ملتان(ایڈیٹر نیوز آف پاکستان ۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ) سابق صدر ایوان تجارت و صنعت ملتان میاں راشد اقبال نے کہا کہ حکومت بجٹ میں شامل تجارت دشمن شقوں کو واپس لے ،بصورت ملتان و دیگر ملک بھر کے صنعتکار اور تاجر سراپا احتجاج ہونگے انہوں نے کہا کہ موجودہ فنانس ایکٹ میں شامل کیے گئے کاروبار دشمن اقدامات نے صنعت و تجارت کی فضا کو شدید طور پر متاثر کیا ہے اور اب خاموشی کا مطلب معیشت کی مزید بربادی ہوگا۔ حکومت نے جو سخت اور غیر عملی پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، وہ تاجر، ایس ایم ایز اور صنعتکار سب کے لیے ناقابل قبول ہیں۔نقد لین دین پر پابندی، بلاجواز گرفتاری کے اختیارات، اور ڈیجیٹل انوائسنگ جیسے اقدامات کاروبار کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری طبقے کو مشورے میں شامل کیے بغیر یکطرفہ فیصلے کرنا پالیسی سازوں کی دور اندیشی کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ رویہ ملکی معیشت کو غیر رسمی اور غیر منظم شعبوں کی طرف دھکیل رہا ہے۔میاں راشد اقبال نےحکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر فنانس ایکٹ میں شامل ان غیر منطقی شقوں کا نظرِثانی کرے عدالت پہلے ہی 2012 اور 2024 میں سیکشن 37-A کو کالعدم قرار دے چکی ہے، حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئے ٹیکس قوانین اور ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کو فوری طور پر واپس لیا جائے،صنعت کاروں اور تاجر برادری سے سنجیدہ مشاورت کا آغاز کرے۔انہوں نے کہا کہ ملتان سمیت ملک بھر کی صنعت و تجارت سے وابستہ تنظیمیں اس پرامن احتجاج کے ساتھ کھڑی ہیں، تاکہ حکومت کو واضح پیغام دیا جا سکے کہ کاروباری مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ میاں راشد اقبال نے کہا کہ یہ صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ معیشت کے تحفظ کی جدوجہد ہے جس میں پورا کاروباری طبقہ متحد ہے۔
Home / Home / حکومت بجٹ میں شامل تجارت دشمن شقوں کو واپس لے، بصورت ملتان و دیگر ملک بھر کے صنعتکار اور تاجر سراپا احتجاج ہونگے
Tags Dr.Ghulam Murtaza پاکستان پنجاب ڈاکٹر غلام مرتضیٰ کمالیہ