ایک نہیں دو پاکستان
تحریر: محمد جواد بھوجیہ
عدا لت عظمٰی نے مورخہ 13 فروری کو سی ڈی اے اور ہیلتھ منسٹری اسلام آباد میں ماورائے قانون ڈیپیوٹیشن پر آنے اور بعد آزاں ضم ہونے والے افسران سے متعلق توہین عدالت کی درخواستوں پر فیصلہ صادر فرما دیا۔ فیصلہ میں قرار دیا کہ سی ڈی اے اور دوسرے متعلقہ ادارے عدالت عظمٰی کے فیصلے (ایس سی ایم آر 2013/ 1752) اور نظر ثانی شدہ فیصلے (ایس سی ایم آر 2015/ 456) میں وضع کردہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ ہیلتھ منسٹری کو حکم دیا گیا کہ تین مہینوں کے اندر (آئی سی ٹی) اسلام آباد کے ہسپتالوں سے متعلق رپورٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیکر اس امر کو یقینی بنائے کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔ کوئی اقرباء پروری یا کسی کی طرفداری ہر گز نہ ہو اورنہ کو ئی ایسا خاص ضابطہ متعارف کیا جائے جس سے کسی فرد واحد کو ایسا فائدہ ہو جسکا وہ قانونی طور پر مستحق نہ ہو۔
![]()
وا ضح رہے کہ اس کیس کی ابتدائی سماعت مورخہ 16 مارچ 2016 عدالت نے قرارا دیا تھا کہ جو افسران سی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن پر آ کر ضم ہو چکے ہیں یا سی ڈی اے سے دیگر اداروں میں بھیجے گئے ہیں، بادی النظر میں مذکورہ بالا فیصلوں میں وضع کردہ اصولوں کی سریحا خلاف ورزی ہے۔ سی ڈی اے نے احکامات پر عمل درآمد کرکے 37 افسران و ملازمین کو واپس اپنے محکموں میں بھیج دیا اور دوسرے محکموں سے اپنے ملازمین کو واپس بلا لیا۔ جبکہ وزارت کیڈ کے زیر اہتمام ہسپتالوں سے سینکڑوں ملازمین اپنے بنیادی اداروں میں چلے گئے لیکن حیران کن امر ہے کہ ڈاکٹر امجد اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر شازیہ یوسف پر مذکورہ فیصلوں کا اطلاق نہ ہوسکا۔ ڈاکٹر امجد پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے پمز میں ڈیپوٹیشن پر آکر گریڈ 18 میں ضم ہوئے تھے ان کو گریڈ 18 میں واپس پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں بھیجا جانا تھا تاہم بااثر ہونے کی وجہ سے اس پر مذکورہ فیصلوں کا اطلاق نہ کیا گیا جبکہ ڈاکٹر شازیہ جو ڈاکٹر امجد کی بیوی ہے کی کہانی بالکل نرالی ہے، اس پر بھی مذکورہ فیصلوں کا اطلاق نہ کیا گیا۔ بنیا دی طور پر ڈاکٹر شازیہ مورخہ 17 مئی 2005 کو پمز اسلام آباد میں بطور دو سا لہ کنٹرکٹ میڈیکل آفیسر بھرتی ہوئی تھی۔
![]()
مذکوریہ نے مور خہ 10 نومبر 2007 کو پمز ہسپتال کی ملازمت سے استعفٰی دیا۔ اسی اثناء میں مورخہ 10 نومبر 2007 کو ان کی سیلیکشن بطور ریگولر میڈیکل آفیسر گریڈ 17 جنا ح ہسپتال کراچی میں بذریعہ مراسلہ مورخہ 5 نومبر 2007 ہوئی۔ مراسلہ میں ایکزیکٹیو ڈائریکٹر جناح ہسپتال کو تاکید کی گئی تھی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اپنے دستخطوں کے ساتھ ڈاکٹر مذکوریہ کی تصدیق نامہ، ڈیکلریشن فارم وغیرہ اور جسمانی طور پر صحت مند ہونے کی سرٹیفیکیٹ ہیلتھ منسٹری کو بھیج دیں اور متعلقہ ڈویژن کو 24 گھنٹوں کے اندر مذکوریہ کی فرائض منصبی پر آمد کی تاریخ سے ٹیلیگراف کے ذریعے اگا ہ کرے۔ بصورت دیگر فرائض منصبی پر نہ آنے کی فوری اطلاع کیجائے۔ اسی طرح سول سرجن، کراچی کو بھی اسی مراسلہ میں ہدایت کی گئی کہ وہ ڈاکٹر مذکوریہ کی صحت جانچنے کیلئے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔ اور اگر وہ 30 یوم میں ڈیوٹی پر آمد کی رپورٹ نہ کرے تو اسکی تعیناتی منسوخ تصور کیجائے گی۔ تاہم مذکوریہ نے جناح ہسپتال کراچی میں فرائض منصبی سنبھالنے کیلے کوئی آمد رپورٹ نہ کی اور اسی طرح ان کی تعیناتی بطور ریگولر میڈیکل آفیسر جناح ہسپتال کراچی میں نتیجہ خیز نہ ہوسکی۔ اب نہ تو وہ جناح ہسپتال کی ملازمہ ہے اور نہ پمز اسلام آباد کی۔ ذرائع کے مطابق جناح ہسپتال کرا چی کے ریکارڈ میں ڈاکٹر شازیہ کبھی بھی جناح ہسپتال کی میڈیکل آفیسر نہیں رہی ہے۔
![]()
تا ہم موصوفہ نے اپنے شوہر ڈاکٹر امجد، ایکزیکٹیو ڈائریکٹر پمز کے اشیر باد پر پمز ہسپتال میں فراڈ اور دھوکہ دہی کی بنیاد پر ملازمت جا ری رکھی تھی۔ جسکی نیب یا ایف آئی اے کے ذریعے اعلٰی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں مذکورہ فراڈ کی ممکنہ انکوائری سے بچنے کے لئے ڈاکٹر امجد نے سی ڈی اے اور ہیلتھ منسٹری کے کرپٹ افسروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے اپنی مسز کو کیپٹل ہسپتال میں ڈیپوٹیشن پر بھیجنے کا منصوبہ کچھ اسطرح بنا یا کہ سی ڈی اے نے مورخہ 20 جولا ئی 2011 کو بذریعہ مراسلہ ڈاکٹر موصوفہ کی خدمات گریڈ 19 میں پمز اسلام آباد سے بلاواسطہ مانگ لی۔ ایک ہی دن میں پمز نے این او سی جا ری کیا اور سیکریٹری کیڈ نے دوسرے دن مورخہ 21 جولائی کو موصوفہ کو ڈیپو ٹیشن پر بھیجنے کی منظوری دی جبکہ سی ڈی اے نے تیز ترین سروس کی بنیاد پر ایک دن پہلے مورخہ 20 جولائی کو اسکی ڈیپو ٹیشن پر بھرتی کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا تھا اور اس طرح یہ فراڈ پر مبنی منصوبہ دو دن میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔
![]()
ڈاکٹر موصوفہ 9 مہینوں کے اندر سی ڈی اے میں بطور ریگولر ملازمہ ضم ہوکر عرصہ 8 سال سے گریڈ 19 کی پوسٹ پر قابض ہوگئی ہے جو ہنوز جا ری ہے۔ ڈاکٹر عبد العزیز نیازی سینئر ریڈیالوجسٹ گریڈ 19 نے اپنی اس حق تلفی پر شکایت کی جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے ایک فیکٹ فائینڈنگ انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ چیئرمین کمیٹی نے کیڈ منسٹری سے موصوفہ کی سروس کی تصدیق مانگ لی جسکی جواب نے سیکشن آفیسر کیڈ نے مراسلہ مورخہ 6 جنوری 2015 کو تصدیق کرتے ہوئے مطلع کیا کہ ڈاکٹر شازیہ دراصل جناح ہسپتال کراچی کی گریڈ 17 کی میڈیکل آفیسر ہے جو گزشتہ این او سی میں غلطی سے گریڈ 18 لکھا گیا تھا۔ انھوں نے التجا کی کہ گزشتہ این او سی میں تحریر میڈیکل آفیسر گریڈ 18 پمز ہسپتال کے بجائے گریڈ 17 میڈیکل آفیسر جناح ہسپتال کراچی لکھا اور پڑھا جائے۔
![]()
سپریم کور ٹ آف پاکستان کے حکم پر اعلی سطحی کمیٹی نے بھی رپورٹ دی ہے کہ ڈاکٹر شازیہ یوسف جناح ہسپتال کراچی کی گریڈ 17 کی میڈیکل آفیسر ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ جناح ہسپتال کی گریڈ 17 کی میڈیکل آفیسر ہے تو پھر پمز ہسپتال کس طرح این او سی برائے ڈیپوٹیشن جاری کرنے کا مجاز ہے اور جناح ہسپتال کراچی میں ان کا سروس ریکارڈ کیوں نہیں ہے اور پھر ہیلتھ منسٹری کس اختیار کے تحت سی ڈی اے کو باور کراتی پھرتی ہے کہ پمز کی این او سی کو درا صل جناح ہسپتال کی این او سی گردانا جائے اور پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ سی ڈی اے کس قا نون کے تحت ہیلتھ منسٹری کی وضاحتوں سے مطمئن ہوتی ہے اور موصوفہ کو گریڈ 17 کی بجا ئے گریڈ 19 کی تنخواہ اور مراعات دیتی ہے اور موصوفہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کو پامال کر رہی ہے۔ پس ثابت ہوتا ہے کہ اس فراڈ میں ڈاکٹر شازیہ ان کا شوہر ڈاکٹر امجد، ہیلتھ منسٹری اور سی ڈی اے کے افسران برا بر کے شریک ہیں۔
![]()