لاہور کے دل میں بدامی باغ ایک ایسا زخم بن چکا ہے جس پر کسی نے پٹی نہیں رکھی۔۔۔ صرف پردہ ڈال دیا ہے۔
ہم گئے وہاں۔۔۔
نہ مخبری پر، نہ ادارے کے ساتھ، بلکہ انسان کے اندر جاگے ہوئے ضمیر کے حکم پر۔
ایک بوسیدہ دروازہ، جو دن میں بند، رات کو کھلا —
اندر داخل ہوتے ہی دیواروں پر کپڑوں کے سائے نہیں، سسکیوں کی نمی تھی۔
کمرے چھوٹے تھے، مگر گناہ کا رقبہ وسیع۔
ایک طرف لڑکیاں تھیں، دوسری طرف بوڑھی "مالکائیں”، اور درمیان میں زندہ دفن ہوتی ہوئی عزتیں۔
کوئی تیسری بار آئی تھی، کوئی پہلی —
مگر ہر چہرے پر ایک ہی ماتم تھا:
"ہم بک چکی ہیں، اب صرف قسطیں باقی ہیں۔”
کیا یہ خبر کم ہے؟
کہ روزانہ دس سے پندرہ لڑکیاں لاہور کے جسم فروش اڈوں پر "سہولت کاری” کے تحت لائی جاتی ہیں؟
کیا یہ کافی نہیں کہ بعض وردی والے بھی اس خاموش تجارت کے خاموش تماشائی ہیں؟
قانون نافذ کرنے والے اداروں سے خالصتاً مودبانہ مگر باوزن اپیل:
IG پنجاب، DIG آپریشنز، SP CITY Lahore
ہم آپ کے احترام کے پابند ہیں۔
ہم جانتے ہیں آپ کے قلم میں قانون ہے، آپ کے عہدے میں اختیار، اور آپ کے عہد میں آئین۔ ہم آپ سے جھولی پھیلا کر رحم نہیں مانگ رہے
ہم آپ کے ضمیر کو ایک "ویڈیو” نہیں، زندہ لاش دکھا رہے ہیں۔
براہِ کرم، اس بدبو دار دھندے پر ایک بار نظر ڈال لیجیے۔
ان اڈوں پر، ان گلیوں پر، ان دروازوں پر —
جہاں پردہ صرف اس وقت ہٹتا ہے جب غیرت مر چکی ہو۔
ہم جانتے ہیں کہ ہو سکتا ہے آپ تک یہ چیخیں نہ پہنچی ہوں۔
ہم پہنچا رہے ہیں۔
اب فیصلہ آپ کا ہے —
کہ آپ اس خاموش طوفان پر حرکت کریں
گے یا آئندہ تاریخ میں یہ سطر آپ کے ضمیر کی فائل پر درج ہوگی کہ “جب وقت تھا، وہ خاموش رہا۔”
نوائے حق کا عہد:
ہم سیاست نہیں کرتے، ہم صحافت کرتے ہیں —
اور وہ صحافت جو قبر کی مٹی کو بھی الفاظ میں نچوڑ کر رکھ دے۔
آج ہم نے اپیل کی ہے، ادب سے، عزت سے، اختیار کے احترام سے۔
کل اگر اس آواز پر کان نہ دھرے گئے، تو نوائے حق کی اگلی اشاعت میں نام بھی ہوں گے، ثبوت بھی، اور سوال بھی۔
—