کراچی (رپورٹ : ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما طاہر ملک نے کہا کہ حکومت سندھ کی کرپشن اور اقرباء پروری کی وجہ سے کے ایم سی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ سندھ حکومت کی ناقص پالیسیوں نے شہر کے نظام کو تباہ برباد کردیا ہے۔ کراچی کا بلدیاتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہوچکا ہے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں طاہر ملک نے مزید کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی کو اختیارات تو دیے گئے ہیں لیکن کام کرنے کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔ اس سے قبل کراچی کے میئر اختیارات اور فنڈز کا رونا روتے تھے اور اب یہی حال ایڈمنسٹریٹر کراچی کا ہے۔ پیپلز پارٹی نے سیاسی لوگوں کی غیر آئینی تعیناتیاں کر کے ادارے کو مزید تباہ کردیا ہے۔ ملک کے معاشی حب کی سڑکوں کی حالت کسی آفت زدہ شہر کی معلوم ہوتی ہے۔ شہر میں جابجا کچرا، سیوریج کا پانی، ٹوٹی سڑکوں نے شہر کا نقشہ بدل دیا ہے۔ سندھ حکومت بتائے کہ اربوں روپے کے فنڈز کہاں جا رہے ہیں؟ ہمارا مطالبہ ہے کہ کے ایم سی کا فارنزک آڈٹ ہونا چاہئے۔ کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے، سندھ حکومت نے اسے سونے کا انڈہ دینے والی مرغی سمجھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ سمیت پوری سندھ کابینہ و پیپلز پارٹی کراچی کی تباہ حالی میں برابر کی شریک ہے۔ کے ایم سی ملازمین کو متعدد ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئی ہے۔ فنڈز کی کمی کے سبب تمام شعبہ جات تباہی کے دہانے پر کھڑے ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم میں کروڑوں روپے لگانے کے بجائے تھوڑی سی وجہ عوامی مسائل کی جانب مرتب کرے تو شہر کا نقشہ بہتر اور انکا سیاسی مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔ طاہر ملک کا مزید کہنا تھا کہ شہر قائد کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا جائے۔