پولیس کی سرپرستی میں کارروائی، ایس ایچ او کی اپنی عدالت!
ساہیوال / چیچہ وطنی (رپورٹ حیدر علی) غلام نبی ولد حبیب خان، چک نمبر 1-54/12 تحصیل چیچہ وطنی کے محنت کش زمیندار کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے پولیس نے مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے تمام حدود پار کر لیں۔ متاثرہ زمیندار انصاف کی تلاش میں آئی جی پنجاب کے دفتر پہنچ گیا۔
ذرائع کے مطابق 19 جون 2025 کی شام 7:15 بجے تھانہ اوکانوالہ بنگلہ کے ایس ایچ او سخی محمد کمیانہ، اے ایس آئی زاہد فاروق، مہر ریاض اور دیگر اہلکاران نجی مسلح افراد کے ہمراہ بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں پر سوار ہو کر غلام نبی کے گھر داخل ہوئے۔ گھر میں گھس کر چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا اور عدالتی حکم امتناعی کی مصدقہ نقل پھاڑ دی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق غلام نبی اور اس کے بیٹے محمد عاطف کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خواتین سے بدتمیزی اور گالم گلوچ کی گئی۔ دونوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے سرکاری گاڑی میں تھانے لے جایا گیا اور کئی گھنٹے حبسِ بےجا میں رکھا گیا۔ اس دوران ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
متاثرہ خاندان نے انکشاف کیا کہ اس کارروائی کے دوران ان کی لائسنس یافتہ .222 بور رائفل (250 گولیوں سمیت) اور سات تولہ طلائی زیورات غائب ہو گئے۔ غلام نبی کی ملکیتی زمین پر نصب بورڈ بھی توڑ دیا گیا۔
صورتحال مزید بگڑ گئی جب 23 جون کو مبینہ طور پر ایس ایچ او سخی کمیانہ نے بااثر افراد سفیان اقبال، محمد علی، محمد پرویز، محمد جمیل اور دیگر کے ساتھ ملی بھگت کر کے پولیس فورس کے ذریعے زبردستی زمین پر قبضہ کروا دیا۔ غلام نبی کی جانب سے 15 پر کال کرنے پر الٹا اسے اس کے ہی ڈیری فارم پر لے جا کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دیگر دیہاتیوں کو بھی حوالات میں بند کر دیا گیا۔
میڈیا نمائندہ کی مداخلت پر غلام نبی سے زبردستی یہ تحریر لی گئی کہ وہ یہ معاملہ کسی فورم پر نہ اٹھائے۔ ایس ڈی پی او اور ڈی ایس پی سلیم بھی اس صورتحال سے باخبر تھے مگر خاموش تماشائی بنے رہے۔
مطالبات:
غلام نبی نے آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ:
ایس ایچ او سخی کمیانہ اور ملوث پولیس اہلکاران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
الزامات میں حبسِ بےجا، چادر و چار دیواری کی پامالی، تشدد، توہینِ عدالت، اسلحہ و زیورات کی چوری، اور زمین پر قبضہ شامل ہیں۔
پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 155 کے تحت محکمانہ کارروائی بھی کی جائے۔
گواہان:
فقیر ولد نور محمد اور محمد شفیق ولد شریف محمد نے بھی وقوعہ کی تصدیق کی ہے۔
ردعمل:
متاثرہ خاندان نے اعلان کیا ہے کہ اگر انصاف نہ ملا تو وہ لاہور ہائی کورٹ اور تمام میڈیا فورمز پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے اس واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔