کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی نے انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کہتے ہیں کہ سیاسی بیان بازی کا سلسلہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے شروع کیا، بقول پیپلز پارٹی کے علی زیدی اور فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس میں بیان بازی کی، وزیر اعلی سندھ کہتے ہیں کہ وفاق اچھا کام کر رہا ہے دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے خلاف میڈیا پر بیان دیتے ہیں، انہوں نے پیپلز پارٹی سے التجا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بہت بیڑا غرق کردیا ہے، ہم ہاتھ جوڑتے ہیں کہ انسانوں کی خدمت کرلیں، وفاقی حکومت پر تنقید کرنے والے سن لیں کہ وفاق نے دس ہزار کٹس دی تھی، اسکا ثبوت میڈیا خود ہے، 21 جنوری کو کورونا کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کی گئی تھی، وفاقی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان اور ایس او پیز فروری میں ہی بتا دی تھی، 17 مارچ تک وفاقی حکومت نے جو سامان کی ترسیل صوبوں میں کی اسکی مکمل تفصیلات موجود ہیں، ہمارے پاس تاریخ کے ساتھ درج ہے کہ وفاقی حکومت نے کیا اقدامات کیے، سب سے کوارنٹائن سینٹر کی سہولت کو سب سے پہلے وفاقی حکومت نے شروع کیا، یہ کہنا کہ وفاق کچھ نہیں کر رہا تھا اسکی تفصیلات سب کے سامنے بتادی ہیں، کوڈ 19 کے حوالے سے وفاقی حکومت کی ایک ویب سائٹ بھی موجود ہے، اس ویب سائٹ پر سندھ حکومت کی دی گئی تمام سہولیات میسر ہے، فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ سندھ میں 29 اضلاع ہیں، جن میں سے 18 اضلاع میں کورونا کی تفصیلات دی گئی ہیں، انکی تفصیلات کے مطابق سندھ کے 11 اضلاع میں کورونا نہیں ہے، یا تو انکے پاس سہولت نہیں ہے 11 اضلاع میں ٹیسٹ کی یا وہاں کورونا نہیں ہے، 18 اضلاع میں سے چھ اضلاع میں صرف 5 کیس رپورٹ ہوئے ہیں تو وہاں بھی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے، ہمارا ماننا یہ ہے کہ صوبے میں لاک ڈاؤن ہے ہی نہیں، صرف شہر کی مرکزی شاہراہوں پر لاک ڈاؤن ہے اور اندرون علاقہ سب کھلا ہے، تین دن قبل وزیر اعظم نے کہا تھا کھول دو سب تو کہا تھا کہ ہم لاک ڈاؤن مزید سخت کرنا چاہتے ہیں، سندھ حکومت نےعوام میں مقبولیت میں کمی دیکھی تو تین دن بعد بیکریز اور فیکٹری کھولنے کی اجازت دے دی، ہم سندھ حکومت کو وکٹ کے دونوں طرف نہیں کھیلنے دینگے، ہم سچ بولتے ہیں اور ہمیشہ سچ بولینگے، انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ امر بالمعروف اور نہی عنہی منکر پر عملدرآمد نہیں ہوتے ان پر لعنت بھیجتے ہیں، پاکستان میں زرعی اور تعمیراتی انڈسٹری میں سب سے زیادہ ملازمتیں دی جاسکتی ہے، یہ وجہ ہے کہ ان دو انڈسٹریوں کی تشہیر کی جارہی ہے، بعد ازاں پارلیمانی لیڈر اور مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم سندھ حکومت پر کوئی تنقید نہیں چاہتے اور نہ ہی اختلاف چاہتے ہیں، آپ ایک قدم آگے بڑھائیں، ہم 20 قدم آگے بڑھائینگے، آپ تنقید کریں ہمیں اعتراض نہیں ہیں مگر سندھ میں افراتفری اور خوف کی سیاست نہ کریں، وزیر اعلی سندھ کہتے ہیں کہ سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد دنیا سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے، لاک ڈاؤن کے نام پر روزانہ درجنوں شہریوں کو لاک اپ کردیتے ہیں اور ایک ساتھ بند کردیتے ہیں، اس سے کیسے لوگ کورونا سے بچینگے، ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ہسپتالوں میں مریض کم لاشیں زیادہ لائی جارہی ہیں، وزیر اعلی کہتے ہیں کہ ان لاشوں کے پھیپھڑے کورونا سے ملتے جلتے لگتے ہیں، وزیر اعلی سندھ مسکینوں کی طرح ہاتھ جوڑ کر میڈیا ٹاک کرتے ہیں، وزیر اعلی سندھ کیا چاہتے ہیں؟ اتنی زیادہ اموات کورونا سے نہیں ہورہی جتنی افراتفری پھیلا دی ہے، انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے، اسکے کارڈز پر کوئی تشہیر نہیں کی گئی، صرف حکومت پاکستان کی جانب سے کیا جارہا ہے، احساس پروگرام کے تحت 9 دنوں میں 44 لاکھ خاندانوں میں 53 ارب روہے تقسیم کیے جاچکے ہیں، سندھ میں 15 لاکھ تین ہزار خاندانوں کو 18 ارب 44 لاکھ تقسیم کے جاچکے ییں، یہ عظیم کام وزیر اعظم پاکستان عظیم انسان نے کیا ہے، پیپلز پارٹی کو شرم نہیں آتی؟ ڈی سی آفس پر پیپلز پارٹی رہنماؤں کی تصاویر لگا دی؟ یہ کسی کے باپ کا پیسہ نہیں، یہ پیسہ ٹیکس دینے والے پاکستانیوں کا ہے، پیپلز پارٹی جتنی تصاویر لگانی ہے لگائے مگر پیپلز پارٹی، زرداری اور اومنی کے فنڈ سے لگائے، حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت نے دعوی کیا تھا کہ 20 لاکھ خاندانوں کو راشن پہنچائے گے، مرتضی وہاب، سعید غنی سمیت دیگر بتائیں کہ جسکو راشن نہیں گیا اسکو پتہ چلا ؟ ہم فلاحی اداروں کو عوام کی خدمت کے لیے سلام پیش کرتے ہیں، ڈپٹی کمشنر ریاست کے ملازم ہیں سیاست کے ملازم نہیں ہیں، بیورکریٹ کمداری میں لگے ہوئے ہیں، وہ یہ سب بند کریں، ہم ٹیم بنا کر ہر ضلع میں جائینگے، اور ضلعی انتظامیہ کو بے نقاب کرینگے، سندھ کے ہسپتالوں کو تمام ریلیف کا سامان فراہم کیا جاچکا ہے، وفاق نے سب سے زیادہ امداد سندھ کو دی ہے، ہم کورونا کے خلاف جنگ جیت کر مزید کامیابیاں حاصل کرینگے، این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کے پاس زیادہ اختیارات ہیں، سندھ حکومت کے 12 ارب کے پیکج میں سے چھ ارب تو محکمہ صحت کا تھا، انہوں نے کہا کہ کچھ ناعاقبت اندیشوں نے کورونا کا ملبہ زائرین اور تبلیغیوں پر ڈالا، وہ یہ بتائیں کہ کورونا وائرس یورپ، اٹلی اور ووہان میں کس نے پھیلایا، علما کرام اور حکومت پاکستان ایک ہیچ پر ہیں، ہماری شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ رمضانوں مِیں ایس او پیز پر عملرر آمد کریں، ہمیں امید یے کہ رمضان کے بابرکت مہینے میں دعاؤں سے کورونا کے خلاف جنگ میں فتح یاب ہونگے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: پیپلز پارٹی کے تمام وزراء کورونا کو روکنے میں کم اور ٹوئیٹر پر زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔ رکن سندھ اسمبلی ریاض حیدر
https://www.nopnewstv.com/all-the-ppp-ministers-are-spending/