کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کراچی کی تاجر و صنعتکار برادری کی جانب سے سندھ کے ماحولیاتی قوانین کے از سر نو جائزے کی تجویز منظور کرلی کراچی کے تاجروں کی درخواست پر مشیر ماحولیات نے جائزہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی کردی محکمہ ماحولیات ایک ہفتے میں کمیٹی کے قیام کا حکم نامہ جاری کرے گا بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ تاجروں و صنعتکاروں سے ٹیکسوں کی وصولیاں وفاق کرتا ہے جبکہ کراچی کی خستہ حال سڑکوں کا نوٹس لیکر سندھ حکومت ان سڑکوں کی مرمت کے لیے فنڈز جاری کرتی ہے سندھ حکومت نہ صرف تاجروں بلکہ عوام کی خدمت سے متعلق اپنے منشور کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو کراچی چیمبر آف کامرس میں سالڈ ویسٹ منیجمنٹ سمپوزیم سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول، گیس اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ وفاقی حکومت کررہی ہے جن پر کنٹرول کرنا صوبائی حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ دوکاندار اگر کوئی شے 100روپے میں خریے گا تو صوبائی حکومت اسے کسطرح 80 روپے میں فروخت پر مجبور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ سندھ کو اپنا نہیں سمجھتے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنے اعمال سے ثابت کردیا کہ وہ سندھ کو اپنا نہیں تسلیم کرتے، سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والے اس صوبے کو گیس فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ مرتضی وہاب نے کہا کہ کچرا اٹھانا تو حکومت کی ذمہ داری ہے مگر شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ کچرا سڑکوں پر نہ پھنکیں اور صفائی کا خیال رکھیں۔ وزیر اعلی سندھ کےہفتہ صفائی مہم کے دوران مارکیٹ میں لوگ اپنی دکانوں کا کچرا سڑک پر پھینک کرگئے ہوئے تھے۔ ریسٹورنٹ مالکان بھی صفائی کے بعد کچرا باہر پھینک کے چلے جاتے ہیں۔ طریقہ کار یہ ہے کہ باہر ایک بڑا کچرے کا ڈبہ رکھ کر اس میں سب کچرا جمع کیا جائے۔ 22 کروڑ عوام کو اس درد اور احساس کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انڈر پاسز کی تعمیر میں ایک دو جگہ ٹائلز لگائے گئے جس پر خوشی تھی لیکن آج صبح ان انڈر پاسز سے آتے ہوئے دیکھا کہ ان نصب شدہ ٹائلوں پر پان کی پیکوں کا مقابلہ چل رہا ہے۔ میڈیا کو بھی شہریوں کو اپنی زمہ داری کا احساس دلانے میں کردادر ادا کرنا ہے انہوں نے کہا کہ ویسٹ مینجمنٹ کو کوئی بھی اون کرنے کے لیے تیار نہیں جبکہ نیپرا کی ٹیرف پالیسی کی وجہ سے ویسٹ سے توانائی بنانے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف جہاد کے چکر میں حکومتی اکنامک اینگل خراب ہوگیا ہے۔ ہر شخص سرمایہ کاری کرتے ہوئے نوٹس سے ڈرنے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی چیمبر کے ساتھ ریسائیکلنگ پلانٹ پر کام کرنے کو تیار ہے کراچی چیمبر ہمیں تجاویز دے۔ پلاسٹک بیگ کے خلاف ہم نے پالیسی بنائی کراچی چیمبر اپنے لوگوں کو آگاہ کرے کہ پلاسٹک کا استعمال ختم کریں اور شہریوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ پلاسٹک کے تھیلیوں کا استعمال ترک کریں۔ ویسٹ اور انوائرمنٹ تبدیلی بڑا مسلہ ہے اس پر مل کر کام کرنا ہوگا۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر شارق وہرا نے کہا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو بہتر کرنا ہوگا۔ کچرا لیکر جانے والے ٹرک 60 فیصد کچرا سڑکوں پر ہی گرادیتے ہیں۔ انہیں شہر کے زمینی معاملات کو مدنظر رکھتے صفائی کے معاملات کرنے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ سمیت بیشتر ممالک میں ماحول کو بہتر بنانے کیلئے قانون سازی کی جاچکی ہے مگر اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ری سائیکلڈ ویسٹ امپورٹ کرکے ان سے کھلونے و دیگر اشیاء بناتا ہے۔ چین 78 فیصد پلاسٹک پروڈکٹس ریسائکلنگ سے بناتا ہے۔