مختصر چند پُراسرار واقعات![]()
سچ کہوں تو مجھے جنوں بھوتوں کے ہونے پر بالکل یقین نہیں تھا، بس ایک انجان سا خوف تھا جو کہیں نہ کہیں جا کر ان کے ہونے کا احساس دلاتا تھا۔
جیسا کہ ہم اکثر بچوں کو بُرے کاموں سے روکنے کیلئے یا پھر ڈرانے کیلئے جنوں بھوتوں کی باتوں کا سہارا لیتے ھیں۔ کہ،سو جاؤ نہیں تو بھوت آ جائے گے یا پھر ڈائن کھا جائے گی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
لیکن جن بھوت واقعی ہی ہوتے ھیں اس بات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کیونکہ ؛۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔
۔’’ اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں‘‘۔
۔2۔ جنوں کی مخلوق ایک مستقل اور علاحدہ ہے جس کی اپنی ایک طبیعت ہے جس سے وہ دوسروں سے ممتاز ہوتے ھیں ، اور ان کی وہ صفات ہیں جو انسانوں پر مخفی ہیں تو ان میں اور انسانوں میں جو قدر مشترک ہے وہ یہ ہے کہ عقل اور قوت مدرکہ اور خیر اور شر کو اختیار کرنے میں ان دونوں کی صفات ایک ہیں اور جن کو جن چھپنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے یعنی کہ وہ آنکھوں سے چھپے ہوئے ہیں۔ وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتے مگر وہ ہمیں دیکھ سکتے ھیں ۔
قرآن میں جنات کی تخلیق کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ
ترجمہ: ’’ اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا‘‘۔
میری ایک سہیلی تھی جو اکثر مجھے جنات کے وجود کی متعلق بتاتی تھی، اسے جنوں بھوتوں پر ریسرچ کا کافی شوق تھا کبھی کبھی تو اس قسم کی ڈراونی کہانیاں سنانے کے اسکے پراسرار انداز سے میں واقعی ہی ڈر بھی جاتی تھی۔۔۔
۔1۔ اس نے کہا کہ ایک بار وہ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے آبائی گاؤں گئی ہوئی تھی بجلی کے بار بار آنے جانے سے تنگ آ کر وہ بھی اپنی خالہ اور باقی کزنوں کے ساتھ چھت پر جا کر سو گئی، بمشکل پانچ منٹ ہی آنکھ لگی ہو گی کہ جانوروں کی عجیب و غریب ڈراونی آوازیں اسکے کانوں کے پردوں سے ٹکرانے لگیں ،جن میں اسکا سونا محال ہو گیا۔۔۔ وہ بے چینی سے سب کو دیکھتی مگر، شدید گرمی اور مچھروں کی چوں چوں سے بھی کوئی ٹس سے مَس تک نہ ہوا۔
قریباً صبح کے 3 کا وقت ہو گا جب بن بادل بارش کی آمد سے ہی سب ہی آنکھ کُھلی تو بہت ہی حیرت ہوئی یہ دیکھ کر ۔۔۔۔
حتیٰ کہ میں جاگ رہی تھی مچھردانی کی اندر۔۔۔۔
میں چارپائی پر تھی جبکہ باقیوں نے چھت پر ہی چٹائی بچھا کر چادریں لے رکھیں تھیں، خالہ جب اُٹھیں تو موبائل کی ٹارچ آن کرنے کیلئے اِدھر اُدھرموبائل ڈھونڈنے لگیں جو کہ اُن کے تکیے کے نیچے سے شاید غائب ہو چکا تھا، اور لاکھ ڈھونڈنے کے باوجود بھی نہ ملا، حالانکہ چھت چاروں طرف سے کَور تھا کوئی ایسا خفیہ راستہ نہ تھا جو باہر سے چھت تک آتا ھو ۔
حیرت تو تب ہوئی کہ میں نے اپنے موبائل سے ٹارچ آن کر کے اپنی چارپائی کیساتھ پڑے ایک چھوٹے سے لکڑی کے ٹیبل پر رکھا تھا جو کہ بالکل محفوظ تھا،
اگر کسی انسان کا کام ہوتا تو اسے یقیناََ میرا handriod موبائل ہی اٹھانا چاہیے تھا خالہ کا چھوٹا سا کی- پیڈ موبائل کسی کو اٹھا کر کیا مل جائے گا؟۔
۔2۔ مزید وہ کہتی ھے کہ’ ایک بار وہ اپنی بھابھی کے ہمراہ کچن کے کچھ کاموں میں مشغول تھی بھابھی جب کسی کام سے کچن سے باہر گئیں تو اسے اچانک یوں محسوس ہوا جیسے اردگرد کوئی ھے ہوا کے جھونکے کی طرح کوئی اُسے اسکے کان کے گرد پھونک مارتا ہوا محسوس ہوا ،عجیب سکتے کیسی حالت طاری ہو گئی تھی اس پرکچھ لمحوں کیلئے تو وہ ڈائنینگ کی کرسی سے ہل بھی نہ پائی، وہ چلانا چاہتی تھی کسی کو بلانا چاہتی تھی مگر آواز کہیں حلق میں ہی اٹک کر رہ گئی تھی ۔
۔3۔ ایک اور دفعہ اس نے بتایا کہ:۔
جب وہ سوتے ہوئے پانی پینے کیلئے اُٹھی تو کہتی ھے کہ کہ یوں لگا چھت پر کوئی کچھ گھسیٹ رہا ھو، جیسے ( بوری بند لاش)۔ مزید غور کرنے کے چند منٹوں بعد کسی نے چھت سے چھلانگ لگائی تھی چونکہ گھر کے ساتھ ایک کرکٹ گراؤنڈ تھا اس لئے چھلانگ لگانے کی صاف آواز آ رہی تھی جب بھی کوئی چیز بلندی سے گرتی ھے تو اسکی آواز ضرور آتی ھے ،وہ کہتی ھے کہ اگر ایسا صرف ایک بار ہوا ہوتا تو شاید میں مان بھی لیتی کہ یہ محض میرا وہم ہی ھے اسکے سوا کچھ نہیں۔
مگر، یکے بعد دیگرے کہیں بار یہی عمل دہرایا گیا تھا۔ اس کیلئے ان حادثات کو بھلانا اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ جو چیز اپنے کانوں سے سنی اور آنکھوں سے دیکھی ہو اُسے وہم کیسے کہا جا سکتا ھے ؟۔
۔4۔ اُس نے ایک بار بتایا کہ‘۔
چونکہ انکا گھر بالکل ویرانے میں تھا اردگرد اُونچے اونچے درختوں کا بسیرا تھا اور دور دور ایک ادھ گھر تھا جسکی وجہ سے باہر سے آنے والی ہلکی سی آواز بھی جان لیوا ثابت ہوتی ۔
ایک دفعہ اسکی امّی کسی کام کے سلسلہ میں کسی دوسرے شہر گئیں ہوئیں تھیں اور واپسی اگلے روز تھی، وہ رات کو اپنے کمرے میں اکیلی تھی، وہ کہتی ھے کہ میں روز ہی دیر سے سوتی ہوں اس رات بھی یہی ہوا رات ٹھیک بارہ بجے ٹی وی بند کرنے کے بعد ٹی-وی لاؤنج سے سیدھا اپنے بیڈ روم میں چلی گئی۔۔۔
جونہی دروازہ لاک کرنے کے بعد لیٹتی ھے تو باہر سے کسی کے عجیب بھاری بھرکم سی اونچے اونچے سانس لینے کی آواز آنے لگی اس نے دروازے کیساتھ کان لگایا تو اس نے محسوس کیا کہ کوئی بالکل دروازے کے باہر ہی ھے اور اسکے قدموں کی آھٹ بھی باآسانی اسکی سماعت سے ٹکرانے لگی ۔
اس نے کہا وہ رات اس کیلئے کسی قیامت سے کم نہ تھی تمام رات اس نے روتے ہوئے بیٹھ کر گزاری تھی، اور صبح کی پہلی کرن اسکی زندگی میں پھر سے اجالا لے کر آئی تھی، ایک نئی زندگی کیطرح ۔