تازہ ترین
Home / آرٹیکل / مرگی کے علاج میں حائل رکاوٹیں! تحریر: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

مرگی کے علاج میں حائل رکاوٹیں! تحریر: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

 

!مرگی کے علاج میں حائل رکاوٹیں

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

(صدر : ایپی لیپسی فاﺅنڈیشن پاکستان)

drfowzia1@gmail.com

 

مرگی کے مرض کا عالمی دن ہر سال فروری کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد مرگی کے مرض کے بارے میں جو خدشات، غلط فہمیاں اورتوہمات پائے جاتے ہیں جیسا کہ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ آسیب یا جادو کا اثر ہے ان سارے مفروضوں سے دنیا کو آگاہی ملے کہ یہ ایک ذہنی اور قابل علاج مرض ہے۔ اعصابی عوارض (نیرولوجیکل ڈس آرڈرس) کی شرح ٹی بی، ایڈز، ہاضمہ، سرطان، دل اور دمہ کی بیماریوں سے زیادہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت مرگی کے مریضوں کی تعداد 65 ملین سے زائد ہے جن میں 2.4 ملین مریض پاکستان میں ہیں یعنی ہر ایک ہزار افراد میں سے ایک فرد مرگی کا مریض ہے۔ اس بیماری کی شرح بچوں میں زیادہ ہے یعنی ہر ایک ہزار میں 14.6 بچے مرگی سے متاثر ہیں۔ہر سال مرگی کے مرض سے پچاس ہزار اموات واقع ہوجاتی ہیں- اس مرض سے 30 سال سے کم عمر افراد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔دیہاتوں میں مرگی کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ وہاں اسے بیماری کی بجائے آسیب یا جادو ٹونہ تصور کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ کے نوجوانوں کو 6 ارب مزید دینے جارہے ہیں نوجوانوں کو بااختیار بنا رہے ہیں۔ عثمان ڈار
https://www.nopnewstv.com/empowering-the-youth ‎

مرگی کے علاج کیلئے 25 سے زائد اقسام کی ادویات موجود ہیں جس پر مرض کی نوعیت کے مطابق 50 روپے سے 10 ہزار روپے ماہانہ خرچ آ جاتا ہے۔مرگی کا علاج سرجری کے ذریعے بھی ممکن ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مرگی کے مریضوں کیلئے ایمرجنسی کی سہولیات موجود نہیں ہے۔

اس بیماری کے بارے میں ہمارے یہاں چند افسوسناک مفروضے گھڑ لئے گئے ہیں۔ مرگی کو ایک بیماری کی بجائے جنات یا آسیب، نفسیاتی یا جنون اور ناقابل علاج تصور کیا جاتا ہے۔یہ سمجھا جاتا ہے کہ مرگی کا مریض تعلیم، ملازمت یا شادی شدہ زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتا ہے اسلئے اس کا علاج کرنے کی بجائے اسے شرمناک سمجھ کر اسے چھپایا جاتا ہے۔

مرگی کی بیماری 70 فیصد افراد میں نامعلوم وجوہات، 30 فیصد میں دماغی چوٹ، انفیکشن، فالج، ٹیومر وغیرہ سے جبکہ 5 فیصد میں موروثی ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں 70 فیصد مریض مرگی کے علاج سے محروم ہیں۔ صرف 35 فیصد شہری اور 8 فیصد دیہی علاقوں میں مریض معالج سے علاج کیلئے رجوع کرتے ہیں۔50 فیصد مریضوں کا صحیح طریقے سے علاج ہی نہیں کیا جاتا ہے جبکہ یہ قابل علاج مرض ہے اور 70 فیصد مرگی کو ادویات کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

مرگی کے بارے میں پائی جا نے والی غلط فہمیاں اس کے علاج میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس مرض کے بارے میں معالجین بھی مکمل آگاہی سے محروم ہیں۔ غربت کی وجہ سے بالخصوص دیہات میں مریض علاج کرانے اور ادویات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔ ہمارے ملک میں 10 ہزار مریضوں کیلئے صرف ایک نیورولوجسٹ معالج دستیاب ہے۔

مرگی کا مریض ایک صحتمند شخص کی طرح تعلیم کے حصول، ملازمت کرنا، شادی کرنا، کھیلوں میں حصہ لینا، سوشل ورک، سیاست وغیرہ میں حصہ لینے جیسا ہر کام کر سکتا ہے۔

مرگی کے مرض میں خواتین کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مرض کو ایک بدنما داغ سمجھ کر 90 فیصد مریضوں کا علاج کرانے کی بجائے بیماری کو چھپایا جاتا ہے اس خوف سے کہ بچی کی شادی نہیں ہو سکے گی۔ لوگوں میں ایسی خواتین کے حاملہ ہونے، بچوں کو دودھ پلانے سے بچوں کے متاثر ہونے کا خوف پایا جاتا ہے۔

پاکستان میں بچوں کی مرگی کے ماہر معالجین کی تعداد 10 سے بھی کم ہے۔ اس مرض کی آگاہی کیلئے ٹیلی ویڑن، اخبارات اور عوامی مقامات پر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ ورلڈ پرپل ڈے اور ورلڈ ایپی لیپسی ڈے کے موقعوں پر الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر خصوصی پروگرامات کے انعقاد اور ضمیموں کی اشاعت کے ذریعے آگاہی فراہم کی جا سکتی ہے۔

میں، پاکستان میں مرگی کے مرض پر قابو پانے کیلئے معالجین کی تربیت کیلئے ایپیلیسی منی فیلوشپ پروگرام پر عمل پیرا ہوں جس کے تحت 20 شہروں میں 1000 معالجین کی تربیت کا ہدف حاصل کی کوششیں جاری ہیں۔

مرگی کی صورتحال کو سنگین بننے سے روکنے کیلئے حکومت اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ سب سے پہلے میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ضلعی سطح پر سول اور دیگر سرکاری اسپتالوں میں مرگی کے مریضوں کے لئے ایمرجنسی وارڈ قائم کرے، ریسرچ و تربیتی پروگرامات شروع کرے اور مرگی کی ادویات کو سستی کرنے اور ان کی عدم دستیابی کے خاتمہ کیلئے سنجیدہ نوعیت کے اقدامات کرے۔

 

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

صدارتی نظام کا ڈھنڈورا تحریر: پروفیسر رفعت مظہر

  صدارتی نظام کا ڈھنڈورا تحریر: پروفیسر رفعت مظہر قلم درازیاں آجکل پاکستان میں صدارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے