تازہ ترین
Home / Home / ”بامعانی آنسو“ … تحریر : عاکفہ وحید (سرگودھا)

”بامعانی آنسو“ … تحریر : عاکفہ وحید (سرگودھا)


ہم سب لوگ اپنی زندگی میں روتے ہیں۔ مضبوط سے مضبوط انسان بھی زندگی میں کبھی نا کبھی ضرور روتا ہے۔ نہ جانے روزانہ کی بنیاد پر ہماری آنکھوں سے کتنے آنسو گرتے ہیں اور بہت سے آنسو تو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کی قسمت میں پلکوں کی دہلیز کو پار کرنا لکھا ہی نہیں ہوتا۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہم زندگی میں آنسو تو بہت بہاتے ہیں مگر کیا ہمیں یہ پتا ہوتا ہے کہ یہ آنسو بامعنی ہیں یا بے معنی؟ کچھ لوگ میری اس بات سے حیران بھی ہوں گے کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ بامعنی اور بے معنی آنسو۔۔۔ آنسو تو آنسو ہی ہوتے ہیں۔ تو میں یہ کہوں گی کہ واقعی آنسو دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک با معنی اور دوسرے بے معنی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے آنسو با معنی اور بے معنی کب اور کیسے ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے بے معنی آنسو دیکھ لیتے ہیں۔ ہمارے آنسو بے معنی تب ہوتے ہیں جب ان کی کوئی قدر، کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ جب ہم کسی ایسے شخص کے لیے اپنی آنکھوں کو تکلیف دیتے ہیں اور ان آنسوں کو اپنی آنکھوں سے بغاوت پہ آمادہ کرتے ہیں۔ مگر کوئی قدر کرنے والا نہیں ہوتا ۔ سامنے والے کو ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جب ہمیں یہ کہنے والا کوئی نہیں ہوتا کہ نہ رو مجھے تمہاری بہتی آنکھیں تکلیف دیتی ہیں۔ یا جب ہم کسی ایسی چیز کے لیے آنسو بہاتے ہیں جو ہماری ہو ہی نہیں سکتی تب بھی ہمارے آنسو بے معنی ہوتے ہیں۔ یہ صرف اپنی آنکھوں کو تھکانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ اس کے برعکس با معنی آنسو وہ ہوتے ہیں جن کی قدر کی جاتی ہے۔ یہ وہ آنسو ہوتے ہیں جو زیادہ تر انسان اپنے رب کے حضور بہاتا ہے۔ جب ایک انسان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے اور اس کے دل پر ایک بوجھ سا بن جائے۔ اور پھر ایسے شخص کا ضمیر اسے گھسیٹتے ہوئے رب کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کردے۔ تو اس وقت شرمندگی کے آنسوں کا جو چشمہ آنکھوں سے پھوٹتا ہے نا وہ با معنی ہوتا ہے۔ اس کی قدر کی جاتی ہے کیوں کہ میرا رب اس بندے کی بات سنتا ہے۔ یہی آنسو پھر اس پاک ذات کو راضی کرتے ہیں۔ ایک اور طرح سے دیکھا جائے کہ اگر انسان اپنے رب کی بہت نافرمانی کرے اور پھر ایک دن اس کا رب کسی ایسے وسیلے سے اس کی مدد فرما دے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو تب جو شکر کے آنسو اس وقت چہرے سے ہوتے ہوئے گریباں میں جذب ہوتے ہیں نا وہ بے معنی ہو ہی نہیں سکتے۔ وہ "با معانی” ہوتے ہیں کیوں کہ اس وقت یہ آنسو اس شخص کا اپنے رب سے تعلق اتنا مضبوط کر دیتے ہیں کہ انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں جا سکتی۔
اپنے آنسوں کو با معنی اور بے معنی ہم خود بناتے ہیں۔ جب ہم کسی غلط شخص ،غلط چیز یا غلط موقع پر بہاتے ہیں تو ہم دراصل خود ان کی قدرو قیمت گھٹا دیتے ہیں۔ بے معنی آنسو بہا کر انسان اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔ سارے وجود پر عجیب بے سکونی سی طاری ہو جاتی ہے۔ سب سے زیادہ با معنی آنسو تو میرے خیال میں وہ ہیں جو رب العالمین کے سامنے بہائے جائیں۔ اور بامعنی آنسو بہاتے ہی جسم اور روح میں ایسا سکون بھر جاتا ہے کہ انسان کو اپنا آپ ہلکا پھلکا سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ لہذا اپنے آنسوں کو بامعنی بنائیں۔ انہیں بے قدرے لوگوں کے سامنے بہانے سے گریز کریں۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

Pakistan National Football team faces travel disruption

Islamabad, (Nop Sports) The Pakistan National Football Team is set to play its final away …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے