تازہ ترین
Home / اہم خبریں / گیس کی بندش قبول نہیں، 30 جنوری کو شہر بھر میں بیک وقت 50 مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن

گیس کی بندش قبول نہیں، 30 جنوری کو شہر بھر میں بیک وقت 50 مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت اور اسکے وزرا کی نااہلی سے اپنی تاریخ کا بدترین گیس بحران کا سامنا ہے ندیم بابر اور تابش گوہرصنعتی و تجارتی صارفین کو مجبور کررہے ہیں کہ وہ کے الیکٹرک و دیگر آئی پی پیز سے مہنگے داموں بجلی خریدیں اور اپنی گیس سے بجلی بنانا بند کریں، صنعتی و گھریلو گیس کی بندش کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، 30 جنوری کو شہر بھر میں بیک وقت 50 مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے، دھرنے میں گھریلو اور صنعتی اداروں کو گیس کی فراہمی کے لیے بھی احتجاج کیا جائے گا۔ امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا ادارہ نورحق میں شہر قائد میں گیس کے بڑھتے ہوئے بحران، گھریلو و صنعتی صارفین اور سی این جی سیکٹرز کو گیس کی عدم فراہمی کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال اور دیگرمسائل کے حوالے سے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مختلف رہائشی علاقوں میں گیس کی دس سے بارہ گھنٹے غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے، حکومتی فیصلوں نے مزدوروں کیساتھ ساتھ شہریوں کے گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے کردیئے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت اور اسکے وزرا کی نااہلی سے اپنی تاریخ کا بدترین گیس بحران کا سامنا ہے شہر میں صنعتوں کے ساتھ گھریلو صارفین کو بھی گیس کے بدترین بحران سے پریشان ہیں، صنعتوں کو گیس کی فراہمی بند کرنے کا مطلب صنعتوں کو بند کرنا ہے ندیم بابر اورینٹ گروپ میں سب سے زیادہ شئیرز رکھتے ہیں اورینٹ گروپ تیل و بجلی پیدا کرنے کا بزنس کرتا ہے اور وہ ایس این جی سی کا سب سے بڑا نادہندہ ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تابش گوہر کے الیکٹرک کے سابق چئیرمین اور ابراج گروپ اور بائیکو کمپنی کے ڈائیریکٹر رہے ہیں ندیم بابر اور تابش گوہر صنعتی و تجارتی صارفین کو مجبور کررہے ہیں کہ وہ کے الیکٹرک و دیگر آئی پی پیز سے مہنگے داموں بجلی خریدیں اور اپنی گیس سے بجلی بنانا بند کریں، وزیراعظم عمران خان کی ٹیم میں شامل اور ان کے معاون خصوصی ندیم بابر اور تابش گوہر کو فائدہ پہنچانے کے لیے اس طرح کے اقدامات کررہے ہیں، حکومت آئی پی پیز کو رپورٹ کو منظر عام پر کیوں نہیں لاتی؟۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی و گھریلو گیس کی بندش کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، وزیر اعظم اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل افراد پر اجلاس بلاکر تاجروں سے تحریری معاہدہ کرے، حکومت جب کے الیکٹرک کو 200 ایم ایم گیس فراہم کرسکتی ہے تو صنعتی اداروں کو 150 ایم ایم گیس کیوں نہیں دے سکتی ہے جبکہ صنعتی ادارے 54 فیصد ایکسپورٹ کررہے ہیں، کے الیکٹرک شدید سردی میں بھی 30 فیصد علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کررہا ہے تو گرمیوں میں شہر تاریکیوں میں ڈوب جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک جاری ہے، 30 جنوری کو شہر بھر میں بیک وقت 50 مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے، دھرنے میں گھریلو اور صنعتی اداروں کو گیس کی فراہمی کے لیے بھی احتجاج کیا جائے گا، ندیم بابر اور تابش گوہر کے ذاتی مفادات مخصوص بجلی، گیس اور تیل کمپنیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں آئین آرٹیکل 158 کے تحت جس صوبے سے گیس نکلتی ہے اسکا پہلا حق ہے لہذا کراچی سمیت سندھ بھر کو پہلے گیس فراہم کی جائے۔ پریس کانفرنس سے سائیڈ انڈسٹریل ایریا کے صدر ہادی، کاٹی (کورنگی انڈسٹریل ایسوسی ایشن) کے صدر سلیم الزماں، سائیڈ سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا ایسوسی ایشن کے صدر انجینئر نثار احمد، نارتھ کراچی انڈسٹیل ایریا ایسوسی ایشن کے صدر فیصل معیز، فیڈرل بی ایریا انڈسٹریل ایریا ایسوسی ایشن کے صدر محمد علی سمیت میں مختلف صنعتکار اور صنعتی شعبے کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے