تازہ ترین
Home / Home / سینیٹر عرفان صدیقی۔ اسلام آباد، راولپنڈی انتظامیہ توجہ دے۔۔۔کالم نگار: سید سردار احمد پیرزادہ

سینیٹر عرفان صدیقی۔ اسلام آباد، راولپنڈی انتظامیہ توجہ دے۔۔۔کالم نگار: سید سردار احمد پیرزادہ

یہ ایک برس سے بھی کم کی بات ہے جب کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور راولپنڈی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی انتظامیہ ایک شخصیت کے کالم بڑے انہماک سے پڑھا کرتی تھیں۔ اگر کبھی اُس شخصیت کا گزر سی ڈی اے یا آرڈی اے کے دفاتر کی طرف سے ہوتا تو وہاں کی انتظامیہ اُس ہستی کے استقبال میں دل و جان سے فدا ہوتی۔ ان اداروں کی انتظامیہ کا ایسا کرنا عموماً دو وجوہات کی بناء پر ہوتا۔ پہلا یہ کہ وہ شخصیت ایوانِ اقتدار میں بڑی قدرو منزلت رکھتی تھی۔ دوسرا یہ کہ اُس شخصیت کی اپنی علمی حیثیت بھی بڑی جانی مانی تھی کیونکہ کئی اعلیٰ سول اور اعلیٰ فوجی شخصیات اُس ہستی کو اپنا استاد کہتی تھیں اور ان کا شاگرد ہونے پر فخر محسوس کرتی تھیں۔ اُس نابغہ روزگار شخصیت کا نام سینیٹر عرفان صدیقی تھا۔ اسلام آباد راولپنڈی کی جن دو اتھارٹیوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے آج کا یہ کالم دراصل اُن ہی کی توجہ کا طالب ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نومبر 2025ء کو اِس دنیا سے چلے گئے لیکن اپنا علمی، ادبی اور صحافتی ورثہ اِس قوم کے نام کرگئے۔ اُن کی انہی خدمات کو عوامی سطح پر دیر تک یاد رکھنے کے لیے کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور راولپنڈی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی انتظامیہ سے ایک اپیل ہے کہ یہ ادارے اسلام آباد میں سینیٹر عرفان صدیقی کے گھر کے قریب کی سڑک اور روات کے قریب ان کے گاؤں کو جانے والی سڑک کا نام سینیٹرعرفان صدیقی کے نام پر رکھیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی کسی تعارف کے محتاج نہیں لیکن اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ان کے بارے میں اگر مزید مختصر سا کچھ لکھا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ پاکستان کے ادبی اور صحافتی منظرنامے میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اپنے علم، محنت اور ایمانداری سے معاشرتی و سیاسی تبدیلیوں کی راہ ہموار کی ہے۔ ان شخصیات میں سینیٹر عرفان صدیقی کا نام بڑے ادب اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کے صحافتی سفر، ادبی خدمات اور فکری بصیرت نے انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ایک استاد، ماہرتعلیم، کالم نگار، تجزیہ نگار، شاعر اور فکشن رائٹر ہونے کے ناطے انہوں نے نہ صرف سیاست، معاشرت اور صحافت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور گہرے اثرات مرتب کیے بلکہ سماجی مسائل، عوامی حقوق اور اخلاقیات پر بھی مسلسل لکھا۔ ان کی تحریریں اور کالم نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھتے بلکہ عوام کی مشکلات اور امیدوں کا عکس بھی پیش کرتے۔ ان کی تحریروں میں سچائی، انصاف اور حقیقت پسندی کا پہلو ہمیشہ غالب رہا۔ وہ ہمیشہ اپنے قارئین کو سچ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے رہے۔ چاہے وہ سیاست ہو یا معاشرت یا پھر انسانی حقوق کا معاملہ، ان کی تحریروں میں ایک غیرمعمولی بصیرت اور فکر کی گہرائی تھی جو معاشرتی مسائل کو سمجھنے میں مدد دیتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کالم عوام میں بہت مقبول تھے اور ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔ سینیٹر عرفان صدیقی کا کردار صرف صحافت تک محدود نہیں رہا۔ وہ ایک معاشرتی رہنما کی حیثیت میں بھی سامنے آئے۔ جہاں انہوں نے عوامی مسائل پر بات کی وہیں ان مسائل کے حل کے لیے آواز بھی اٹھائی۔ ان کی سیاست کے بارے میں سوچ بھی بہت متوازی اور دور اندیش تھی۔ ان کی تحریروں میں ہمیشہ شائستگی اور توازن پایا جاتا تھا جو اُن کو سیاست اور سماج کے پیچیدہ مسائل پر بات کرنے کا اعتماد فراہم کرتا تھا۔ ایسی قدآور شخصیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تجویز دینا بے حد مناسب ہوگا کہ اسلام آباد اور ضلع راولپنڈی میں دو سڑکیں ان کے نام سے منسوب کی جائیں جو سینیٹر عرفان صدیقی کی خدمات کو نہ صرف ایک بہترین خراج تحسین ہوگا بلکہ یہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک تحریک بھی ثابت ہوگی۔ اس سلسلے میں جواں سال دانشور اور رائٹر ارشدشاہد بھی ہرسطح پر آواز بلند کررہے ہیں۔ وہ معاشرتی اصلاح کے حوالے سے ہمیشہ سرگرم عمل رہتے ہیں۔ خاص بات یہ کہ ارشد شاہد سینیٹرعرفان صدیقی کے داماد بھی ہیں۔ ارشد شاہد کی فکری نشوونما میں سینیٹر عرفان صدیقی کا بہت عمل دخل ہے۔ اسی لیے اُن کا بھی اپنے محترم سُسر عرفان صدیقی کی طرح تہذیبی، اخلاقی، مذہبی اور ملی ورثے پر پورا یقین ہے۔ وہ اسلام آباد اور ضلع راولپنڈی کی دو شاہراہوں کو سینیٹر عرفان صدیقی کے نام سے منسوب کرنے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”قائد مسلم لیگ جناب میاں محمد نواز شریف، وزیراعظم پاکستان جناب میاں محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کو چاہئے کہ مسلم لیگ کے دیرینہ و مخلص و وفادار ساتھی اور قومی ہیرو مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی ملک و قوم کے لیے بے پناہ علمی، ادبی، صحافتی، سیاسی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں پنجاب (ضلع راولپنڈی) کی ایک سڑک اور اسلام آباد کی ایک سڑک کا نام ان کے نام پر ”شاہراہِ عرفان صدیقی“ رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے پنجاب حکومت کو روات راولپنڈی سے ان کے آبائی گاؤں ڈھوک بدھال جانے والے چک بیلی خان روڈ اور وفاقی حکومت کو اسلام آباد کے سیکٹرجی ٹین میں ان کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرنے والے سواں روڈ کا نام تبدیل کرکے ان کے نام سے منسوب کردینا چاہئے۔ ”شاہراہِ عرفان صدیقی“ جہاں مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی اپنے وطن کے لیے بے پناہ عشق و محبت اور خدمات کا اعتراف اور خراج عقیدت ہوگا وہاں یہ شاہراہ ان کی راہِ حیات کے عظیم فلسفہ امن و سلامتی، محبت و آشتی، خلوص و وفا، صبرو تحمل، عفوو درگزر، تہذیب و شائستگی، دیانت داری و خودداری، عزم و ہمت اور عجزو انکساری کا بھی پرچار ہوگا“۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے