ٹوبہ ٹیک سنگھ (بیورو رپورٹ) اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد پر پابندی کے باوجود بچوں پر تشدد کا سلسلہ نہ روکا جاسکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل پیر محل میں اسکول ٹیچر نے کلاس چہارم کے طالب علم پر بہیمانہ تشدد کیا ہے، تشدد کا واقعہ گورنمنٹ پرائمری اسکول میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق استاد کے تشدد سے بچے کا ہونٹ زخمی ہوا، بچے کی شناخت علی اصغر کے نام سے ہوئی، ظلم کی انتہا یہ تھی کہ استاد کی جانب سے بچے پر تشدد کے باعث اسے کسی قسم کی طبی امداد نہیں دی گئی اور گھر روانہ کردیا گیا، گھر پہنچتے ہی بچہ تشدد کے باعث بے ہوش ہوگیا۔ دوسری جانب پرائمری اسکول کے استاد اشفاق نے بھی میڈیا کو اپنے موقف دیتے ہوئے کہا کہ بچے کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا اسے صرف ڈانٹا تھا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 13 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد پر پابندی عائد کرتے ہوئے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی شق 89 کو تاحکمِ ثانی معطل کر دیا تھا۔ معروف گلوکار شہزاد رائے نے بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، درخواست میں سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری قانون، سیکریٹری تعلیم، سیکریٹری انسانی حقوق اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کو سزا دینا معمول بن چکا ہے کیونکہ پڑھائی میں بہتری کے لیے بچوں کو سزا دینا ضروری تصور کیا جاتا ہے، اس میں مزید کہا گیا تھا کہ بچوں پر تشدد اور سزا کی خبریں آئے روز میڈیا میں سامنے آرہی ہیں۔ یاد رہے کہ بچوں کے حقوق کے حوالے سے پاکستان 182 ممالک کی فہرست میں 154ویں نمبر پر ہے۔