کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے ترجمان و رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی نے سندھ اسمبلی میں گزشتہ روز اپنی تقریر میں کہا کہ سندھ حکومت نے 2020-21 1200 ارب کا بجٹ پیش کیا جس میں کراچی شہر کو بے دردی سے نظر انداز کیا گیا سندھ حکومت نے اپنے 12واں بجٹ میں کراچی کو سوچ سمجھ کر نظر انداز کیا سندھ حکومت کے پیش کردہ بجٹ میں واضح تھا کہ سندھ باسیوں جاگتے رہنا ہمارے آسرے مت رہنا اس بجٹ میں 132 ارب صحت کے بجٹ کے لیے رکھے گئے ہیں سندھ کے عوام کو پتہ لگے صحت کا اتنا بجٹ رکھا گیا جو ان پر لگتا نہیں تو ان کی کیا کیفیت ہوگی سندھ حکومت سے درخواست ہے کووڈ کے نام پر 132 ارب جلدی ختم نہ کریے گا اس بجٹ ان ہسپتال کو بھی بیڈ دیے جائیں جو ایکسڈنٹ سے زخمی افراد فرش پر ایڑیا رگڑ رہے تھے اُس شہر کو ایمبولینس بھی دی جائیں جہاں انسانیت کو گدھے گاڑیوں پر لے جایا جاتا ہے70 سالوں میں صوبے کی عوام سہولیات تک پہنچ نہیں سکی کووڈ کی صورتحال میں بھی سازشیں جاری ہیں راتوں رات سیکرٹری ہیلتھ تبدیل کردیے جاتے ہیں وزیر صحت کو عمر کا بہانہ بناکر گھر بیٹھا دیا جاتا ہے انہوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ صوبے کی بھینسوں کو محفوظ رہائش دینے کے لیے 20 ارب رکھے گئے ہیں 20 ارب سے اسکول بننے کے بعد بھینسیں محفوظ ہو جائیں گی اب آسٹریلین گائے منگوانے کی ضرورت نہیں ہوگی صوبے کی عوام پڑھیں لکھی بھینسیں لیں گے دنیا ہم سے میٹرک پاس اور انٹر پاس بھینسیں لیکر جایا کرے گی اس بجٹ میں من پسند گرانٹس دی گئیں لیکن کراچی پریس کلب کی گرانٹ روک لی گئی یہ وہ کراچی پریس کلب کے صحافی ہیں جن کہ کندھے پر آپ سوار ہوکر سُپر مین بنتے ہیں صحافیوں کے لیے زیرو بجٹ رکھا گیا صحافیوں کے لیے کوئی ریلیف پیکج نہیں رکھا گیا سندھ حکومت نے کسی میڈیا ہاؤس پر اسپرے نہیں کروایا صحافیوں کے لیے کوئی فری ٹیسٹ ٹیم نہیں بھیجی اوجھا ہسپتال میں لوگ ٹیسٹ کروانے نہیں بلکہ کورونا لینے کے لیے جاتے ہیں صحافی دھوپ گرمی بارش ہر صورتحال میں اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں وفاق کی برائیاں کرنے کے لیے صحافیوں کو روزانہ بلالیا جاتا ہے پریس کانفرنسز میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ بجٹ میں ڈاکا ڈالا گیا بجٹ آمدنی کے تخمینے پر بنایا جاتا ہے اور آمدنی نہ ہونے کی صورت میں بجٹ روائس ہوجاتا ہے ڈاکے کا شور مچا کر عوام کو بیوقوف بنانے کی سازش کی جاتی ہے، ڈاکے کے بارے میں سندھ حکومت سے بہتر کون جان سکتا ہے وزیراعظم کے کراچی دورہ پر آٹھ آٹھ آنسوؤں سے روئے کہ ہمیں بلایا نہیں وزیر اعلیٰ صوبے کہ منصب پر ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کیبنٹ میٹنگ ہے بجٹ سیشن ہے نہیں آسکتا اس کے بعد مظلوم بن گئے سندھ حکومت کے اپنے پارٹی کے لیڈر ملاقات نہیں کرتے اور شکوہ کرتے ہیں وزیراعظم کا قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر مظلوم نہیں بن سکتے اداکاری کے فیشن سے نکل کر گراؤنڈ پر آکر عوام کے مسائل کے لیے کام کیے جائیں 29 ارب اور این ایف سی نظر آتا ہے پی ایف سی نظر نہیں آتا جس طرح وفاق سے حق مانگا جاتا ہے اسی طرح وفاق کو بھی اس کا حق دیا جائے میرے حلقے میں اسمارٹ لاک ڈاؤن برائے نام ہے ایک تمبو باندھ دیا گیا جسے کراس کرکے عوام آنا جانا باآسانی کررہی ہے سندھ حکومت کا تمبو شامیانے لگاکر اسمارٹ لاک ڈاؤن کی زمیداری پوری ہوگئی، اس بجٹ میں کراچی کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی کراچی میں پینے کا پانی نہیں ہے جس گھر میں ہاتھ دھونے کے لیے پانی نہیں ہے وہ کورونا سے کیسے بچ سکتا ہے کراچی شہر صوبے کو 90 فیصد ریونیو دیتا ہے اس شہر کے ساتھ زیادتی زیب نہیں دیتی میگا پروجیکٹ کے فور کے لیے کوئی بجٹ نہیں رکھا گیا اگر کراچی کو کچھ دے نہیں سکتے تو اس شہر کے آگے ہاتھ بھی نہ پھیلایا کرو ہر وقت کھپے کھپے کیا جاتا ہے اس شہر کو دینے کے لیے دل بڑا نہیں ہے اس شہر سے صرف چاہیے ہر وقت ہاتھ پھیلانے والوں پر اللہ رحم نہیں کھاتا جب تک انصاف کا نظام قائم نہیں ہوتا عوام سندھ حکومت سے کوئی امید نہیں رکھ سکتے سندھ حکومت 12 سال سے اقتدار میں ہے کراچی شہر پر رحم کریں۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: نئے پاکستان کے دورِ حکومت و 21 صدی کے اس دورجدید میں جام پور شہر کی قائم قدیمی کھوسہ کالونی بنیادی سہولیات سے محروم
https://www.nopnewstv.com/in-the-era-of-new-pakistan-and/