Home / Home / بیٹی کو دوست چاہیے، ماں کے روپ میں ۔۔۔ تحریر : رابعہ فاروق، ناڑی ضلع خوشاب

بیٹی کو دوست چاہیے، ماں کے روپ میں ۔۔۔ تحریر : رابعہ فاروق، ناڑی ضلع خوشاب

ماں اور بیٹی کے رشتے کی وابستگی اور چاہت کی مٹھاس سے کس کو سیر حاصل نہیں، تاہم کچھ حالات کا تقاضا سہی اس رشتے کی ڈوریں کچی ہوتی جا رہی۔ بیٹی دل کے سارے رازونیاز دوستوں پر نچھاور کر سکتی مگر تاسف ماں ہی محروم ہے۔دل کی اداسیوں کے دریچے میں ماں تو جھانک لیتی ہے،بیٹی بھی ماں کے رخ پہ سچی سنوری مسکراہٹ کے پیچھے آنکھوں میں چھپی نمی کو خوب پہچانتی ہے۔مگر ضرورت ہے اس رشتے میں دوستی کی،فاصلوں کو مٹانے کی،ہچکچاہٹ کو دور کرنے کی اور اور وہ ساری سسکیاں ماں کی سماعتوں تک گوش کرنے کی جو اندھیرے میں ہی دم توڑ رہیں۔
حقیقی امر ہے کہ دل پہ لگے زخم ہر ذی روح رب تعالٰی کے سوا کسی کو نہیں دکھانے چاہیے۔مگر اِک ماں،ہاں….ماں وہی ہستی ہے نہ جس نے کٸ راتیں کیا اپنی ساری حیات اولاد پہ نچھاور کرنی ہوتی۔تو وہ ماں بھلا بیٹی کے زخموں پہ مرہم کیسے نہیں رکھ سکتی،جو ماں ہر ادنٰی سے اعلٰی ضرورت کو پورا کر سکتی وہ ہمارے دکھ کیوں نہیں بانٹ سکتی؟؟
یہ ممکن ہے،اگر ماں سے دوستی ہو جاۓ،ماں سہیلی بن گٸ نہ تو پھر کسی بیٹی کی نظریں کسی دوسرے کی متلاشی نہیں ہوں گی۔مظبوط بانڈ ماں اور بیٹی کے درمیان قاٸم ہو نہ تو پھر کسی تیسرے کی گنجاٸش ہی باقی نہیں رہتی۔
بیٹی اور ماں کی وصف ایک ہی ہے نہ "عورت ذات” وہ دونوں ایک دوسرے کو بخوبی جانتی ہیں۔فقط ضرورت ہے تو سمجھنے کی وگرنہ ماں کی دوستی تو پھر ویسے ہے
"سچی یاری سب پہ بھاری”۔
بڑی ہی انمول دوستی ہے،ماٶں سے دوستی کر لیں،ماٸیں دکھ صرف بانٹتی ہی نہیں وہ روح سے جدا کر دیتی ہیں۔ہر ماں بھی بیٹی کو سمجھے،بیٹی ماں کو عزیز تر رکھے۔ معاشرہ اپنی ہی دھن میں رواں دواں ہیں..لمحات ہاتھوں سے سرک رہے بالکل ریت کی مانند۔
تو اس وقتِ غنیمت میں اپنی ماٶں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاٸیں وہ ضرور تھام لیں گی۔
پُر کیف فضا میں ماں کی گود میں سر رکھے،اپنی ساری گفتگو ان کو سناٸیں،سچے دوستوں کی تلاش میں سارا جہاں بھٹک رہا مگر اِک دوست پاس ہے بس صرف یاد دہانی کرادیں
ماں ساتھ ہے،تو سب کچھ ساتھ ہے۔
اس وقت بیٹیوں کیلیے معاشرے میں اگر کسی امر کی اشد ضرورت ہے تو وہ ہے،
"بیٹی کو دوست چاہیے،ماں کے روپ میں”

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

پاکپتن پٹرولنگ پوسٹ پل جالب کی بڑی کاروائی ، چوری شدہ دو عدد بھینسیں اور ڈالہ برآمد کرکے مالکان کے حوالے

پاکپتن ( مہر محمد نوازکاٹھیا سے) پاکپتن پٹرولنگ پوسٹ پل جالب کی بڑی کاروائی علاقہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے