تازہ ترین
Home / اہم خبریں / ناظم جوکھیو کیس میں چالان میں تاخیر قاتلوں کی سرپرستی کے مترادف ہے۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

ناظم جوکھیو کیس میں چالان میں تاخیر قاتلوں کی سرپرستی کے مترادف ہے۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف کی موت ہے۔ سندھ حکومت قاتلوں کے بجائے مظلوموں کا ساتھ دے۔ غریب عوام خصوصا خواتین کے لیے انصاف کا حصول مشکل نہ بنایا جائے۔ ملیر تفتیشی افسر کو 173 سی آر پی سی کے تحت حتمی چالان پیش کرنے کے فوری احکامات جاری کئے جائیں۔ بیوہ شیریں جوکھیو کو سندھ کی صوبائی حکومت کے حمایت یافتہ طاقتور زمینداروں کی جانب سے سخت مزاحمت اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ شیریں جوکھیو اور سندھ کی دیگر مظلوم خواتین کو فوری طور پر انصاف فراہم کیا جائے۔ پاسبان کی جانب سے خرم لاکھانی ایڈووکیٹ بھی وکیل کے طور پر ناظم قتل کیس کا حصہ بن گئے ہیں۔ بہادر بہن شیریں جوکھیو کو سلام پیش کرتے ہیں، پی ڈی پی کا ہر کارکن ہر فورم پر ان کا بھرپور ساتھ دے گا۔ بیوہ ناظم جوکھیو کو انصاف دلانے کے لئے پرعزم جدو جہد جاری رکھیں گے۔ وہ ملیر کورٹ میں شہید ناظم جوکھیو کیس میں پولیس کی جانب سے چالان جمع کئے جانے میں ایک بار پھر تاخیر کئے جانے کے موقعہ پر گفتگو کر رہے تھے۔

 

مزید پڑھیں: پانچویں سٹوڈنٹس اولمپک گیمز کی اختتامی تقریب آج ہوگی
https://www.nopnewstv.com/5th-student-olympic-game ‎

پاسبان کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد، خواتین ونگ کی صدر عزیز فاطمہ، میڈیا اسسٹنٹ کوآرڈینیٹرمحمود خان تاجک اور پاسبان کے وکیل خرم لاکھانی ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ الطاف شکور نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں انصاف کا حصول مشکل ترین بنا دیا گیا ہے۔ اور اگر مظلوم خاص طور پر کوئی خاتون ہو تو انصاف ملنا بہت دور کی بات ہے۔ شیریں جوکھیو، ام رباب، وزیراں چھچھر اور تانیہ خاصخیلی جیسے مظلوموں کے مقدمات کو اکثر تاخیر اور ہر طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ خواتین کو انصاف فراہم کرنا ہمارے مردانہ معاشرے کا معمول نہیں ہے۔ ہمیں ان سماجی اور ثقافتی ممنوعات کے خلاف جنگ لڑنی ہوگی۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی ناظم جوکھیو کی فیملی کو انصاف دلانے کیلئے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ عام آدمی کے حقوق مسخ نہیں ہونے دیں گے۔ ناظم جوکھیو قتل کیس میں وکلاء کا کہنا ہے کہ 173 سی آر پی سی کے تحت چالان پہلے ہی جمع کرایا جا چکا ہے لیکن یہ عبوری چالان نامکمل ہے کیونکہ اس میں کسی پر جرم کی ذمہ داری کا تعین نہیں ہوتا۔ 168 سی آر پی سی کے تحت حتمی چالان رپورٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر ملیر کے دفتر میں 8 جنوری کو جمع کرائی گئی۔ تاہم سرکاری وکیل اور تفتیشی افسر10 جنوری اور 13 جنوری کو ٹرائل کورٹ کی ہدایت کے باوجود سیاسی دباؤ کی وجہ سے قانونی رائے نہیں دے رہے۔

چالان جمع نہ کرائے جانے کے پیچھے پرانے پاپیوں کی ازلی سازش کارفرما ہے کہ عدالت عبوری چالان کو حتمی سمجھے۔ عبوری چالان نامکمل ہے اور اس میں کسی پر جرم کی ذمہ داری بھی نہیں ڈالی گئی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں انقلابی رہنماءو سابق وفاقی وزیر معراج محمد خان کی برسی کے موقع پر تقریب کا انعقاد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں انقلابی رہنماء و سابق وفاقی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے