تازہ ترین
Home / اہم خبریں / قدیم جامعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور دینی اور عصری علوم کے ساتھ ساتھ تھیٹر گروپ کے ذریعے لوگوں کو محظوظ بھی کراتے ہیں

قدیم جامعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور دینی اور عصری علوم کے ساتھ ساتھ تھیٹر گروپ کے ذریعے لوگوں کو محظوظ بھی کراتے ہیں

بہاولپور (رپورٹ: گل حماد فاروقی) چولستانی حطے میں سب سے قدیم جامعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں اگر ایک طرف مختلف دینی و عصری علوم پڑھائے جاتے ہیں تو دوسری طرف اس یونیورسٹی میں لوگوں کے درمیان خوشیاں بانٹنے کیلئے تھیٹر گروپ بھی تیار کروایا جارہا ہے۔ یونیورسٹی کے مین آڈیٹوریم میں طلبا و طالبات پر مشتمل ایک ایسا گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو ملک کے نامور گلوکاروں کے مشہور گیتوں پر پرفارمنس(یعنی روایتی رقص) پیش کرتے ہوئے لوگوں کو محظوظ کراتے ہیں۔ اس گروپ نے فیض احمد فیض کی مشہور غزل بہار آئے جو ٹینا ثانی نے گایا ہے اس پر نہایت بہترین انداز میں پرفارمنس پیش کرکے تماشائیوں سے داد حاصل کی۔ اس گروپ میں شامل طلباء و طالبات جو ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد حصول علم کے ساتھ ساتھ تھیٹر میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کو چند لمحوں کیلئے خوشیاں فراہم کرانا ہے تاکہ وہ کچھ وقت کیلئے دنیا کے غم بھول جائیں۔ بلوچستان سے آئے ہوئے ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ اس میں خود اعتمادی پیدا ہوئی اور اس گروپ میں اس نے جو کچھ سیکھا وہ بطور تحفہ بلوچستان لے جاکر دوسروں طالب علموں تک منتقل کرائے گا۔
آغا صادق مہدی جو تھیٹر میں 21 گروپ کے ڈائریکٹر اور ایف ایم ریڈیو کے سینئر پروڈیوسر ہے ان کا کہنا ہے اس سے طلباء میں خود اعتمادی فروغ پاتی ہے۔ وہ اپنے اندر کی صلاحیت کو مزید نکھاریں اور اپنی ذات، علاقے اور اپنی ثقافت کو اجاگر کرانا چاہتا ہیں یا سیاحت کو فروغ دینا چاہتا ہیں تو اس کیلئے علاقائی ثقافت کو بہتر انداز میں پیش کرنا چاہئے۔ اس جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ اس یونیورسٹی کو ہر لحاظ سے خود کفیل بنائیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اگر ایک طرف عصری اور دینی علوم پڑھانے میں بہترین خدمات سرانجام دیتی ہے جس سے لوگوں کی جذبہ ایمانی کو جلا بخشتی ہے اور علم کے متلاشیوں کا پیاس یہاں بھجتی ہے تو دوسری طرف پریشانی کے اس دور میں اپنے تھیٹر 21 گروپ کے ذریعے چند لمحوں کیلئے لوگوں سے ان کا غم بھلا دیتے ہیں جو یقینی طور پر قابل تحسین ہے۔ جنوبی پنجاب کے اس ریگستانی خطے میں قائم اس قدیم یونیورسٹی کی علمی خدمات کے ساتھ ساتھ فنی اور پیشہ ورانہ خدمات کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے