کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ کورونا وبا سے متاثرہ مریضوں کیلئے قائم کئے گئے قرنطینہ مراکز کی حالت زار جیلوں سے بھی بدتر ہے۔ چیف جسٹس پاکستان سے اپیل ہے کہ فوری نوٹس لیں، حکومت قرنطینہ سینٹرز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائے۔ قرنطینہ کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے اور اس عمل کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ قرنطینہ مراکز میں کی جانے والی کرپشن منظر عام پر آرہی ہے، اس کا نوٹس کون سی اتھارٹی لے گی، عوام کو بتایا جائے؟ صوبوں اور وفاق کی بیڈ گورننس نے قرنطینہ سینٹرز کو بھی نہیں بخشا ہے۔جیلوں میں قیدیوں اور اہلخانہ سے رشوت کی طرح قرنطینہ سینٹرز میں بھی رشوت کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ بیرون ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کو بلا وجہ تنگ کیا جا رہا ہے، ہوٹلز میں ٹھہرا کر ٹیسٹ رزلٹ کے بہانے کئی کئی دن مقیم رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس طرح لاک ڈاؤن میں بھی ہوٹلوں کو کاروبار جاری رکھنے کا موقع کس قیمت پر فراہم کیا جارہا ہے؟ جیلوں کی طرح قرنطینہ سینٹرز میں بھی ضروریات کی چیزیں اور عزیز و اقارب سے ملاقات کے لئے نذرانے وصول کرنے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ کورونا کے مریضوں اور متاثرین کی داد رسی کی جائے۔ کورونا ٹیسٹ لینے والی ٹیم کے تاخیر سے پہنچنے کی شکایات عام ہیں۔ فوری ٹیسٹ کے بعد رزلٹ نیگیٹو آنے کی صورت میں بھی گھروں کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ حکومتی انتظامی افسران اور سیکیورٹی پر معمور اہلکار، ہوٹلز اور ہسپتال کورونا وبا کو کمائی کا ذریعہ بنا کر اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بیرون ممالک سے قیمتی زر مبادلہ بھیجنے والے پاکستانیوں کو مشکل حالات میں کرپٹ حکام کے حوالے نہ کیا جائے۔ پاسبان کا مطالبہ ہے کہ قرنطینہ سینٹرز کی حالت زار بہتر بنائی جائے، مسافروں اور مریضوں کے ساتھ کی جانے والی کرپشن کا سد باب کیا جائے۔ عام مریضوں کو کورونا مریض ظاہر کرنے والے ڈاکٹرز اور عملے کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔ کورونا مریضوں کے لئے قائم کئے گئے قرنطینہ سینٹرز اور بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کے ساتھ ناروا سلوک پر پاسبان ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی ٹیلیفون کالز اور شکایات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ قرنطینہ کا مطلب ہے کہ متاثرہ مریض کو باقی لوگوں سے علیحدہ رکھا جائے تاکہ بیماری دوسروں تک منتقل نہ ہو سکے جبکہ ہمارے یہاں اس کا مطلب ہے کہ تمام مشتبہ مریضوں کو ایک ساتھ بھیڑ بکریوں کی طرح ایک کھونٹے سے باندھ دیا جائے۔ دنیا بھر میں حکمرانوں کی پہلی ترجیح عوام کے مسائل کا حل ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے یہاں حکمران طبقات کی ترجیح ملکی دولت کی لوٹ مار سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والا رویہ کورونا وبا اور لاک ڈاؤن میں بھی جاری ہے۔ کئی عشروں سے عوام طبی سہولیات سے محروم ہیں لیکن عالمی وباء کورونا کے دوران صورتحال مزید بد تر ہو گئی ہے۔ پاسبان کو موصول ہونے والی متعدد شکایات میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری قرنطینہ میں رہنے والوں کی حالت اور بھی زیادہ ابتر ہے۔ اسکریننگ نہیں کی جا رہی، سہولیات اور صفائی ستھرائی کا شدید فقدان ہے، واش رومز کی حالت انتہائی خراب ہے۔ قرنطینہ کے نام پر کئی کئی افراد کو ایک ساتھ بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مرض کا تیزی کے ساتھ پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ حکمران وباء کے دور میں بھی انسانی جانوں اور اموات پر سیاست کرنا بند کریں۔ عام مریضوں کو کورونا مریض بنا کر موت کے منہ میں نہ دھکیلا جائے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات کے مطابق قرنطینہ سینٹرز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: ناجائز منافع خوروں کے خلاف کراچی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائی جاری
https://www.nopnewstv.com/district-adminis…continues-action/