تازہ ترین
Home / آرٹیکل / ہم عوام ۔۔۔ ادارے اور قانون ۔۔۔ تحریر : محمد سلیمان بٹ

ہم عوام ۔۔۔ ادارے اور قانون ۔۔۔ تحریر : محمد سلیمان بٹ


کل اچانک شہباز چوہدری نمائندہ پبلک نیوز گجرات سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا کہ تحصیل گجرات کا نقشہ پر سرکاری مہر لگوانا تھی انھوں نے کسی سلسلہ میں پمرا میں جمع کروانا تھا پہلے ہم ضلع کونسل گئے دو تین سرکاری افسران سے ملاقات ہوئی۔وہ بھی اس طرح ایک نے دوسرے دوسرے نے تیسرے کے پاس بھیجا اور ان کو معلوم ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ کسی کے انڈر ہے کون ذمہ دار ہے کون اس کی تصدیق کرے گا بہرحال انھوں نے کہا کہ یہ ریوینو کے متعلق ہے ہم تحصیل آفس چلے گئے اے سی گجرات کے ریڈر سے ملاقات ہوئی اسے بھی پتہ نہ چل سکا اس نے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے سے بات کی اسے بھی سمجھ نہ آئی اس نے بھی وہی آسان طریقہ سمجھتے ہوئے جس طرح ہمارے عزیز بھٹی شہید ہسپتال کے بارے جو مشہور محاورہ ہے اسے لاہور لے جاو۔ہمیں سامنے ایک آفس میں بھج دیا وہاں پر جب گے سلام کیا کسی نے جواب دینے کی زحمت نہ کی بلکہ دوصاحب تو موبائل پر مصروف تھے ایک کو الگ اپنی طرف متوجہ کیا اس نے کہا ڈی سی صاحب کریں گے اس طرح کفرم نہ ہو سکا کہ تحصیل گجرات کانقشہ کون تصدیق کرے گا۔ہمارے افسران کو معلوم ہی نہیں کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں یا کہ یہ کام کس کی ذہ داری ہے اب دسرا واقعہ دیکھیں کچھ دوستوں کو ڈاکٹر صاحبان ہسپتال کے وزٹ کرنے کی دعوت دیتے ہیں ڈاکٹر زاہد بھٹی انچارج برن یونٹ سے ملاقات ہوتی ہے وہ چائے وغیرہ جو کسی کسی کے نصیب تھا۔گپ شپ ہوتی ہے وہ ہمیں تمام وارڈز کا وزٹ کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فلاں مریض اتنے دونوں سے زیر علاج ہے اس کی حالت بہت خراب تھی اب تین چار آپریشن کرنے کے بعد بہتر ہے ان کی تصویریں لی جاتی ہیں وہ خوشی سے ساری سٹاف کو بلاتے ہیں تمام میڈیا پرسن سے گروپ فوٹو بنواتے ہیں اس کے بعد ایم ایس عابد غوری کے ملنے کے لیے جاتے ہیں وہ میٹینگ میں مصروف ہم لوگ ڈی ایم ایس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں گپ شپ ہوتی ہے فوٹو سیشن ہوتا تو ایم ایس کے پاس جاتے ہیں جناب کہتے ہیں کہ مجھے میڈیا پر بات کرنے کی اجازت نہیں حالانکہ اس سے قبل وہ ایک ویب چینل کو انٹرویو دے چکے تھے چند منٹ پہلے ہی میڈیا کے نمائندے ہسپتال میں آئے ہوئے لوگوں کے مسائل پوچھتے ہیں دوردراز سے آئے ہوئے دکھوں کے مارے لوگ اپنی اپنی سٹوری سناتے ہیں دو دو تین تین دن سے آ رہے ہیں کبھی ڈاکٹر نہیں تو کبھی رش ختم ہونے کی وجہ سے ٹائم نہیں ملتا وغیرہ وغیرہ۔اسی دوران چند نجی سیکورٹی کی وردی میں ملبوث 20/25افراد آ ئے اور موبائل کیمرہ طلحہٰ سے چھین لیا جس پر عوام نے سیکورٹی والوں کو کہا کہ ان کا کام ہے کرنے دو جس پر انھوں نے کہا کہ ایم ایس نے کہا ہے کہ فوٹو ویڈیو وغیرہ بنانا منع ہے بات یہ کہ اگر فوٹو ویڈیو بنانا غیر قانونی ہے تو پہلے کیوں بنوائی گی لیکن اب ان کے خلاف تھا تو ناجائز پہلے ان کی خوشآمدی تھی تو سب ٹھیک تھا ہراساں کیا رکھا گیا جس پر درخواست لکھی دینا مقصود تھی لیکن کمپلنٹ آفس ڈی پی او والوں نے کہا کہ ہم وصول نہیں کر سکتے لمبا قصہ اگلا قصہ کسی علاقہ میں قتل ہو جاتا ہے دو تھانوں میں ٹھن جاتی ہے کہ ایک کہتا کہ ہماری حدود میں نہیں دوسرا کہتا میری حدود میں نہیں لمبا قصہ۔ایک بندہ قتل کے مقدمہ میں پکڑا جاتا ہے کیس چلتا لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں اس کی اولاد بچے بیوی سارا نظام زندگی خراب ہو جاتا ہے اور حتکہ طلاق تک ہو جاتی ہے ہستا بستاگھر اجڑجاتا ہے سارے خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے آخر میں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اس بندے کو دس بیس سال کیس چلنے کے بعد بے گناہ قرار دے کر بری کیا جاتا ہے بلکہ ایک لفظ باعزت بری کیا جاتا ہے لکھا جاتا ہے اس باعزت کی اس سے قدر پوچھو جس کا ہستابستا گھر اجڑ جائے رات کی نیندیں خراب ہو جائیں بچوں کا مستقبل ختم ہو گیا ہو۔۔۔۔۔بیوی نے انتظار کرتے کرتے طلاق لے لی ہو اب اس میں کون ذمہ دار ہوگا قیامت کے روز اس کا کس کو حساب دینا پڑے گا آج تک ہم اپنا نظام ہی نہ بنا سکے حق والے کو حق نہ دلا سکے اداروں کو درست سمت نہ دے سکے اس کا ذمہ دار کون ہے ہم عوام کیا اسی طرح پستے رہیں گے کب تک یہی ہوتا رہے گا یہ ایسا سوال جس کا کوئی جواب نہیں اداروں میں بیٹھے ایماندار آفیسر خود بھی سوال اُٹھاتے نظر آتے ہیں۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

وہ رمضان 6 جون 2017ء کا ایک ابر آلود دن تھا مجھے لمبے عرصے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے