انسانیت، امن اور انصاف کا تقاضا ہے کہ بے گناہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے،
کمالیہ (نیوز آف پاکستان) کاروباری شخصیات محمد احسان پیاء، رانا رضا احمد، پیاء جی موبائل والے اور سماجی، فلاحی، ادبی اور صحافتی شخصیت ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ اس وقت صرف ایک خطہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ مسلسل جنگ، بمباری، تباہی اور بھوک نے لاکھوں بے گناہ شہریوں، خصوصاً معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ ہر گزرتا دن نئی ہلاکتوں، زخمیوں، بے گھری اور انسانی المیوں کی داستان رقم کر رہا ہے۔ غزہ کے تباہ حال علاقوں میں بچے کھنڈرات کے درمیان خوف اور بھوک کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ ننھے جسم، جنہیں ماں کی آغوش میں سکون ملنا چاہیے تھا، آج بمباری کے زخموں اور اذیت ناک یادوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ نہ کھانے کو مناسب غذا ہے، نہ پینے کا صاف پانی، نہ علاج کی سہولت اور نہ ہی محفوظ پناہ گاہ۔ ہر طرف تباہی، چیخ و پکار اور بے بسی کے دل دہلا دینے والے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک کمزور ماں اپنے شہید بچوں کی باقیات ملبے میں تلاش کرتی ہے، جبکہ بے شمار مائیں اپنے بچوں کو گود میں اٹھائے محفوظ مقام کی تلاش میں دربدر ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایسا درد اور بے بسی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ غزہ کی بربریت نے صرف عمارتیں ہی نہیں گرائیں بلکہ بے شمار خاندانوں کی خوشیاں، امیدیں اور مستقبل بھی ملبے تلے دفن کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق جنگ کے باعث ہزاروں بچےّ تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں اور اسکولوں کی بڑی تعداد تباہ یا بند ہو چکی ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر امداد کے منتظر ہیں، جبکہ خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ سانحہ صرف غزہ کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا المیہ ہے۔ تاریخ ہمیشہ یہ سوال پوچھے گی کہ جب معصوم جانیں خطرے میں تھیں، شہر ملبے کا ڈھیر بن رہے تھے اور بچے بھوک و پیاس سے تڑپ رہے تھے تو دنیا کہاں کھڑی تھی۔ انسانیت، امن اور انصاف کا تقاضا ہے کہ بے گناہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے، خونریزی کا خاتمہ ہو اور متاثرہ عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کی جائے، کیونکہ ایسی خاموشی کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔