کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پچھلی حکومتیں کھلم کھلا کرپشن کرتی تھیں اور موجودہ حکومت میں بھی مینجڈ کرپشن اور میرٹ کی پامالی عروج پر ہے۔ جب عوام کی طرف سے رد عمل کا اظہار ہوتا ہے تو خان صاحب محض تحقیقات کا حکم جاری کر دیتے ہیں لیکن زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی ہے۔ عمران خان بھولے بادشاہ ہیں یا پھر جان بوجھ کر بھولے بن رہے ہیں؟ ان کی آستین میں بھی کرپشن کا ناگ پل رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے ووٹرز اور عوام کی بڑی تعداد مایوسی کاشکار ہو چکی ہے۔ موجودہ حکومت میں میرٹ کی پاسداری کے دعوؤں کے برعکس سوئی سدرن گیس میں چیف ایگزیکٹو کی تعیناتی کے لیے اخبار میں اشتہار ہی نہیں دیا گیا ہے بلکہ ایک ویب سائٹ پر یہ ملازمت پوسٹ کی گئی ہے تاکہ صرف من پسند افراد اس پر درخواست بھیج سکیں۔ پی ایس او جیسے اہم اور بژے ادارے میں ایک ناتجربہ کار آدمی کو چور دروازے سے چیف ایگزیکٹو بنا دیا گیا ہے جس نے چیف ایگزیکٹو کی پوزیشن پر کبھی کام ہی نہیں کیا۔ پی ایس او نے کروڑوں روپے ایگزیکٹو سرچ میں خرچ کئے لیکن آخر میں مسلم لیگ (ن) کے خاص و پسندیدہ آدمی طارق کرمانی کے مرضی کے آدمی کو چیف ایگزیکٹو کی کرسی پر بٹھا دیا۔ اس وقت آئل سیکٹر میں مسلم لیگ (ن)کی مافیا کا راج ہے۔ پی آئی اے اور پی ایس او میں چور دروازے سے چیف ایگزیکٹو لانے کے بعد اب سوئی سدرن گیس میں بھی یہی کھیل رچانے کی تیاری کی جا چکی ہے۔ پی آئی اے میں لگائے جانے والے سربراہ کو کمرشل ادارہ چلانے کا کوئی تجربہ حاصل ہی نہیں ہے۔ اقرباء پروری اور نا اہلی کو پروان چڑھاتے رہے تو پی ایس او اور سوئی سدرن گیس کا حال بھی بہت جلد پی آئی اے اور اسٹیل مل جیسا ہو جائے گا۔ اہم مناصب پر چور دروازے سے داخل ہونے والے، کمپنی کے بجائے اُن کیلئے کام کرتے ہیں جنہوں نے ان کے لئے چور دروازہ کھولا ہوتا ہے۔ سرکاری اداروں کے ایگزیکٹو سرچ کا کام پرائس واٹر کوپر یا کے پی ایم جی کو دیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ کرپشن کے خاتمہ کا صرف ایک عوامی پیمانہ قابل قبول ہے اور وہ ہے عوام کو ریلیف مل رہا ہے یا نہیں؟ باقی وزراء کے بیانات کی حیثیت ردی کاغذ سے زیادہ نہیں ہے۔ کمیشن اور تحقیقاتی رپورٹس پر کاروائیوں کے بجائے انہیں سرخ فیتے کی نظر کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں اہم ترین قومی اداروں کی صورت حال اور زیادہ خراب ہو چکی ہے۔ بہت سے اداروں میں مستقل طور پر چیف ایگزیکٹو سرے سے موجود ہی نہیں ہیں بلکہ ایکٹنگ چیف سے کام چلایا جا رہا ہے اور جہاں چیف ایگزیکٹو تعینات کیے گئے ہیں "وہاں اندھا بانٹے ریوڑیاں، دے اپنوں اپنوں کو” کا معاملہ بن چکا ہے۔ الطاف شکور نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنی انتخابی مہم میں عوام سے جو وعدے کئے تھے اور اپنے منشور میں جو دعوے کئے تھے انہیں یکسر بھلا دیا ہے۔ عام آدمی کی زندگی مزید دشوار اور اجیرن بن گئی ہے۔ ملک کی زراعت، معیشت اور معاشرت حکومتی ٹیم کی ناتجربہ کارانیہ پالیسیوں کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے۔ کرپشن کرنے والوں سے ایک ایک پائی وصول کرنے والوں کے دعوے اقتدار کی راہداریوں میں بھلا دیئے گئے ہیں۔ میرٹ کو نظر انداز کر کے اس ملک کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ذخیرہ اندوز اور منافع خور مافیاؤں نے اپنے اپنے بندے آئل اینڈ گیس انڈسٹری میں تعینات کرکے یہاں سے اپنے مفادات کو تحفظ دینے کا طویل المدتی پروگرام بنا لیا ہے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: جے یو آئی سندھ کے تحت آل پارٹیز کانفرنس 9 جولائی کو کراچی میں منعقد ہوگی، اے پی سی کی صدارت مولانا فضل الرحمن کریں گے۔ مولانا راشد سومرو
https://www.nopnewstv.com/the-all-parties-conference/