کراچی، (رپورٹ ذیشان حسین) صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سیسی کے زیر انتظام صوبے بھر کے اسپتالوں میں محکمہ صحت کے سی ڈی سی کے تعاون سے ایچ آئی وی اسکریننگ جاری ہے انہوں نے بتایا کہ ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کی تحقیقات کرنے والی کمیٹیوں کی سفارشات پر 37 ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور افسران کو حتمی شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ مجرمانہ غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ایف آئی آر بھی درج کرائی جائے گی وہ کراچی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے اجلاس کو بریفنگ دے رہے تھے۔
سعید غنی نے بتایا کہ ولیکا اسپتال میں کیسز سامنے آنے کے بعد اسپتال اور اطراف کی آبادیوں میں 10 ہزار 500 سے زائد افراد کی اسکریننگ کی گئی جن میں 120 افراد ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے ان میں 81 بچے سیسی کے رجسٹرڈ ملازمین کے ہیں جبکہ باقی 39 بچوں کا سیسی ملازمین سے تعلق نہیں تاہم حکومت نے تمام متاثرہ بچوں کے علاج کی ذمہ داری اٹھائی ہے انہوں نے بتایا کہ احتیاطی اقدام کے طور پر لانڈھی اسپتال اور گرد و نواح میں بھی 7 ہزار 500 افراد کی اسکریننگ کی گئی، جس میں 21 مثبت کیسز سامنے آئے جن میں سے بعض کے وائرس میں مبتلا ہونے کی بیرونی وجوہات بھی سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچوں کے علاج کے لیے ملک کے ممتاز ڈاکٹروں اور اسپتالوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے سیسی کے تحت دو ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے جس کی نگرانی ایک آزاد کمیٹی کرے گی سعید غنی نے واضح کیا کہ اس معاملے میں ملوث کسی بھی فرد کو رعایت نہیں دی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔