کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان میں 20 لاکھ مرگی کے مریضوں کو تکلیف دہ سماجی مسائل کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔ مہنگی ادویات علاج میں تاخیر کا سبب اور متاثرہ مریض کے لواحقین کیلئے اضافی مالی بوجھ کا سبب بنتی ہیں۔ اس بیماری کے بارے میں ہمارے معاشرے میں موجود شدید توہمات سے مرگی کا مریض متاثر ہوتا ہے۔ یہ بیماری خواتین کو طلاق اورشادی کیلئے رشتوں سے انکار کا سبب بنتی ہے، مرگی کے مریض کی شادی یا علیحدگی دونوں صورتوں میں معاشرے پر مزید بوجھ پیدا کررہی ہیں۔ ادویات میں سبسڈی کی منصوبہ بندی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار اظہاردماغی امراض کے ماہرین نے نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے زیراہتمام کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس کا مقصد ڈاکٹروں اور عوام کو مرگی (ایپی لیپسی) کے مرض سے متعلق آگہی اور ان میں اس مرض کے متعلق توہمات کا خاتمہ کرنا ہے۔ آگاہی سیمینار سے نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے صدر پروفیسر محمد واسع شاکر، ماہر امراض مرگی اور نیورو لوجسٹ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی، ڈاکٹر عبد المالک نے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نامور ماہرامراض دماغ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع شاکر نے کہا کہ پاکستان میں مرگی کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انفیکشن زیادہ ہیں۔ ٹی بی، ٹائیفائیڈ، گردن توڑ بخار اس کی اہم وجوہات ہیں جبکہ سر میں چوٹ، دماغ کے اندر انفیکشن، شوگر اور بلڈ پریشر، مختلف نمکیات کے کم یا زیادہ ہونے اور الکوحل کے استعمال سے بھی مرگی کا مرض ہوتا ہے۔ یہ مرض ابتدائی عمر جوانی اور 50 سال کے بعد بھی ہوسکتا ہے۔ بچپن میں انفیکشن یا آکسیجن کی کمی سے بھی یہ ہوتا ہے۔ 50 سال کے بعد مرگی ہونے کی اہم وجہ ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور برین ٹیومر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرگی ایک کمزور اعصابی بیماری ہے اس کے علاج کیلئے متعدد خرافات و افسانوی باتوں کو ترک کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس مرض میں مریض کے شعور میں اچانک کمی کی وجہ سے شدید جھٹکے لگتے ہیں اور جسم سخت ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں مرگی کے مریضوں کی تعداد ایک فیصد جبکہ پاکستان میں دو فیصد ہے۔ یہ مرض 30 سال سے کم عمر کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ مرض دیہی علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جس کا ثبوت 27.5 فیصد دیہی اور 2.9 فیصد شہری علاقوں میں مرگی کے مرض کا پایا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرگی ایک بیماری ہے جو قابل علاج ہے جس کے علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہے ڈاکٹر محمد واسع شاکر نے کہا کہ اِس ضمن میں حکومت کی بے حسی اہم ہے کہ جہاں اتنے بڑے پیمانے پر لوگ بیمار ہیں یا مر رہے ہیں (کیونکہ یہ بیماری مہلک بھی ثابت ہوسکتی ہے) اور حکومت کی طرف سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ جتنے اقدامات متعلقہ سوسائٹیز نے تجویز کئے کہ پاکستان میں اِس بیماری کو روکنے کے لئے کیا اقدامات ہونے چاہئیں، اُن پر عمل نہیں ہوسکا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کی تجاویز دیگر ممالک میں نافذ ہوچکی ہیں، جن میں انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا بھی شامل ہیں۔ اِن ممالک میں تو حکومت نے اِس بیماری کے لئے باقاعدہ سرکاری سطح پر ٹاسک فورس قائم کی ہیں جس میں اِس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ بیماری کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن پاکستان میں چونکہ وفاقی سطح پر وزارتِ صحت عملاً فنکشنل نہیں ہے، اس لئے کوئی اقدامات بھی نہیں کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ ہماری قوم میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ مرگی کا علاج ممکن ہے اور وزارت صحت کو اس مہم میں کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ اس مرض کے مریضوں کو علاج اور ادویات کی سہولت مہیا جاسکیں۔ انہوں نے کہ مرگی پاکستان میں ایک عام طبی مسئلہ ہے۔ زیادہ متاثر دیہی آبادی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر 1.5 تا 2 ملین افراد پاکستان میں مرگی کا شکار ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں مرگی کے شکار مریضوں کے ساتھ لوگوں کی اکثریت ناکافی یا نامناسب سلوک کرتی ہے۔ ہمارے ملک میں مرگی کے 48200 مریضوں کے لئے صرف ایک نیورو لوجسٹ دستیاب ہے جو مرگی کے علاج کو اور بھی سخت بنا دیتا ہے۔ مرگی کی شکار نوجوان خواتین سے شادی نہیں کی جاتی کیونکہ اسے بدنامی تصور کیا جاتا ہے اور بچوں کو اسکول سے نکال لیا جاتا ہے جوکہ سماجی تنہائی اور ڈپریشن کا باعث بنتا ہے جبکہ یہ قابل علاج مرض ہے اور 70 فیصد مریضوں میں مکمل صحتیابی کے ساتھ علاج ممکن ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے بیداری مہم پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ اِس مرض کے بارے میں جامع تحقیقات ہوچکی ہیں اور تمام ماہرین دماغ و اعصاب اِس مرض کو قابلِ علاج قرار دے چکے ہیں۔ اس لئے ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اِس حوالے سے آگہی و شعور پھیلائیں تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکے۔ اِس کے ساتھ ساتھ جب یہ آگہی پیدا ہو تو اِس کے نتیجے میں ایسے اقدامات کئے جائیں کہ جس میں اِس بیماری کی شرح کو قابو کیا جاسکے، جو بیماری بڑھ رہی ہے اس کو روکا جاسکے اور جن کو یہ بیماری ہے اُن کا علاج کیا جاسکے نیورولوجی اویرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کی جانب سے پاکستان میں اِس مرض کی ماہر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اس حوالے سے قومی گائڈ لائنز برائے مرگی بھی تیار کی ہیں جوکہ ملک بھر کے تمام جنرل پریکٹیشنز کو اِس مرض کے علاج میں ہر لحاظ سے معاونت کے لئے تیار کی گئی ہیں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ ہم نارف کے تحت گذشتہ دس سال سے مرگی کے علاج کاور آگہی سے متعلق ملک بھر میں مختلف مواقع کے پر آگہی کے پروگرامات منعقد کیے جاتے رہے ہیں تاکہ اس معاشرے کو اس مرض کے متعلق آگہی دے کر اس مرض پر قابو پانے میں مدد کی جاسکے جس سے وہ اس معاشرے کا ایک کارآمد فرد بن سکتا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت مرگی کی ادویات میں سبسڈی دے تاکہ ادویات اور تشخیص کی قیمتیں کم اور مریضوں کی پہنچ میں ہوں تاکہ وہ اپنا اور اپنے پیاروں کا بروقت علاج کروا سکیں۔ انہوں نے کہا حکومت کے کرنے کا کام یہ ہے کہ مریضوں کے لئے مرگی کی دوائیاں دستیاب ہونی چاہئیں۔ کبھی کوئی دوا کم یاب ہے کبھی کوئی۔ ایک مریض کو اگر دوا میسر نہ ہو تو اُس کا سارا توازن بگڑ جاتا ہے۔ دو، تین سال دورے کنٹرول میں رہتے ہیں پھر دوبارہ شروع ہوجاتے ہیں۔ اِس لئے کہ دوا مارکیٹ سے غائب ہوجاتی ہے۔ یہ ذمہ داری ہے چاہے وہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ہو یا حکومت، انہیں اِس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جو زندگی بچانے والی ادویات ہیں، وہ باآسانی دستیاب ہوں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مرگی کے مریضوں کا نہ صرف علاج کیا جائے بلکہ اُن کی ووکیشنل ٹریننگ کرکے معاشرے کا ایک کارآمد فرد بنایا جائے، جو اپنی نجی زندگی کے ساتھ ملک کی بہتری میں بھی اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ڈاکٹر غلام مصطفی خانزادہ نے کیا کہ ہمارے ہاں پاکستان میں لوگ اس بیماری کو لاعلاج سمجھ کر مایوس ہو جاتے ہیں لیکن اس مرض کا شکار دنیا بھر میں خود ڈاکٹرز حضرات بھی ہیں، کئی تو پی ایچ ڈیز ہیں، انجینئرز ہیں، فیکٹریوں میں کام کرنے والے ہیں، طلبہ ہیں، گھر میں رہنے والی خواتین ہیں جو بچے پالتی ہیں۔ یہ سب اِس مرض کے ہوتے ہوئے نارمل زندگی گزار رہے ہیں، صرف اس لئے کہ ادویات کے استعمال سے انہوں نے مرگی کی بیماری کو قابو کر رکھا ہے۔
![]()