کووڈ 19 یعنی کورونا وائرس کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا، معیشت، سیاحت، عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے دنیا کو اس انداز میں اپنے پنجوں میں جکڑ لیا ہے کے دنیا اب تک اس وبا سے جان چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کروڑوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والا یہ موذی وائرس بہت سی انسانی جانوں کو نگل چکا اور لاتعداد اب بھی اس کی وجہ سے متاثر ہیں دنیا میں کورونا کی وجہ سے جہاں لوگوں کو معاشی طور پر بہت سے چیلنج کا سامنا رہا وہی تعلیمی نظام کی بساط بھی اس طرح سے لپٹی ہے کہ اللہ کی پناہ اسکول اور مدارس میں گونجتی ہوئی آوازوں کو اس وبا نے خاموشی میں تبدیل کر دیا تھا اسی ادوار میں بچوں کو آن لائن کلاسسز کی جانب راغب کیا گیا جس سے تعلیم کے ہونے والے نقصان کا کچھ سدباب کیا جاسکے لیکن یہ فیصلہ نا صرف بچوں کے بلکہ مقتدر حلقوں کی جانب سے خود بھی اتنا مقبول نہیں ہوسکا اور پہلے سال تمام ہی کلاسسز کو بغیر امتحان لئے ہی اگلی کلاسسز میں پرموٹ کردیا گیا مگر کورونا کی بربادی نے اگلے سال ایک نئے چیلنج کے طور پر تعلیمی اداروں کو سوچنے پر مجبور کیا کہ اس سے کس طرح بچا جاسکے اور بچوں کی تعلیم کے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جاسکے حکومت کے فیصلوں کی غیر مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس فیصلے پر طلباء کا بھرپور ردعمل سامنے آیا پاکستان میں بہت سے واقعات میں طلباء اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آمنا سامنا بھی ہوا اور بات کتاب اور قلم پکڑنے سے پتھر اور ڈنڈوں تک بھی پہنچی، میں اس کے سہی یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کیونکہ محرکات کیا تھے اور کیوں یہ سب ہوا میں نہیں جانتا جانتا ہوں، تو یہ کہ بچوں کا مستقبل تاریک راہوں پر گامزن ہے بچوں نے پورے سال آن لائن کلاسسز لیں کلاسز کا معیار کیا تھا اس معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا فزیکل امتحانات لئے جاسکتے ہیں؟ یہ سب سے بڑا سوال ہے جو اب تک سلجھ کر نہیں دے رہا۔ بہرحال طالبعلم اس فیصلے سے ناخوش ہیں اور وہ اس فیصلے کو غیر منصفانہ سمجھتے ہیں میں بطور تجزیہ نگار ارد گرد کے ماحول کو دیکھتے ہوئے اس رائے کا حامی ہوں کہ بچوں کے ساتھ انصاف کیا جائے اور ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے بچوں کی تعلیم کا نقصان نا ہو اور محنت کرنے والوں اور محنت نا کرنے والوں کو ایک ہی لکڑی سے نا ہانکا جائے، اگر ہمیں کورونا کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہے تو اس کے مطابق تعلیمی پالیسی مرتب دی جائے، پاکستان میں تعلیمی نظام ویسے بھی بہت پیچیدہ اور مہنگا ترین ہوتا جارہا ہے جہاں ایک غریب اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے لئے اپنا گھر تک بیچنے پر مجبور ہو وہاں اس کے ساتھ ناانصافی کسی بھی صورت نہیں ہونی چاہئے۔