Home / Home / کرسمس کی حقیقت ۔۔۔ تحریر : حمیرا علیم

کرسمس کی حقیقت ۔۔۔ تحریر : حمیرا علیم


اگر کوئی مسلمان یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے عیسائی بھائیوں کی اور عیسی علیہ السلام کی تکریم میں کرسمس مناتا ہے۔تو درحقیقت وہ یہ سب کر رہا ہوتا ہے۔
1: توہین الہی۔
قرآن پاک کی سورہ مریم آآیت 91-92 اور 88-89 میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔
” وہ کہتے ہیں اللہ کی اولاد ہے۔البتہ تم ایک بہت بڑی بات کہتے ہو۔”
” انہوں نے اللہ کے لیے اولاد کا دعوی کیا۔اور رحمن کے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔”

2: قرآن کے برعکس بات کرتا ہے۔
” اور کہہ دیجیے : ساری تعریف اللہ ہی کے لیےہے۔جس نے اپنے لیے کوئی اولاد نہیں بنائی ۔اور نہ ہی بادشاہی میں اس کے لیے کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی شریک ہے۔”
بنی اسرائیل 111

” کہہ دیجیے : اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔”
الاخلاص 1-3

3: نا فرمانی رسول کا مرتکب ہے۔
” نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ ان دو دنوں میں تہوار منا رہے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا” یہ کون سے دو دن ہیں؟ "
لوگوں نے کہا” یہ وہ دن ہیں جو ہم دور جاہلیت میں مناتے تھے۔”
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ” اللہ تعالٰی نے ان دو دنوں کو دو بہتر دنوں سے بدل دیا۔عید الفطر اور عید الاضحٰی ۔”
ابو داؤد

4: توہین عیسی علیہ السلام کا مرتکب ہے۔
سورہ المائدہ 116
” اور جب اللہ کہے گا: اے عیسی ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لو؟ تو وہ کہیں گے: تو پاک ہے میں کیسے وہ بات کہہ سکتا ہوں جس کا مجھے حق نہیں ۔اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو تو اس سے واقف ہوتا۔تو اسے بھی جانتا ہے جو کچھ میرے دل میں ہے۔ "

5: تمام مخلوق کو حقیر سمجھتا ہے ۔
سورہ مریم 90-91
"” قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں ۔اس بات پر کہ انہوں نے اللہ کے لیے اولاد کا دعوی کیا ہے ۔”

6: امت مسلمہ اور مومنین سے دھوکہ کرتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جو شخص کسی اور امت کی پیروی (نقل) کرتا ہے ۔وہ انہی میں سے ہے۔”
ابو داؤد

7: عیسائیوں کو جہنم کی آگ کی طرف لیجاتا ہے۔

” اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔اور وہ آخرت میں خسارا پانے والوں میں سے ہو گا۔

8: یہ ایمان رکھتا ہے کہ عیسی علیہ السلام دسمبر میں پیدا ہوئے۔اور ایک چرواہے کی اولاد ہیں ۔نعوذبااللہ
سورہ مریم 18-26

” فرشتے نے کہا: یقینا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں ۔تاکہ تجھے ایک بہت پاکیزہ لڑکا عطا کرے۔
اس نے کہا : میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا ۔جبکہ مجھے کسی انسان نے نہیں چھوااور نہ ہی میں بدکار ہوں ۔
اس نے کہا: ایسا ہی ہو گا۔یہ تیرے رب کے لیے بہت ہی آسان ہے۔یہ اس لیے تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں اور یہ طے شدہ امر ہے۔
بالآخر وہ اس کے ساتھ حاملہ ہو گئی تو اس کو (حمل) لے کر دور کی ایک جگہ میں الگ جا بیٹھی۔پھر درد زہ اسے کھجور کے ایک تنے کی طرف لے آیا۔وہ بولی: کاش ! میں اس سے پہلے مر جاتی اور لوگ مجھے بھول جاتے۔پھر اس نے (فرشتے) اس کے نیچے (علاقے) سے اسے آواز دی۔غم نہ کھا، تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔اور تو کھجور کا تنا اپنی طرف ہلا۔وہ تجھ پر تازہ پکی کھجوریں گرائے گا۔۔چنانچہ تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔”

آل عمران 59

” بیشک عیسی علیہ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا ۔پھر اس سے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا ۔”

9: یہ ایمان رکھتا ہے کہ عیسی علیہ السلام نعوذ باللہ فوت ہو گئے ہیں ۔

سورہ النسآء157-158
” اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسی ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا۔حالانکہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا۔بلکہ انہیں شبہ میں ڈال دیا گیا۔اور بیشک جنہوں نے عیسی کے بارے میں اختلاف کیا وہ ضرور ان کے متعلق شک میں ہیں ۔
” بلکہ اللہ نے انہیں (عیسی علیہ السلام ) اپنی طرف اٹھا لیا ۔اور اللہ بڑا زبردست حکمت والا ہے۔”

10: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وصیت کو جھٹلایا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔” یہود و نصارٰی پر اللہ کی لعنت ۔انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔تم لوگ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے۔”
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا
” تم اپنے سے پہلی امتوں کی قدم بہ قدم پیروی کرو گے۔حتی کہ اگر وہ چھپکلی کے بل میں گھسیں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے۔” صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا۔”یا رسول اللہ کیا آپ کی مراد یہود و نصارٰی سے ہے؟”
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا” تو اور کون؟”
بخاری 7320
ہم مسلمان اپنی عیدین پر تو بور ہوتے ہیں مگر کرسمس، دیوالی، ایسٹر، ہالوین اور دیگر مذاہب کے تہوار پورے مذہبی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔اور جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ کسی کی خوشی میں خوش ہونے میں کیا گناہ ہے۔جو لوگ مندرجہ بالا جواز پیش کریں انہیں شدت پسند اور مذہبی جنونی کہا جاتا ہے۔
اگر ایسے لبرلز کو قرآن و حدیث شدت پسند لگتے ہیں تو انہیں تجدید ایمان کی ضرورت ہے۔خدارا اپنے مذہب کو پڑھیے سمجھیے اور اس پر عمل کی کوشش کیجئے پھر کسی اور مذہب کے بارے میں جانیے۔ سنن درامی کی حدیث 436 ہے
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لے کر حاضر ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول یہ تورات کا ایک نسخہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے سیدنا عمر نے اسے پڑھنا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہونے لگا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:” تمہیں عورتیں روئیں کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ نہیں رہے؟ "
عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو عرض کی:” میں اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ہم اللہ کے پروردگار ہونے اسلام کے دین حق ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمدکی جان ہے اب اگر موسی تمہارے سامنے آجائیں اور تم ان کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو تو تم سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے اور اگر آج موسی زندہ ہوتےاور میری نبوت کا زمانہ پالیتے تو وہ بھی میری پیروی کرتے۔”
علامہ البانی نے ارواء الغلیل ج6 ص34 میں اسکی مفصل تخریج کی ہے۔
اگر عمر رضی اللہ عنہ جیسے جید صحابی کو ایسا کچھ کرنے کی اجازت نہیں تھی تو ہم کیسے ایسا عمل کر سکتے ہیں۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

پاکپتن پٹرولنگ پوسٹ پل جالب کی بڑی کاروائی ، چوری شدہ دو عدد بھینسیں اور ڈالہ برآمد کرکے مالکان کے حوالے

پاکپتن ( مہر محمد نوازکاٹھیا سے) پاکپتن پٹرولنگ پوسٹ پل جالب کی بڑی کاروائی علاقہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے