تازہ ترین
Home / Home / میں اور میرا رب ۔۔ اللہ تعالیٰ کے نام ایک خط … تحریر : چندا آمنہّ (قصور)

میں اور میرا رب ۔۔ اللہ تعالیٰ کے نام ایک خط … تحریر : چندا آمنہّ (قصور)

ہمیشہ یہ سوچنا کہ میرا رب کہاں ہے؟ مجھے نظر کیوں نہیں آتا؟ میری نظروں سے اوجھل کیوں ہے؟ لیکن میں کتنی غلط تھی کہ جس ذات کو میں تلاش کر رہی تھی وہ ذات تو کائنات کے ذرے ذرے میں عیاں ہے۔ ہر چیز میں اس کی قدرت کا عکس نظر آتا ہے۔ ہر چیز میں اس کا نشان ہے۔ وہ ذات میرے اللہ کی ہے۔
"دنیا میں آکر اِدھر اُدھر دیکھا
تو ہی تو نظر آیا جدھر جدھر دیکھا”
زندگی میں جب جب خود کو تنہا محسوس کیا وہی تو ایک واحد ذات ہے جو مجھے ہر پل میرے ساتھ محسوس ہوئی ۔وہ ذات میرے اللہ کی ہےجو مجھ سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے۔
” بلاوجہ مسکرایا کرو کیونکہ اس کائنات کا رب تم سے محبت کرتا ہے کیا یہ بات تمہارے مسکرانے کے لیے کافی نہیں ہے. "
میں اس کی رحمت سے نا امید نہیں ہوں۔ کیونکہ میں جانتی ہوں میرا رب کُن فیکون کے جلوے دِکھاتا ہے اس پر کامل یقین کرنے والوں کے لیے معجزے کرتا ہے۔ اپنے بندوں پر رحمتوں کی بارش کر کے انہیں اپنے قریب کر لیتا ہے۔ میری دوستی میرے رب سے ہو چکی ہے میں جس کی متلاشی تھی وہ رب تو مجھ میں بستا ہے میری ہر سانس اُس کی مو جو دگی کا دم بھرتی ہے۔ وہ میری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
دنیا کے بڑے سے بڑے انسان سے ملنے کے لیے وقت لینا پڑتا ہے۔ پہلے سے ملاقات کے اوقات مقرر کرنے پڑتے ہیں مگر وہ جو ساری دنیا کا رب ہے وہ مجھے پانچ مرتبہ ملنے کا موقع نمار کے ذریعے فراہم کرتا ہے۔ ہر سجدہ مجھے میرے رب کے اور قریب کر دیتا ہے۔ وہ رب مجھ سے قرآن کے ذریعے ہم کلام ہوتاہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
"اے بندے جب تو چاہتا ہےکہ تو مجھ سے ہم کلام ہو توتب نماز پڑھا کرواور جب تو چاہتا ہے تیرا رب تجھ سے ہم کلام ہو تو تب تم قرآن پڑھا کرو”
یہ وہ ذات ہے جو مجھ سے کبھی شکوہ نہیں کرتی مجھے کسی پیمانے میں نہیں تولتی۔مجھے بخشنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ میری ندامت کا ایک آنسو اس کو راضی کرنے کے لیے کافی ہے۔ جس سے میں اپنی ساری مشکلات اپنے گناہوں کا اعتراف کر سکتی ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں یہ وہ ذات ہے جو کبھی طعنہ نہیں دیتی۔ جِسے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جو میری خاموشیوں میں چُپھے الفاظ کو با خوبی جانتا ہےاور ان الفاظ میں چُھپے درد کی گہرائی کو سے واقف ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” جب تھک جاؤ تو اللہ کے سامنے جھک جایا کرو کیونکہ لوگ تھو ڑی سی غلطی پر چھوڑ جاتے ہیں لیکن اللہ تھوڑی سی عبادت میں تھام لیتاہے”
اس رب کی رحمت پُکارتی ہے اس رب کی محبت تہجد تک لے جاتی ہے۔ وہ سکون جو میں دنیا کی رنگینیوں میں ڈھونڈتی تھی وہ اس رب کی قربت اور سجدوں میں ملا ہے۔ مجھے اپنے رب سے کوئی شکوہ نہیں ہے کیونکہ میرا کامل ایمان ہے وہ ہر پل میرے ساتھ ہے اور میں جانتی ہوں کہ صبر کرنے والوں کے مقدمے وہ خود لڑتا ہے۔ اے میرے رب میں نے اپنی زندگی کے تمام فیصلے تیرے سپرد کر دیئے ہیں۔ تو میرا مالک، رازق اور خالق ہے۔ میں تیری رضا کے لیے ہر اُس انسان کو معاف کر دینا چاہتی ہوں جس نے مجھے تکلیف دی۔ اے اللہ تو مجھ سے راضی ہو جا مجھے معاف فرما۔ میری زندگی میں حقیقی سکون عطا فرما دے وہ سکون جو مجھے تیرے سجدوں میں ملتا ہے۔ مجھے اپنی سچی اور حقیقی محبت نصیب فرما اور مجھے اپنے اور قریب کر لے۔ جو چیز میرے حق میں بہتر ہے مجھے وہ عطا فرما جو چیز میرے حق میں بہتر نہیں اس کو خواہش میرے دل سے ختم کر دے۔
"اللہ جو کرتا ہے اچھے کے لیے کرتا ہے تم نہیں جانتے مگر وہ خوب جانتا ہے”
اے میرے اللہ میرے دل کی ایک معصوم سی خواہش ہے اُسے میرے حق میں قبول فرما کر میرے لیے معجزہ کر دے وہ معجزہ جسکی میں منتظر ہوں۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز سید ذوالفقار علی شاہ سے بین الاقوامی شہرت یافتہ صوفی گلوکارہ عابدہ پروین کی ملاقات، سندھ انسٹیٹیوٹ آف میوزک اینڈ پرفارمنس آرٹ جامشورو کے دورے کی دعوت

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز سید ذوالفقار علی شاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے