میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) میرپورخاص کی ضلعی عدالت کے احاطے میں ہاٸیکورٹ بینچ کے قیام کی ہفتہ وار وکلاء احتجاجی تحریک کے مسلسل چھٹے جمعے و عید قرباں کے تیسرے روز شدید ترین گرم موسم کے باوجود کیمپ میں بار کے معزز صدر میر پرویز اختر تالپور، سندھ بار کونسل کے رکن ایڈوکیٹ میر نعیم ٹالپور، سابق رکن سندھ بار کونسل ایڈوکیٹ شیر محمد وسان، معروف ایڈوکیٹ حاجی قلندر بخش لغاری، ایڈوکیٹ رانا محمود احمد، ایڈوکیٹ نواب کاکا، لائبرین سیکریٹری ایڈوکیٹ وقار ملک، ایڈوکیٹ مجیب شر، ایڈوکیٹ میر نور محمد ٹالپور، ایڈوکیٹ بھورومل بھیل، ایڈوکیٹ ریاض شیخ، ایڈوکیٹ ولایت قریشی، ایڈوکیٹ خان محمد پھنور، ایڈوکیٹ میڈم نظیراں سومرو، انصاف لیبر ونگ کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری سندھ و پاکستان شیڈول کاسٹ الائنس کے کوآرڈینیٹر ایڈوکیٹ سرون کمار بھیل، ممبر مینیجنگ کمیٹی ایڈوکیٹ ڈی کے مالہی، ایڈوکیٹ تلوک چند بھیل، ایڈوکیٹ فیاض لغاری، ایڈوکیٹ راشد علی شاہ، ایڈوکیٹ پیر جھنڈل شاہ، ایڈوکیٹ میر قادر ٹالپور، ایڈوکیٹ رئیس، ایڈوکیٹ حسن سیال، ایڈوکیٹ تیمور قریشی، ایڈوکیٹ حسان قیصر، ایڈوکیٹ منومل میگھواڑ، ایڈوکیٹ وشن داس، ایڈوکیٹ محفوظ لغاری، ایڈوکیٹ وجے مہیشوری، ایڈوکیٹ رمز مری، ایڈوکیٹ شاہنواز جوکھیو، ایڈوکیٹ مدھو شرما، ایڈوکیٹ گیانچند، ضلعی وکلاء بار و ایوان صحافت کے روح رواں اور ڈویژن کی موثر عملی صحافت کی منفرد و ہر دل عزیز شخصیت فلک شیر اور انکی کاوشوں سے دیگر میڈیا نماٸندگان، ایوان صحافت کی کوٸیک رسپانس میڈیا ٹیم سمیت دیگر وکلاء نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء نے خطاب کرتے ہوٸے کہا کہ ہم نے یہ کیمپ کا سامان خرید کرلیا ہے جس سے ہمارے عزم کا اندازہ ہوجانا چاہیے کہ ہم اپنے جاٸز آٸینی حق ہاٸیکورٹ بینچ کے قیام کے مطالبے کی منظوری تک اس احتجاج کو جاری رکھیں گے ہمیں مجبور نہ کیا جاٸے کہ ہم مستقبل میں عدالتی کاروائیوں کا باٸیکاٹ کریں سڑکوں پر احتجاج کریں ہم اپنے غریب ساٸلین اور شہریوں کو اذیت نہیں دینا چاہتے یہ ہمارا نہیں پچاس لاکھ کی غریب آبادی کا مطالبہ ہے۔ ضلعی بار کے صدر میر پرویز اختر تالپور و سندھ بار کونسل کے ممبر میر نعیم تالپور سمیت احتجاجی کیمپ کے تمام وکیل شرکاء نے گذشتہ روز لطیف آباد 8 نمبر میں پیش آٸے انسانیت سوز واقعے جس میں واپڈا ٹرانسفارمر پھٹنے سے سات قیمتی جانوں کا نقصان اور گیارہ تاحال زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا شہریوں کی درد ناک حالت کی شدید مذمت کرتے ہوٸے کہا کہ گذشتہ کٸی سالوں سے حیسکو کی انتظامی حالت یہ ہے کہ وسائل ہیں تو اختیارات نہیں، اختیارات ہیں تو وسائل نہیں اگر کہیں دونوں اکٹھے ہو جائیں تو دیانت اور اہلیت کا فقدان بحرانوں پر بحران جنم لے رہے ہیں مسلط کیے گٸے حیسکو چیف ریحان حمید نے بوسیدہ نظام کی بحالی کی بجاٸے اب شہریوں کی قیمتی جانوں سے کھیلنا شروع کردیا ہے اس سے پہلے واقعے میں بھی تین معصوم بچے شہید ہوچکے ہیں اس واقعے سے عبرت کی بجاٸے اس کا بھیانک، درناک اور ظالمانہ جان لیوا تسلسل جاری ہے انصاف کی حامی حکومت اس چیف کو فوری ہٹاٸے اور اسے گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا جاٸے تاکہ غریب لواحقین کو انصاف مل سکے اور انہیں فوری معاوضہ بھی ادا کیا جاٸے ضلعی بار نے لطیف آباد واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔