تازہ ترین
Home / Home / سفید کوٹ میں انسانیت کی عظمت، فرشتہ صفت انسان ڈاکٹر صدیم جاوید ہاشمی صاحب ۔۔۔ تحریر: ملک محمد عثمان

سفید کوٹ میں انسانیت کی عظمت، فرشتہ صفت انسان ڈاکٹر صدیم جاوید ہاشمی صاحب ۔۔۔ تحریر: ملک محمد عثمان

 

 

معاشرے میں ڈاکٹر کو مسیحا کا درجہ اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں امید کی کرن بن کر سامنے آتا ہے۔ جب ہر طرف مایوسی چھا جائے اور لواحقین کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو ہوں، تب ایک مخلص ڈاکٹر اپنی مہارت، تجربے اور انسان دوستی سے زندگی کی شمع دوبارہ روشن کر دیتا ہے۔ ایسے ہی انسان دوست کردار آج بھی ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں موجود ہیں، جو ہر قسم کے حالات میں دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔ چند روز قبل فتح گڑھ کے رہائشی بچے امان ملک کو ایک نہایت خوفناک ٹریفک حادثے کے بعد انتہائی تشویشناک حالت میں میو ہسپتال لاہور لایا گیا۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ بچے کے جسم پر متعدد سنگین زخم آئے، ہڈیاں بری طرح متاثر ہوئیں اور زیادہ خون بہنے کے باعث اس کی حالت نازک ہو گئی۔ ایمرجنسی وارڈ میں موجود ڈاکٹروں نے فوری طور پر بچے کی جان بچانے کے لیے اقدامات شروع کیے، کیونکہ ہر گزرتا لمحہ اس کی زندگی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔ اس نازک صورتحال میں میو ہسپتال لاہور کے اسسٹنٹ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر صدیم جاوید ہاشمی صاحب نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، قائدانہ کردار اور انسانی ہمدردی کا عملی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے علاج کے تمام مراحل کی خود نگرانی کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ بچے کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان کے ساتھ ایمرجنسی کے انچارج اسلم صاحب، ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر عملے نے بھی دن رات ایک کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نہایت احسن انداز میں ادا کیں۔ بروقت طبی امداد، درست فیصلوں، مسلسل نگرانی اور طبی ٹیم کی انتھک محنت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امان ملک کی جان بچ گئی۔ یہ صرف ایک مریض کا کامیاب علاج نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کی ایک ایسی مثال ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ایک بچے کی زندگی محفوظ ہونے کا مطلب صرف ایک فرد کا بچ جانا نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کی خوشیاں، امیدیں اور مستقبل محفوظ ہو جانا ہے۔ امان ملک کے والدین نے ڈاکٹر صدیم جاوید ہاشمی صاحب، اسلم صاحب اور میو ہسپتال لاہور کے تمام طبی عملے کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت توجہ، محنت اور خلوص کی بدولت آج ان کا بیٹا نئی زندگی پا سکا ہے۔انہوں نے طبی ٹیم کے لیے خصوصی دعائیں کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ایسے انسان دوست ڈاکٹروں کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے، کیونکہ یہی لوگ مشکل ترین لمحات میں بے سہارا انسانوں کا سہارا بنتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ طب صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ خدمت، ایثار اور انسانیت کا نام ہے۔ ایک اچھا ڈاکٹر صرف دوائیں نہیں دیتا بلکہ مریض اور اس کے اہلِ خانہ کو حوصلہ، اعتماد اور جینے کی امید بھی دیتا ہے۔ ڈاکٹر صدیم جاوید ہاشمی صاحب نے اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ سفید کوٹ صرف ایک لباس نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری کی علامت ہے، جسے وہ پوری دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔ آج جب سرکاری ہسپتالوں پر مختلف حوالوں سے تنقید کی جاتی ہے، ایسے میں میو ہسپتال لاہور کے اس قابلِ تحسین اقدام نے ثابت کیا ہے کہ ہمارے سرکاری اداروں میں آج بھی ایسے فرض شناس، باصلاحیت اور انسان دوست ڈاکٹر موجود ہیں جو اپنی جانفشانی سے اداروں کا وقار بلند کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی خدمات کو اجاگر کرنا بھی معاشرے کی ذمہ داری ہے تاکہ نیک کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو اور دوسروں کو بھی خدمتِ انسانیت کا جذبہ ملے۔ بلاشبہ ڈاکٹر صدیم جاوید ہاشمی صاحب اور ان کی پوری ٹیم نے صرف ایک بچے کی جان نہیں بچائی بلکہ ایک خاندان کو دوبارہ مسکرانے کا موقع دیا ہے۔ یہی وہ کردار ہیں جو معاشرے میں امید، اعتماد اور انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں۔ ایسے معالج پوری قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ خراجِ تحسین کی مستحق رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صدیم جاوید ہاشمی صاحب، انچارج ایمرجنسی اسلم صاحب اور میو ہسپتال لاہور کے تمام ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کو صحت، عزت، استقامت اور مزید خدمتِ خلق کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔

 

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 ٹیم پہلی بار پاکستان کا دورہ کرے گی، پانچ ٹی20 میچز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) پاکستان ویمنز نیشنل سلیکشن کمیٹی نے جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے