تازہ ترین
Home / آرٹیکل / میری دوست، میرا فخر!۔۔۔ تحریر : عاکفہ وحید (سرگودھا)

میری دوست، میرا فخر!۔۔۔ تحریر : عاکفہ وحید (سرگودھا)

انسانی رشتوں کی کئی اقسام ہوتی ہے انہیں اقسام میں سے ایک خوبصورت اور نفیس رشتہ "دوستی” کا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ رشتہ خون کا نہیں ہوتا مگر بعض دفعہ خونی رشتوں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ یہ رشتہ، یہ تعلق احساس کا ہوتا ہے، پیار کا ہوتا ہے اور خلوص کا ہوتا ہے۔ یہ رشتہ انسان کے اختیار میں ہوتا ہے یعنی اسے بنانے کے لئے فیصلہ انسان کا اپنا ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک فیصلہ میں نے چند سال پہلے کیا اور الحمداللہ آج مجھے فخر ہے اپنے اس فیصلے پر۔۔۔

یہ سکول کے دنوں کی بات ہے کہ جب آٹھویں جماعت کا سال شروع ہوا۔ پہلے ہی ہفتے ہماری جماعت میں ایک نئی لڑکی آئی۔ اس کا نام "سارا جاوید” تھا۔ پہلی نظر میں ہی وہ لڑکی میرے دل کو بھا گئی۔ میں ہمیشہ دوست بنانے سے پہلے بہت سوچتی ہوں کیوں کہ طالب علموں کا بیش تر وقت اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دوستوں کے ساتھ ہی گزرتا ہے۔ اس لیے مجھے ہمیشہ اچھی صحبت کی تلاش رہتی ہے۔ سارا سے دوستی ہو جانا شاید کہیں اوپر آسمانوں پر ہی تہہ ہو گیا تھا۔ ہم دونوں سکول میں ایک ساتھ بیٹھنے لگے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ میرے دل میں گھر کر گئی ۔میرے گھر میں ہر وقت میری زبان پر سارا کا نام رہنے لگا اور اس طرح میرے گھر والے بھی اسے جاننے لگے۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس کی خوبیاں بیان کروں۔ میں اگر اس کے لیے لکھنے بیٹھوں تو کتاب لکھ ڈالوں۔ میں شکر گزار ہوں اپنے پروردگار کی کہ اس نے مجھے ایسی پیاری دوست سے نوازا۔ آج جب سارا کے بارے میں لکھنے کے لیے میں نے قلم اٹھایا تو ندیم صاحب کا یہ شعر میری سماعتوں میں گنجا۔۔۔
پھر سے لفظوں کی چھڑ گئی ہے جنگ مجھ سے
کہ تجھ کو بیان کرنے کون آگے آئے
سارا کا تعلق ایک معزز گھرانے سے ہے۔ وہ اپنے گھر میں سب سے چھوٹی اور لاڈلی ہے۔ وہ خوبصورت دل کی مالک ہے۔ وہ بزمِ یاراں کی رونق ہوتی ہے۔ وہ ایک پر اعتماد لڑکی ہے جو ہر طرف خوشیاں بانٹتی ہے۔ وہ چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا جانتی ہے۔ وہ ایک باحیا اور اعلی کردار کی مالک ہے۔ وہ ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہتی ہے۔ میں نے اسے زندگی کا ہر لمحہ بھر پور طریقے سے گزارتے دیکھا ہے۔ میرا اور اس کا تعلق بہت گہرا ہے۔ وہ میرے خوشگوار لمحوں کی جان ادا ہے۔ وہ میری ہر کامیابی پر مجھے سراہتی ہے۔ وہ اگر ایک لفظ ماشاءاللہ بھی کہتی ہے تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ اس کا ہر انداز مجھے بہت عزیز ہے۔ اس نے ایک دفعہ مجھے کہا تھا۔۔۔ "عاکفہ تھوڑی تیز ( بہادر) ہو جاؤ ورنہ لوگ تمہیں بیچ کر کھا جائیں گے۔” اس کے یہ الفاظ میرے دل کو لگے تب سے میں نے اپنے آپ کو بہادر بنایا، لوگوں سے ڈرنا چھوڑ دیا اور اپنے اندر کے خوف کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی۔
سارا نے مجھے سکھایا کہ حالات کیسے بھی ہوں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اس نے مجھے سکھایا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ صرف اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔ اس نے مجھے زندگی کو بھرپور طریقے سے جینا سکھایا۔ اس نے مجھے سکھایا کہ خود کو کبھی بھی کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہی باتوں کی وجہ سے وہ مجھے عزیز سے عزیز تر ہوگی۔ مصروفیات کی وجہ سے میں اور سارا بہت کم بات کرتے ہیں مگر وہ مجھ سے دور رہ کر بھی میرے قیاس میں رہتی ہے۔ بہت عرصہ بعد پچھلے ماہ جب وہ مجھے ملی تو وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسے سکول میں ہوا کرتی تھی، اور ہماری دوستی بھی ویسی ہی تھی بلکہ وقتی مصروفیات نے ہماری دوستی کو مزید بڑھا دیا۔ میری بہت سی اچھی دوستیں ہیں اور میرے دل میں ہر ایک کا مقام الگ ہے، مگر جو جگہ سارا کی ہے وہ کسی اور کی نہیں ہے۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتی کیوں کہ سارا میرا مان ہے، میرا فخر ہے۔
دم نہیں کسی میں کہ مٹا سکے ہماری دوستی کو
زنگ تلواروں کو لگتا ہے جگری یاروں کو نہیں
اللہ رب العزت سارا جاوید کے نصیب اچھے کرے۔ اسے ڈھیروں خوشیاں عطا فرمائے، کامیابیوں سے نوازے اور میری اور سارا کی دوستی کو تاحیات قائم رکھے۔ آمین!
نظر نہ لگے اس رشتے کو زمانے کی
ہماری بھی تمنا ہے موت تک دوستی نبھانے کی

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

After contacting Malaysia’s Foreign Minister, Mohammad Hassan, Rana Basharat Ali Khan halted the deportation of a worker from Malaysia

Title: International Human Rights Movement’s Action: Prevention of Deportation of Worker from Malaysia The International …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے