کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں ہر منصوبہ کمیشن اور کک بیکس کیلئے شروع کیا تھا سندھ میں کئی منصوبے سالوں سے نامکمل پڑے ہیں۔ جس کی وجہ عوام کے اربوں روپے کرپشن کی نذر ہوگئے۔ عوامی منصوبوں میں کرپشن اور ذاتی جاگیر سمجھ کر عوام کے پیسے کو لوٹا گیا ہے۔ کرپشن کو جنم دینے والے بلاول زرداری کرپشن کے خاتمے کی بات کرتے اچھے نہیں لگتے۔ نیب نے گزشتہ کرپٹ حکومتوں کے 10 سالہ دور میں صرف 104 ارب موجودہ 27 ماہ 389 ارب کہ ریکوری کی ہے۔ 13 سالوں تک سندھ کو لوٹنے والوں کے جانے کا وقت آگیا ہے۔ سندھ میں 7 ہزار 880 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود عوام پینے کے پانی سے محروم ہے۔ اربوں روپے لاء اینڈ آرڈر پر خرچ کر دیئے گئے لیکن صورتحال بہتر نہ ہوسکی۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ وزیر اعلی سندھ جاتے جاتے باقی رہ جانے والے غیر قانونی کام بھی کرتے جارہے ہیں۔ سندھ میں کرپشن کرنے والے افسران کو ترقی دی جارہی ہیں۔ سندھ کی عوام کا پیسہ مال غنیمنت سمجھ کر لوٹا جارہا ہے۔ پی ڈی ایم کی تحریک دم توڑ چکی ہے۔ وزیر اعظم کے مشروط اعلان پر غور کرنے کے بجائے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں خاموش بیٹھ گئی ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو ملک و قوم کی فکر نہیں بلکہ اپنے کرپشن کے پیسے بچانے کی فکر ہے۔