کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) امیرکراچی تحریک لبیک پاکستان علامہ رضی حسینی نقشبندی نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کی صورت میں شیخ الحدیث علامہ حافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ کے شاہین صفت کارکنان پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ بھارتی جارحیت اور دھمکیوں کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے لیے اور سرحدوں پر پاک وطن کی حفاظت کرنے والے سپاہیوں سے اظہار یکجہتی کےلیے تحریک لبیک پاکستان کے زیرِ اہتمام کل بروز اتوار دوپہر ڈھائی بجے بہادرآباد چورنگی تا مزارِ قائد عظیم الشان ’’بھارت مردہ باد ریلی‘‘ نکالی جائے گی۔ امیرکراچی علامہ رضی حسینی نے مزید کہا کہ اسلام صرف امن کا درس نہیں دیتا بلکہ ساتھ میں غیرت و حمیت کا درس بھی دیتا ہے، غیرت مند قومیں حالتِ جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہیں۔ اسلامی سرحدوں پر حملے کی صورت میں جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ بھارتی جارحیت اور دھمکیوں کے خلاف پاکستان میں بسنے والی تمام لسانی اکائیاں سندھی، پنجابی، پشتون، بلوچی، مہاجر، سرائیکی، ہزارے وال سب سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے متحد ہیں، دشمن قوتوں سے مقابلہ قومی اتفاقِ رائے۔ یکجہتی اور بھائی چارے سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ علامہ رضی حسینی نے مزید کہا کہ امن ہماری پہلی ترجیح ہے، کیوں کہ اسلام امن کی جانب ہی بلاتا ہے، لیکن اسلام صرف امن کا درس نہیں دیتا بلکہ جارحیت اور حملے کی صورت میں غیرت، حمیت اور بہادری کا درس بھی دیتا ہے۔ شیخ الحدیث علامہ حافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ نے ہمیشہ اپنے شاہین صفت کارکنان کو محبِ وطنی اور ریاست کے دفاعی اثاثوں سے محبت کا سبق دیا ہے۔ ہم کل بھی پاکستان زندہ باد کہتے تھے، آج بھی پاکستان زندہ باد کہتے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے ہی اس دنیا سے رخصت ہونگے۔ لبیک والوں کے لیے پاکستان زندہ باد اور پاکستان والوں کے لیے لبیک کے نعرے اب لازم و ملزوم ہوچکے ہیں۔ ہم کریک ڈاؤن کے دوران بھی پاکستان زندہ باد اور لبیک کے نعرے لگاتے ہوئے جیلوں میں گئے۔ ہم نے جیل پہنچ کر بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ علامہ رضی حسینی نے مزید کہا کہ حکومت نے ملک دشمن قوتوں اور لبرل لابی کو خوش کرنے کے لیے تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، ہزاروں علماء و مشائخ کو گرفتار کیا، لیکن آج بھی لبیک والے پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جبکہ لبرل لابی ملک دشمن قوتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ محبِ وطن عالمِ دین شیخ الحدیث علامہ حافظ خادم حسین رضوی کو فوری رہا کیا جائے، گزشتہ تین ماہ میں شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی پر لگا ایک الزام بھی درست ثابت نہیں ہوا۔ ممتاز قادری اور مفتی یوسف سلطانی کی حکومتی حراست میں شہادت کے باوجود ہم نے ایک لمحے کے لیے بھی پاکستان کی ریاست کے خلاف بات نہیں کی، جبکہ لبرل لابی ملک کے خلاف بات کرنے اور نعرے لگانے کے بہانے ڈھونڈتی ہے۔ علامہ رضی حسینی نے مزید کہا کہ بھارتی جیل میں پاکستانی قیدی کو پتھر مار مار کر شہید کردیا گیا، حکومت اس افسوس ناک واقعے کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ پاکستانی قیدی کی شہادت کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے، گزشتہ 70 سالوں میں بھارت میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید کیے جاچکے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں مسلمان شہید، لاکھوں زخمی اور لاکھوں بےگھر کیے جاچکے ہیں، بھارت کشمیر میں دہشت گردی کا واویلا کرتا ہے، حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم کا نام ’’انڈین آرمی‘‘ ہے، خطے میں سب سے بڑا دہشت گرد بھارت کا وزیراعظم مودی ہے۔ مودی اور اس کے حواری سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکیاں تو دے سکتے ہیں لیکن میدانِ جنگ میں فرزندانِ توحید کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
![]()