کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین خلیل احمد تھند نے کہا ہے کہ پی آئی اے طیارے حادثہ کی عبوری رپورٹ ایسی نہیں ہے جسے آسانی سے ہضم کیا جاسکے۔ وزیراعظم عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام سے کچھ نہیں چھپائیں گے تو حادثے کی تحقیقات شفاف طریقے سے کی جائیں۔ ترقی یافتہ ملک میں حادثہ کی زمہ داری قبول کرکے اب تک چیف ایگزیکٹو استعفی دے چکا ہوتا لیکن چور دروازہ سے آنے والے اتنی جرأت کہاں سے لائیں؟ پی ٹی آئی کے وزیر خود مستعفی ہوئے نہ حادثے کے ذمہ داران گرفت میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ہر وعدے سے مکر گئے ان سے کسی بہتری کی توقع نہیں ہے۔ پی آئی اے طیارہ حادثہ کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ کا نتیجہ وہ پھندہ ہے جو پی آئی اے کے اعلی افسران نے اپنی گردنوں سے اُتار کر کاک پٹ کریو اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو پہنا دیا ہے۔ حادثہ کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ ائر لائن کی افسر شاہی کی چالاکی پر مبنی ہے۔ اصل حقائق کو چھپانا قومی جرم ہے اس رویے سے مزید حادثات کو کیسے روکا جاسکے گا؟ سو کے قریب لوگوں کی جانیں چلی جانا اور پی آئی اے طیارہ کی تباہی کوئی معمولی نقصان نہیں ہے کہ اس کے ذمہ داران کو بے نقاب کرنے کے سلسلہ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برتی جائے۔ انسانی جانوں کا زیاں معمولی معاملہ نہیں روک تھام کے لئے ہلاکتوں کا کھیل کھیلنے والوں کو سرعام لٹکانا ہوگا۔ عام پاکستانی ملکی و سیاسی معاملات سے لاتعلق رہنے کی بجائے اپنے ملک اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے جاندار کردار ادا کرے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقاتی رپورٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے خلیل احمد تھند نے مزید کہا کہ آٹا چینی مافیا کی طرح پی آئی اے مافیا بھی بچ نکلے گا، عمران خان کرپٹ لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔ الیکشن میں مفادات دینے والے مافیاز حکومتوں کی بیساکھیاں ہیں، سیاستدان اور مافیا گٹھ جوڑ ختم کئے بغیر ملک بہتری کی طرف گامزن نہیں ہوسکتا۔ یہ حادثہ اس لئے بھی سنگین غفلت کی نشاندہی کر رہا ہے کیونکہ یہ لاک ڈاؤن کے دوران اور عید سے 2 دن پہلے پیش آیا تھا۔ جب دنیا بھر میں پروازیں بند تھیں تو زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی۔ اگر غفلت کاک پٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کی تھی تو بھی پی آئی اے کے چیئرمین اور دیگر ذمہ دار افسران کو اخلاقا اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہئے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے جس نے دنیا کی کئی ایئرلائنز کو تکنیکی معاونت فراہم کی ہے۔ پی آئی اے کی تباہی میں وڈیرہ شاہی، الیکٹ ایبلز، ملک کے اقتدار پر قابض رہنے والی تمام سابقہ اور موجودہ سیاسی جماعتوں کی حکومتیں پوری طرح ملوث ہیں۔ پی آئی اے کی بربادی میں کرپشن، لوٹ مار، میرٹ کی پامالی، جعلی اور نا اہل لوگوں کی بھرتی جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ پی آئی اے کے جان لیوا حادثات کی مبہم انکوائری کے ذریعے اسی طرح اصل ملزمان کو بچانے کی کوششیں جاری رہیں تو پی آئی اے کو تباہی کی دلدل میں دھنسنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ خلیل احمد تھند نے کہا کہ تبدیلیاں بگڑے سیاستدانوں کے ہجوم میں نعرے بازی سے نہیں آتیں۔ بلیک باکس کی تفصیلات کو بھی منظر عام پر لایا جائے۔ پاسبان ٹھوس بنیادوں پر تبدیلی کے لئے بے لوث، مخلص دیانتدار سیاسی قوت تیار کررہی ہے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: سینئر اسپورٹس جرنلسٹ شاہد علی خان کے بڑے بھائی کے انتقال پر سندھ اولیمپیک ایسوسی ایشن کا اظہار تعزیت
https://www.nopnewstv.com/indh-olympic-ass…tion-condolences/