ماہ فروری 2026کو جاری ہونے والا جنوری 2026 کا گیس کا بل ۔ ایک مزدور کے گھر کا گیس خرچ بل 3586 روپے جس پر 2524 روپے ٹیکس لگایا گیا ھے ۔ اس طرح ٹوٹل بل 6160 روپے بنایا گیا ھے ۔ جس مزدور کا یہ بل ھے وہ روزانہ 500 سے 700 یومیہ مزدوری کر کے کماتا ھے ۔ میں بخوبی جانتا ھوں کہ اس مزدود کے گھر میں روزانہ کھانے پینے کا سامان نہیں ھوتا ۔ اس مزدود کے بچوں نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا ۔ اس مزدور کے گھر بعض اوقات کھانے پکانے کے لیے کچھ بھی نہیں ھوتا ۔ میں جانتا ھوں کہ اس مزدور کے بچے اگر بیمار ھو جائیں تو میڈیسن کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ھوتے ۔ یہ ایک مزدور کی بات نہیں ھے کروڑوں مزدور غریب اور مفلس لوگ ایسی ہی زندگی گزار رھے ھیں ۔ لیکن حکمرانوں کی طرف سے اخبارات میں دیے گۓ کروڑوں مالیت کے اشتہارات میں پاکستان بالخصوص پنجاب میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ھیں ۔۔ اندازہ لگائیں کہ پاکستان میں کروڑوں گیس کے بلوں پر صرف ایک ماہ میں کتنی لوٹ مار کی گئ ھو گی ۔ لٹیرے حکمران اس ملک کی 26 کروڑ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ھے ۔موجودہ جعلی حکمران اپنی عیاشیوں کے لیے مجبور و محکوم عوام کو دن رات لوٹنے میں مصروف ھیں ۔ 12 کروڑ آبادی کے مقروض صوبے کے قابض حکمرانوں نے اپنی عیاشی اور بادشاہی کے لیے 11 ارب کا طیارہ خرید لیا ۔ جبکہ خط غربت سے نیچے 45 فی صد عوام سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ یہ صرف گیس کا بل ھے ۔ بجلی کے بلوں کے ذریعے وفاقی حکومت نے مزید بجلی مہنگی کر کے اپنے لیے عیاشیوں کا سامان پورا کرنا ھے ۔ بجلی بنانے والی ان سیاست دانوں کی کمپنیوں نے پاکستانی عوام کا خون نچوڑنے کا عمل بدستور جاری رکھا ھوا ھے ۔ مخیر حضرات کی طرف سے سحری و افطاری کروانے کے پروگراموں پر حکمران اپنے بینرز لگا کر خوب کرپشن کرنے کا منصوبہ پر عمل کر رہی ھے ۔ عوام کے لگائے گئے سحری و افطاری کے دسترخوان خوانوں پر عوام کے ٹیکس پر جمع ھونے والے خزانے کو کتنا چونا لگے گا یہ بات تو تڑپتی سسکتی عوام کو بھلا کیسے معلوم ھو ۔ غریب عوام دشمن سرکاری ملازمین دشمن اور کسان دشمن حکمرانوں نے 78 سالہ لوٹ مار کا ریکارڈ توڑ دیا ھے ۔ ان حکمرانوں کے لیے یہ ملک ایک تجارتی مرکز ھے ۔ اس کے علاوہ ان حکمرانوں کا اس پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ھے ۔ ان حکمرانوں کا سب کچھ تو بیرون ملکوں میں محفوظ ھے ۔ ان کے کاروبار ان کی اولادیں ان کے محلات تو بیتون ملک میں ھیں ۔ ان کا 26 کروڑ محکوم قوم کی غربت سے کوئی سروکار نہیں ھے ۔ اب یہ 1980 کا دور نہیں ھے ۔ اب عوام بالخصوص نوجوان بخوبی جان چکے ھیں کہ ان کا رزق کون چوری کر رھا ھے ۔ نوجوانوں کو بے روزگار رکھنے کے پیچھے کون سی طاقتیں کارفرما ھیں ۔ماچس کی ڈبی سے لے کر کفن دفن تک ٹیکس دینے والی عوام ایک ایک لقمے کو ترس رہی ھے ۔ جبکہ لٹیرے اور ان کی اولادیں شاہی خاندانوں کی طرح عیاشیاں کر رہی ھیں ۔ اب عوام باشعور ہو چکی ھے انہیں یہ بھی علم ھے کہ بھوک غربت اور مفلسی اللہ رب العزت کی طرف سے نہیں بلکہ ان قابضین لٹیروں کی وجہ سے ھے جو اس مملکت خداد پر دشمن ملک کی فورسز کی طرح قابض ھیں۔ ملک میں غربت مفلسی بے روزگاری بدامنی کے ذمہ دار موجودہ سیاست دان جاگیردار وڈیرے بیوروکریٹس اور ان کے سہولت کار ھیں ۔ ورنہ پاکستان میں 26 کروڑ عوام ایک ایک سانس پر ٹیکس ادا کر رہی ھے ۔ عوام کے دیے گۓ ٹیکس عوام پر ہرگز خرچ نہیں ھوتے ورنہ میرے پاکستان میں لوگ غربت کی وجہ سے خودکشیاں نہ کرتے ۔ ہیلمٹ نہ خریدنے کی طاقت رکھنے والے مزدور سڑکوں پر اپنی قیمتی جانیں نہ دیتے ۔ عوام کا خون نچوڑ کر اکٹھا کیا ہوا ٹیکس حکمران اپنی عیاشیوں پر خرچ کر رھے ھیں ۔ یہی سب سے بڑی تلخ حقیقت ھے جو نوجوان نسل بخوبی جان چکی ھے۔ پاکستانی عوام یہ جانتی ھے ان حکمرانوں نے 26 کروڑ عوام کے نام پر اتنا قرض لے لیا ھے کہ ھر پاکستانی 3 لاکھ 12 ھزار روپے کا مقروض ھے۔ سوال یہ ھے کہ کہ اتنا بھاری قرض کہاں گیا ۔؟
Home / Home / گیس کے بلوں کے ذریعے لوٹ مار ۔۔۔ کالم نگار : صوفی محمد ضیاء شاھد ۔ سینیئر جرنلسٹ ،کالم نگار ۔
Tags Dr.Ghulam Murtaza پاکستان پنجاب ڈاکٹر غلام مرتضیٰ کمالیہ