کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) بہت سے چہرے اور طبقات ایسے ہیں جن کا جوڑ اشرافیہ سے ہے اور رہے گا، پاکستان کی بنیاد وفاقیت پر رکھی گئی تھی، پاکستان کو ایک پارلیمانی جمہوریت ہونا تھا، بدقسمتی سے صدارتی نظام اور پھر آمریت آئی، صوبائی خود مختاری ہونا تھی یہاں، صوبائی خود مختاری کا نام لینے والوں کو غدار کا لقب دیا گیا، اس پوری تاریخ میں ہم سب مجرم ہیں، جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے یہ کھیل چلتا رہے گا، ان خیالات کا اظہار سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے آرٹس کونسل کراچی میں مصنف اختر حسین ایڈووکیٹ کی کتاب ”سماجی تبدیلی کی سیاست“ کے اجراء کی تقریب سے کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے، جب خود مختاری پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے اس وقت ہم کہاں تھے، ہم سب کو مل کر لڑنا ہوگا، عدل کے چار سسٹم یہاں چل رہے ہیں، اگر آپ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کے لیے قانون مختلف ہوگا، اگر آپ امیر ہیں اور بااثر ہیں تو فیصلہ آپ کا ہے، ڈنڈا چلے گا تو غریب پر چلے گا ڈنڈا امیر پر نہیں چلے گا، آج ایک عام شہری اور مزدور اپنے آپ کو ریاست کا حصہ نہیں سمجھتا، ریاست اس کے لئے سوتیلی ماں بنی، تقریب میں ڈاکٹر ریاض شیخ، مظہر عباس، یوسف مستی خان، ایڈوکیٹ احسن بھون، ڈاکٹر جعفر احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ایوب شیخ نے انجام دیے، اس موقع پر صدر سپریم کورٹ بار ایڈوکیٹ احسن بھون نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اختر حسین نے بہت ہی زبردست کتاب لکھی ہے، کتاب میں اپنی ملک کی پالیسی کو اجاگر کیا گیا ہے، کتاب میں مزدو کے حقوق کو پامال کرنے والوں کی نشاندہی کی گئی ہے، تضادات کی نشاندہی اور حل پیش کیا گیا ہے، ہم نظریاتی ہوکر بھی جذباتی قوم ہیں، ہم نے ہر بیانیہ کو تسلسل سے دیکھنا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو کم سے کم کچھ ایجنٹڈوں پر ایک ہونا ہوگا، سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ اختر حسین کو پڑھنے کا میرا پرانا شوق ہے، میں ا ختر حسین کو گزشتہ تیس برس سے جانتا ہو، یہ ہماری جدوجہد کا حصہ رہے، اس کتاب کے کچھ موضوع بہت اہم ہیں، میں نے بحیثیت صحافی اور طالب علم بہت کچھ دیکھا، بہت مواقع تھے جب اختر حسین نے بائیں بازو کی سیاست کی نشاندہی کی، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتہا پسندی جڑیں پکڑ رہی ہے۔