کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ سندھ کی صورتحال پر میڈیا کے لئے جاری وڈیو بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو پتا ہونا چاہیے کہ یہ ایک فیڈریشن کے چار صوبے ہیں، پاکستان میں کوئی آزاد ریاستیں نہیں ہیں۔ تمام صوبے وفاق کا حصہ ہیں۔ جب بھی سندھ حکومت پر پریشر بڑھ جاتا ہے تو یہ لوگ سندھ کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے احکامات پر کراچی کی ہسپتالیں وفاق کو دی گئیں تو کہا گیا کہ وفاق نے سندھ پر حملہ کیا ہے۔ ٹیکس کلیکشن پر تمام صوبوں کو پیسے کم ملے تو وزیرا علیٰ نے پھر کہا کہ وفاق نے سندھ کے 229 ارب پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ ایسے بیانات دینا ان حالات میں ملک کے لئے اچھے نہیں ہیں۔ پاکستان ایک ہے اور چاروں صوبے پاکستان ہے۔ صوبے وفاق کے ماتحت ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا بھٹو کی چار صوبوں کی پارٹی تھی زرداری لیگ کے آنے کے بعد اب چار ڈویژن تک محدود ہوچکی ہے۔ اب ان کا سندھ کارڈ نہیں چلے گا کیوں کہ سندھ کو پیپلز پارٹی نے برباد کر دیا ہے محکمے تباہ ہوچکے ہیں عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے کہا ٹیکس کلیکشن پر صوبے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے نہ یہ لوگ کچھ کر سکتے ہیں، 1973 کے آئین کے مطابق اور رضا ربانی کی ترمیم بھی یہ آپ کا سبجیکٹ نہیں۔ وفاق نے جو فیصلہ کرنا ہے وہ ہونا ہے وفاق ٹیکس کلیکشن پر این ایف سی ایوارڈ کی تقسم کرتا ہے۔ وفاق ٹیکس کلیکشن کی بنیاد پر صوبوں کو پیسے دیتا ہے ٹیکس کلیکشن کم ہوگی تو پیسے کم ملیں گے۔ آئین کے آرٹیکل 77 میں صرف وفاق ٹیکس کا فیصلہ کرے گا، آرٹیکل 144 کے تحت نیشنل اسمبلی کو پاور ہیں ٹیکس لگانے کے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت 18 ویں ترمیم کے بعد بھی یہ وفاق کا سبجیکٹ ہے، اگر صوبے کو ٹیکس کے حوالے سے کوئی شکایات ہیں ان کو نینشنل اسمبلی میں مجارٹی دکھا کر تبدیلی کرا سکتے ہیں۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: لیاری کھڈہ کا پانی کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے پر ماہی گیر جماعتوں کا چیئرمین فشر مینز کوآپریٹو سوسائٹی عبدالبر کو سلام
https://www.nopnewstv.com/for-resolving-long-standing/