کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے تحت شہر میں خونی ڈمپرز، ٹینکرز اور ہیوی ٹریفک کے باعث بڑھتی اموات، ای چالان کے نام پر عوام سے مبینہ لوٹ مار، تباہ حال انفراسٹرکچر اور حکومتی بے حسی کے خلاف نمائش چورنگی پر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ دھرنے کے شرکاء نے سندھ حکومت، ٹریفک پولیس اور بے لگام ٹینکر و ڈمپر مافیا کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اور ٹریفک پولیس نے ڈمپرز اور ٹینکرز مافیا کو شہریوں کے قتل کا لائسنس دے رکھا ہے۔ گزشتہ دنوں ٹریفک حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے، جبکہ حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای چالان کے نام پر عوام پر پانچ ہزار سے بیس ہزار روپے تک کے بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے 173 ناقابلِ رہائش شہروں میں کراچی کا 170 واں نمبر سندھ حکومت اور قابض میئر کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ پیپلز پارٹی گزشتہ 17 برس سے کراچی کے وسائل پر قابض ہے اور شہر کو اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا۔ بی آر ٹی اور انڈر پاس منصوبوں کے نام پر شہریوں کو اذیت میں مبتلا کیا گیا ہے جبکہ کوئی بھی منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہو سکا۔
جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ای چالان کے معاملے پر کمیٹیاں بنا کر محض وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ ہم ای چالان کے خلاف نہیں بلکہ مناسب اور قابلِ برداشت جرمانوں کے حق میں ہیں۔ پہلے شہریوں کو سہولیات فراہم کی جائیں، اس کے بعد جرمانے نافذ کیے جائیں۔
احتجاجی دھرنے سے جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، جبکہ دھرنا جاری ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان اختتامی خطاب میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔