ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) خیبر پختونخوا میں دوہری شہریت کے حامل محکمہ تعلیم، صحت سمیت دیگر محکموں کے افسران کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ان کے عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا سول سرونٹ ایکٹ 1989 کے رولز میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے- ترامیم کے بعد ممکنہ طور پر کاروائی کیا جائے گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق برطانیہ سمیت انیس ممالک سے ایسے معاہدے رکھتے ہیں جس کے تحت فرانس، اٹلی، بلجیئم، آئس لینڈ، فن لینڈ، ڈنمارک، ہالینڈ، سویڈن، بحرین میں شہریت رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو اجازت دی گئی ہے۔
ان ممالک کے شہریت چھوڑنے کی اجازت دینا یا نہ دینا وفاقی حکومت کی اپنی صوابدید ہے۔ اس کے لئے حکومت چاہے تو دی گئی اجازت واپس لے سکتی ہے۔ سرکاری ملازمین رولز 1902 میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی شہری کسی بھی غیر ملکی سے شادی کرکے شہریت حاصل کرسکتا ہے اسکے لئے شق 3 کے تحت وفاقی حکومت سے اجازت لینا ہوگی۔