چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) جنت نظیر وادی مڈکلشٹ میں برفانی کھیلوں کا ٹورنمنٹ سنو سپورٹس فیسٹیول احتتام پذیر ہوا۔ برفانی کھیلوں کا یہ دوسرا راؤنڈ تھا۔ اس ٹورنمنٹ کا اہتمام ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نے کیا تھا۔ اس ٹورنمنٹ میں سنو سکینگ، سنو سکیٹنگ، میراتھن ریس، خواتین بیڈ منٹن وغیرہ شامل تھے۔ مقامی تنظیم نے اس ٹورنمنٹ میں خصوصی طور پر مڈگلشٹ کے بچیوں کو بھی کھیلنے کا موقع دیا تھا تاکہ وہ بھی ان کھیلوں میں حصہ لے سکیں اور ان کی بھی حوصلہ افزائی ہو۔ سنو سکینگ اور سنو سکیٹنگ کے دوران لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں نے بھی برفانی میدان میں کھیل کر اپنی فن کا مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ سنو سپورٹس فیسٹیول کے دوران بعض سیاحوں نے بھی قسمت آزمائی کی مگر وہ چند گز کے فاصلے پر جا کر اوندھے منہ جب گر پڑتے تو یہ شعر یاد آیا کہ، گرتے ہیں شاہ سوار ہی میدان جنگ میں، وہ طفل کیا کرے کہ جو گھٹنوں کے بل چلے۔ برفانی کھیلوں کے دوران کھلاڑیوں کی خون گرمانے کیلئے ثقافی شو کا بھی مظاہرہ جاری تھا اور مقامی فن کار دف، ستار اور جیری کین کے ذریعے روایتی موسیقی بھی پیش کر رہے تھے۔ اس دوران دستکاری کے مقامی فن پاروں کی نمائش بھی ہوئی جس میں علاقے کی خواتین نے ہاتھ سے بنے ہوئے گرم بنیان، ٹوپی، شال وغیرہ نمائش اور فروخت کیلئے رکھے تھے۔ کھیل کے احتتام پر تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی جس میں خیبر پحتونخوا کی جانب سے سیاحت کا برانڈ سفیر کبیر افریدی مہمان خصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر فاروق اعظم نے کی۔ مہمانوں نے کامیاب کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر فاروق اعظم نے بتایا کہ ان کا مڈکلشٹ میں آنے کا بنیادی مقصد انڈر 21 کیلئے بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کا بھی انتحاب کرنا ہے تاکہ وہ بھی ان کھیلوں میں حصہ لے سکے اور آگے بڑھ کر بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کا نام روشن کریں۔ اس کھیل کو دیکھنے کیلئے آنے والے سیاحوں نے ان کو بے حد سراہا اور یہ شکایت کی کہ یہاں تک آنے والی سڑکوں کی حالت بہت خراب ہے۔ برانڈ ایمبیسیڈر کبیر افریدی کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار مڈکلشٹ آئے ہوئے ہیں اور یہاں آکر ان کو بڑی خوشی محسوس ہوئی کیونکہ یہاں کے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں کھیل کی نہایت قابلیت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگ بھی بہت پر امن اور مہمان نواز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان بچوں اور بچیوں کو موقع دیا جائے اور ان کو تربیت کے ساتھ ساتھ کھیل میں استعمال ہونے والا سامان بھی فراہم کریں تو وہ دن دور نہیں کہ یہاں کے ذہین کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر ان کھیلوں میں حصہ لے سکیں۔ لوکل کونسل کے صدر نے کہا کہ یہاں جو بھی کھیل ہوتے ہیں تو اس میں مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچنا چاہئے اگر سب کچھ باہر سے منگوایا جائے اور یہاں کے مقامی لوگ جو کام کرسکتے ہیں وہ ان سے نہ لیں تو یہ بے انصافی ہوگی۔ امید ہے آئندہ مقامی لوگوں کو بھی فائدہ پہنچایا جائے گا۔ ٹورنمنٹ کے آرگنائزر عدنان سمیع کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ علاقے کی لڑکیوں کو بھی کھیلنے کا موقع دیں تاکہ وہ بھی ان مثبت اور صحت افزا سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں اور منفی سوچ اور منشیات کی لعنت سے بچ سکیں۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر فاروق اعظم نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور مثبت سرگرمیوں اور ہم نصابی کاموں میں بھی حصہ لیں کیونکہ جن قوموں کا کھیل کے میدان خالی ہوتے ہیں ان کے ہسپتال مریضوں سے بھرے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوان نسل میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کا شوق پیدا کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ اس نہایت دلچسپ کھیل اور رنگا رنگ تقریبات کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں سیاح برف پوش میدان میں جمع تھے اور مفنی پانچ ڈگری سنٹی گریڈ میں بھی ان کا خون گرم تھا۔ مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں نے بھی حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وادی مڈکلشٹ کی سڑکیں جلد سے جلد تعمیر کی جائے تاکہ یہاں آنے والے کھلاڑیوں اور سیاحوں کو آمد ور فت میں تکلیف کا سامنا نہ ہو اور سیاحت کو فروغ دینے ہی سے اس پسماندہ علاقے سے غربت کا حاتمہ ہوسکے۔