے باوجود کوئی ایمبولینس دستیاب نا ہوسکی مجبوراََ اسے کار میں ڈال کر ساہوالہ 1122 کے دفتر تک لانا پڑا جہاں سے بمشکل ایمبولینس مل سکی۔
سول ہسپتال سیالکوٹ کی ایمرجنسی میں مریض کو دیکھتے ہی ڈاکٹرز نے ناامیدی کا اظہار کردیا اور اگلے دو چار گھنٹے وہ مریض کے علاج سے ذیادہ مجھے ذہنی طور پر اپنے بھائی کی موت کے لیے تیار کرتے رہے ، بلکہ ایک خاتون ڈاکٹر نے مجھے بڑے آرام سے پاس بٹھا کر پہلے پوچھا کہ ” یہ آپ کے کیا لگتے ہیں” اور پھر کہا ” آپ ایک بڑے صدمے کے لئے تیار ہو جائیں آپ کے بھائی کے پاس ذیادہ وقت نہیں ہے ” ۔
اور پھر اسی شام ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اس روز پکا ارادہ کرلیا تھا کہ سول ہسپتال سمبڑیال میں اس روز ڈیوٹی پر تعینات ایم ایس اور ایمرجنسی ڈاکٹر پر ضرور کیس کروں گا ، مگر پھر اس صدمے نے خود مجھے ہی توڑ کر رکھ دیا اور پھر ایک لمبے عرصے تک یا شاید آج بھی میری ساری خود اعتمادی اسی ایک حادثے کی نظر ہو کر رہ گئی۔
آج اتنے سال بعد بھی کسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں جاتے ہوئے ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتی ہیں میرے لئے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہونا کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتا، اس روز کے بعد جب بھی کسی مریض کو سیریس دیکھا اس کے ورثاء کو ہر ممکن قائل کیا کہ اسے سرکاری ہسپتال لیکر ہرگز مت جانا خاص طور پر ایمرجنسی میں تو ہرگز نہیں وہاں درندے نہیں جلاد ہوتے ہیں جن کا کام صرف مریض کو موت کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔
سمبڑیال میں موجودہ ایم ایس ڈاکٹر محسن جاوید ہمارے اچھے دوست اور ہمدرد مسیحا ہیں کئی سالوں سے جب وہ ایم ایس بھی نہیں تھے میں ان کے پاس مستحق مریض بھیجتا ہوں اور وہ اچھے سے انہیں دیکھتے بھی ہیں اور مناسب علاج کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون بھی کرتے ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ ایمرجنسی میں میں ان کے پاس بھی مریض نہیں بھیجتا اس کے پیچھے صرف وہ ڈر ہے جو اب بھی دل سے نکلنے کو تیار نہیں۔
یہ سارا واقعہ آج اس لیے پھر یاد آیا کہ سمبڑیال کے سوشل میڈیا حلقے اور کچھ ہمارے مخلص صحافی بھائی سمبڑیال کی پرانی سول ڈسپنسری کو انتظامیہ کی طرف سے ختم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف بہت متحرک اور پرجوش دکھائی دے رہے ہیں ان کی کوشش ہے کہ اسے ختم کرنے کے بجائے اس کی ازسرنو تعمیر کی جائے اور اسے عوام کے لیے مزید شفاء بخش ادارے کی شکل میں موجود رہنے دیا جائے۔
یہ بہت اچھی بات ہے اس کے لئے ہم سب کو آواز اٹھانی چاہئے میں ہر اس شخص کو سلام پیش کرتا ہوں جو اس کے لیے کوشش کر رہا ہے مگر اس سے بھی کہیں زیادہ اہم اور توجہ طلب مسئلہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کو انسانیت اور مریضوں و لواحقین کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آنے کے آداب سکھانا بھی ہے یہ لوگ مسیحائی کی اس معراج پر بیٹھ کر بھی کیسے اس قدر شیطانیت کا مظاہرہ کر لیتے ہیں ان کے دل تو نرم ہونے چاہئیں مگر دلوں کی یہ سختی میں سمجھے سے قاصر ہوں۔
مریم نواز پنجاب کے ہسپتالوں میں ہر ممکن سہولیات پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں وہ لوگوں کی خدمت کے لئے بہت پرجوش ہیں مگر افسوس کہ وہ بھی مسیحائی کے لبادے میں سجائے گئے ان جلاد نما ڈاکٹروں کو قابو کرنے میں ناکام نظر آرہی ہیں، آئے روز کوئی نا کوئی ویڈیو ضرور ایسی وائرل ہو جاتی ہے جو اس نظام صحت کے ماتھے پر ایک مزید بدنما داغ چھوڑ جاتی ہے۔
انسانی جسموں کو چیرپھاڑ کر جوڑنے کی تعلیم دینے والے میڈکل ادارے اگر ان ڈاکٹرز کو تھوڑی سی انسانیت بھی سکھا سکیں تو یہ ان کا انسانیت پر ایک بڑا احسان ہوگا۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے