تازہ ترین
Home / Home / پنجابی زبان ہمارا سماجی و ثقافتی ورثہ ہے جس کو اپنائے بغیر ہم حقیقی علم و ترقی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے۔

پنجابی زبان ہمارا سماجی و ثقافتی ورثہ ہے جس کو اپنائے بغیر ہم حقیقی علم و ترقی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے۔

زبان تہذیت و شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ پنجابی زبان کی ترویج و اشاعت کا سہرہ صوفیاء کرام کے سر پر ہے۔ ایم افضل چوہدری

کمالیہ (ایڈیٹر نیوز آف پاکستان ڈاکٹر غلام مرتضیٰ)  پنجابی زبان ہمارا سماجی و ثقافتی ورثہ ہے جس کو اپنائے بغیر ہم حقیقی علم و ترقی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ مادری زبان انسان کو شعور میں رہتے ہوئے اس کی شعوری بلوغت کرتی ہے۔ کیونکہ زبان تہذیت و شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ اس طرح جذبات، ضروریات یا روئیوں کا جو بانک پن مادری زبان میں سرائیت کرتا ہے وہ بیگانی زبانوں میں ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار چوہدری آرٹس سوسائٹی اینڈ کلچرل ونگ کے صدر ایم افضل چوہدری نے مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر سوسائٹی کے دیگر عہدیداروں جنرل سیکرٹری عثمان سیالوی، نائب صدر ایم ارشد چوہان، سنیئر نائب صدر شفیق چشتی، لیگل ایڈوائزر سردار عبدالرحمٰن ایڈووکیٹ اور دیگر عہدیداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پنجابی زبان کی ترویج و اشاعت کا سہرہ صوفیاء کرام کے سر پر ہے۔ اور مادری زبانوں کے عالمی دن کو منانے کا مقصد مادری زبانوں کے ساتھ ہونے والی نسلوں کے شعور، ثقافت کو پروان چڑھانا اور زندہ رکھنا ہے۔ یاد رہے کہ مادری زبانوں کا تحفظ ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے۔ زبان نہ صرف جذبات کے اظہار و خیال کا موثر ذریعہ ہے بلکہ اقوام کی زبان ترقی اور بلوغت کا ذریعہ ہوتی ہے۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے