Home / آرٹیکل / لوگوں میں بڑھتا تکبر… تحریر : عدیلہ شہزادی . خوشاب

لوگوں میں بڑھتا تکبر… تحریر : عدیلہ شہزادی . خوشاب

خود کو دوسروں سے افضل اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے ۔ اور جس کے دل میں تکبر پایا جاۓ اسے متکبر کہتے ہیں ۔ اللّہ تعالٰی فرماتا ہے
”بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں کرتا “
تکبر تین قسم کا ہوتا ہے ۔ اک کفر دوسرا رسولوں میں کفر تیسرا بندوں میں کفر ۔
اور آج کل بندوں میں کفر بہت عام ہو گیا ہے ۔ آج کے لوگ بس خود کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں ۔ جس کے پاس بھی دوسرے سے زیادہ پیسہ یا شہرت آ جاتی ہے وہ اپنا ماضی بھول جاتا اور اپنے سے نیچے لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ جیسے وہ کبھی ان جیسا نہ ہو ۔ وہ خود کو بہت ہی افضل سمجھنے لگتا ہے ۔ اور وہ اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو اپنے روبرو آنے کی اجازت نہیں دیتا اسے لگتا ہے اگر وہ غریب کے پاس جاۓ گا تو اس کی شان کم ہو جاۓ گی ۔ وہ اپنی چند دن کی ملی شہرت اور رتبے کی وجہ سے اتراتا ہے اور اپنا ماضی بھول جاتا ہے ۔

 مزید پڑھیں: خواہشات ۔۔۔ تحریر : سپنا اویس (بہاولنگر)

ہمارے سامنے بہت سی مثالیں موجود ہیں جیسے ہمارے سیاستدان جو پہلے تو ووٹ لینے کے لیۓ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ اور لوگوں کو بہت امیدیں دیتے ہیں۔ ان کو بہت عزت دیتے ہیں مگر جیسے ہی وہ کرسی پہ بیٹھ جاتے ہیں ۔تو ان میں اونچی کرسی اور انچے رتبے کی اکڑ آ جاتی ہے۔ وہ عوام سے کیۓ گیے بڑے بڑے وعدے بھول جاتے ہیں۔ اور پھر ان لوگوں کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے جن کے قیمتی ووٹوں سے انہیں وہ رتبہ ملا تھا ۔ اب ان کے لیے پیسہ اور ان کی چھوٹی شان ہی سب کچھ بن چکی ہے ۔
ایسے ہی ہمارے فنکار اور اداکار جو شہرت حاصل کرنے کے لیے پہلے تو لوگوں سے بہت پیار دیکھاتے ہیں ۔ اور ان کے ساتھ مخلصانہ رویہ رکھتے اور انہی رویوں کی وجہ سے جب وہ لوگ شاٸیقین کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ اور شہرت پا لیتے ہیں ۔ تو پھر وہی لوگ انہیں اپنے آس پاس برے لگنے لگتے ہیں ۔ اور جب وہ ان کے ساتھ تصویر بنوانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ انہیں اگنور کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ اب وہی لوگ ان کو مایوب لگنے لگ جاتے ہیں جن کی وجہ سے ان کا نام بنا ۔ انسان بہت نا شکرا ہے ۔ پیسہ آنے پہ وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے اور تکبر کرنے لگتا ہے ۔
اللّہ تعالٰی قرآن میں فرماتا ہے
”اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیریں اور زمین پر اترا کر نہ چلیں ، بے شک اللہ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا “
(القرآن 31:18)
تکبر اور غرور نہ صرف متکبر کے لیۓ نقصان دہ ہے بلکہ اس سے متکبر اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے ۔ متکبر کی باتیں دوسروے لوگوں کا دل توڑتی ہیں ۔ اور یہ تو ہم سب نے سنا ہو گا کہ دل خدا کا گھر ہے ۔
تو اللہ کے بندوں اپنے رب کی سنو اور تکبر کی بجاۓ اس رب کا شکر ادا کرو جس نے تمہیں اتنی عزت دی ۔ اتنا رتبہ دیا تو اس رتبے کا اچھا استعمال کرو اور دوسروں کے کام آٶ اسی میں بھلاٸ ہے ۔ اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں اس عزت سے نوازا ہے ۔ اگر تم اپنی شہرت کا غلط استعمال کرو گے تو یاد رہے اس کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ جب وہ کچھ دے سکتا ہے تو واپس بھی لے سکتا ہے بس وہ اپنے بندے کو دے کر آزماتا ہے ۔
ہمیں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاییۓ اور دوسروں کی تکریم کرنی چاییۓ اور عجزوانکساری سے کام لینا چاییۓ
”اور رحمٰن خدا کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں “
(القرآن 63:25)

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

سینیٹر عرفان صدیقی۔ اسلام آباد، راولپنڈی انتظامیہ توجہ دے۔۔۔کالم نگار: سید سردار احمد پیرزادہ

یہ ایک برس سے بھی کم کی بات ہے جب کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور راولپنڈی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے