Home / اہم خبریں / وفاق اور صوبہ تنازعہ میں غریب عوام پس رہی ہے، سندھ پولیس محلہ اور گلیوں میں غریب ریڑھی بانوں کو ہلاکو خانیاں دکھا رہی ہے۔ عبدالحاکم قائد رہنما پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

وفاق اور صوبہ تنازعہ میں غریب عوام پس رہی ہے، سندھ پولیس محلہ اور گلیوں میں غریب ریڑھی بانوں کو ہلاکو خانیاں دکھا رہی ہے۔ عبدالحاکم قائد رہنما پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت کے اپنے اپنے ذاتی مفاد ات کے تنازعہ میں سندھ کی غریب عوام مسلسل پس رہی ہے۔ جبکہ سندھ پولیس محلوں اور گلیوں میں سامان بیچنے والے ہاکروں اور غریب ریڑھی والوں کو اپنی ہلاکو خانیاں دکھا رہی ہے۔ سامان ضبط کر لیا جاتا ہے، ان کے ترازو چھین لئے جاتے ہیں، غریب ٹھیے والوں کو اٹھا کر لاک اپ میں بند کر دیا جاتا ہے۔ پولیس کی جیب گرم نہ ہو تو گرفتاریاں اور ایف آئی آرز درج کر دی جاتی ہیں۔ کورونا لاک ڈاؤن کی آڑ میں عوام کے ساتھ ذہنی و جسمانی دہشت گردی کی جارہی ہے اور فرقہ واریت پھیلائی جا رہی ہے۔ ملک میں قانون سب کے لئے یکساں ہونا چاہئیے۔ حکمرانوں نے قانون کی بھی درجہ بندی کر دی ہے کہ غریب کے لئے سخت قانون اور امیروں پر سہولتوں سے آراستہ نرم قانون لاگو کیا گیا ہے۔ حکومت عوام کو گھروں میں بند کرنے کے بعد انہیں امداد پہنچانے پر بھی توجہ دے۔ کیا ٹائیگر فورس کے انتظار میں لوگ بھوکے مرتے رہیں؟ ضروریات زندگی کے لئے باہر نکلنے والے افراد سے بدسلوکی بند کی جائے۔ کیا انتظامیہ کا اختیار صرف سزا کے لئے ہے امداد کیلئے نہیں؟ ان خیالات کا اظہار پاسبان کراچی ڈویژن کے صدر عبدالحاکم قائد نے تیسر ٹاؤن یونٹ آفس کے تنظیمی اصلاحات کے لئے کئے جانے والے دورے کے موقع پر کیا۔ اس موقعہ پر ان کے ہمراہ پاسبان کے ذمہ د ار سلیم جنجوعہ، محمد اسلم، شاہد، رضوان الدین و دیگر بھی موجود تھے۔ عبدالحاکم قائد نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باعث عام آدمی کے معاشی حالات روز بروز خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ گھروں میں ضروریات زندگی نہیں ہیں، حکومت عوام تک راشن کی فراہمی ممکن بنانے میں ناکام ہوگئی ہے، بھوک و افلاس کی وجہ سے عوام میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور تمام احتیاطی تدابیر کو ترک کر کے عوام گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ایسے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہتک آمیز رویہ کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔عام آدمی کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر بلا تحقیق فوری سزا دی جارہی ہے جبکہ عوام کو لوٹنے والی بااثر شخصیات کو سزا دینے میں جان بوجھ کر تاخیر، امتیازی سلوک ہے۔ کیا لاک ڈاؤن کے دوران ضروریات کے لئے باہر نکلنے والے افراد، قوم کے ارمانوں پر ڈاکہ ڈالنے والی آٹا چینی مافیا سے زیادہ بڑے مجرم ہیں؟ عام لوگوں کو ماسک نہ پہننے پر مرغا بنانے والی پولیس، کیا وزیراعظم سمیت دیگر وزراء، مشیروں اور اہم عہدیداروں کو ماسک نہ پہننے اور دیگر حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے کی سزا دے سکے گی؟ اشرافیہ کے لئے الگ قانون اور غریب عوام کے لئے الگ قانون، دوغلے پن کے سوا کچھ نہیں ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: لاک ڈاؤن سے چھوٹے تاجروں کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے، ایس او پیز بناتے ہوئے کاروبار شروع کرنے کی اجازت دی جائے۔ محمد فیصل معروف سماجی رہنما
https://www.nopnewstv.com/lockdown-is-caus…conomic-massacre/

About admin

یہ بھی پڑھیں

پی ایف ایف نے انڈر-17 چیمپئن شپ کے ساتھ ملکی فٹ بال کی بحالی کا آغاز کر دیا

لاہور، (اسپورٹس ڈیسک) پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف)کے زیرِ اہتمام نیشنل انڈر-17 چیمپئن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے