تازہ ترین
Home / Home / ایفیکٹو ٹیچر کیسے بنا جائے؟ مربی استاد … تحریر :عکاشہ اصغر (سیالکوٹ)

ایفیکٹو ٹیچر کیسے بنا جائے؟ مربی استاد … تحریر :عکاشہ اصغر (سیالکوٹ)

طیب پبلک سکول ظہررہ سیالکوٹ

ٹیچر از اے پریچر (تبلیغ کرنے والا). یہ معززشعبہ ہمارے پیارے آقا صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منسوب ہے. استاد کا کام نسلوں کو سنوارنا ہے،اچھا استاد کیسے بنا جاسکتا ہے؟اچھے اور با اثر مربی استاد کا کام صرف پڑھانا نہیں بلکہ سیکھانا ہے۔ مربی استاد وہ جو تعلیم کے ساتھ تربیت کا فریضہ بھی سرانجام دے،مگر کیسے؟ یقیناً یہ تو آپ سب نے سن رکھا ہوگا
"Your actions speak louder than your words”
استاد بچوں کے لیے ایک رول ماڈل ہوتا ہے جس کا کام اپنے کریکٹر سے بچوں کو متاثر کرنا ہے.
آئیں جانتے ہیں کہ ایک با اثر استاد میں کیا اوصاف ہونے چاہیے؟
1. آبجیکٹوز/vision
اچھے استاد کے کچھ گولز، ٹارگٹس اور مقاصد ہوتے ہیں.جس میں طالب علم میں علم سے محبت پیدا کرنا، مطالعہ کی لگن پیدا کرنا،کچھ نیا کھوجنے کی تحریک پیدا کرنا، موریلیٹی، انکساری، غلطی مان جانے کی کیفیت اور سب سے بڑھ کر مثبت سوچ پیدا کرنا کیونکہ یہ بچے ہمارےملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ہمارے ملک کا مستقبل ہے لہٰذا انکے خیالات کی شمع جلا کر آنے والے کل کو روشن کیا جاسکتا ہے۔ اچھا استاد بچوں کو جینے کا مقصد اور فیصلہ سازی کی مہارت سیکھاتا ہے. اس بات سے انکار ممکن نہیں اچھے استاد میں مسلسل سیکھنے کی جستجو ہوتی ہے وہ اپنے میتھڈز میں جدت لاتا ہے۔ بے شک ایک اچھا استاد بہترین طالب علم ہوتا ہے.بااثر استاد بچوں کو پر امید رکھتا ہے انکو 2 طرح کے یقین سکھاتا ہے ایک خود پر یعنی اپنی محنت پر اور دوسرا اللہ پاک کی ذات پر کے اللہ پاک کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا ہے مہارت یہ نہیں کہ آپ نے کتنا پڑھا دیا ہے مہارت یہ ہے کہ کتنوں کو زندگی میں کچھ کرسکنے کی یقین دہانی کروائی ہے.
2. Multi model approach (variety of methods)
آپ کو کمرہ جماعت میں مختلف نظریات رکھنے والے اورمختلف اقسام کے بچے نظر آئیں گے جن کی ڈیمانڈز مختلف ہونگی.
مثلاً آپکو عموماً تین طرح کے طلباء ملتے ہیں.
1. visual learners
دیکھ کر سیکھنے والے
2.Auditory learners
سن کر سیکھنے والے
3. kinesthetic learners
کرکے کے سیکھنے والے
پھر کیسے آپ سب کو ایک ہی طریقہ سے لے کر چلیں گے؟ اس کے لیے آپ کو بہترین پلیننگ کی ضرورت جس کے ذریعے آپ ہر طرح کے بچے کو مصروف رکھ سکیں . ممکن حد تک کوشش کریں بچے کو کریٹویٹی کی عادت ڈالیں مثلاً الفاظ دیں جملہ خود بنانے کی عادت ڈالیں جیسا کہ آپ نے بھی سنا ہوگا بڑی خوبصورت بات ہے۔
کسی کومچھلی پکڑ کر دینے سے بہتر ہے مچھلی پکڑنا سیکھا دو.
آج کے دور میں آپکی teaching methodology میں بچوں میں کریٹویٹی develop کرنا بہت ضروری ہے
کیا خوب بات ہے!
سنا تو بھول گئے
دیکھا تو یاد رہا
کیا تو زندگی بھر نہ بھولا
3.information provider
؛ تیرے ضمیر پر نہ ہو جب تک نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
ایک اچھے استاد کو اپنے مضمون پر مکمل عبور ہونا چاہیے. ہر زاویہ سے اپنے لیکچر کو تیار کریں بچوں کو conceptual study کروائیں ان میں زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی لگن اور تحقیق کی عادت ڈالیں بچوں کی طرف سے کیے سوالات کی حوصلہ افزائی کرکے انکو بہتر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کریں۔ بچوں کو جتنا ہوسکے سوال پوچھنے کی عادت ڈالیں.
4.Emotional intelligence /
Motivator
ایک استاد کے اندر پیشہ ورانہ ہمت ہونی چاہیئے. مثبت سوچ رکھنے والا پرعزم استادہی بچوں کے دل میں جگہ بناتا ہے. دوسروں کو موٹیوٹ کرنااور اپنا مورال بلند رکھنا بہت ضروری ہے. سب سے پہلے بچے کے نام سے آغاز کریں بہت افسوس کی بات کہ کچھ استاد پورا سیشن پڑھا دیتے ایک جملہ کے ساتھ بچے کیا نام تھا تمہارا؟بچے کا نام انتہائی خوبصورت انداز میں مکمل بلائیں آپ کا بلانے کا انداز بچے کو متاثر کردے وہ سوچنے پر مجبور ہو ایسے تو کبھی گھر میں بھی نہیں بلایا کسی نے . بچوں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کریں اور آپ کی جماعت کے کمزور بچوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہےایموشنلی بچوں کے ساتھ اٹیچ رہنے کی کوشش کریں انکو سمجھے ان پر تجربے کریں انکو ہر ممکن طریقے سے سیکھا نے کی کوشش کریں۔ بچوں کے ساتھ ہمدردی، محبت اور خلوص کا رشتہ قائم کریں. اچھا استاد کانوں سے نہیں آنکھوں سے بھی سنتا ہے بچے کو دیکھ کر اس کی کیفیت /جذبات سمجھ جاتے ہیں ایسے استاد ہمیشہ یاد رہتے ہیں.
5 inspire other through attitude
ہم کریں بات دلیلوں سےبھی تو رد ہوتی ہے
اور انکے ہونٹوں کی خاموشی بھی سند ہوتی ہے
پروفیشنل استاد، مربی استاد وہ ہے جس سے تمام طلباء محبت کریں اس جیسا بننے کے خواہشمند ہوں.جو اپنے کردار سےمتاثر کریں بچوں کے لیے رول ماڈل بنیں آپکا گفتگو کا انداز، آپکا بات سننا اور بات سمجھنا بچوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا انداز منفرد ہونا چاہیے جو مثالی ہو بچے کہیں اس استاد کی بات ہی الگ ہے۔ ایسا خوبصورت ماحول پیدا کریں پھر بچے آپ کے اشارے تک سمجھیں گے۔کیا خوب کہا شاعر نے اور یہ آپ کے لیے بھی ہوسکتا ہے.
سنا ہے اس کو سخن کے اصول آتے ہیں
کرے کلام تو باتوں سے پھول آتے ہیں
سنا ہے اس کے پڑھانے میں ہے مٹھاس ایسی
بخار بھی ہو تو بچے سکول آتے ہیں
ویسے تو بہت سی خوبیاں ہوتی ہے اچھے استاد میں لیکن آئیں ہم سب مل کر ان پانچ خوبیوں کو اپنا کر مثالی استاد بننے کی کوشش کریں.
آخرمیں آپ سب کے لیے ایک ایکٹیویٹی ذرا سوچیں کے زمانہ طالب علمی میں آپ کو بھی مخلص استاد ملے ہوں گے ان میں سے مثالی استاد کون تھا آپ کو جس کے متعلق آپ نے سوچا ہوگا بھائی اس میں کچھ خاص ہے. کاپی پینسل پکڑیں، ایک فہرست تیار کریں جو جو آپ کو ان کا متاثر کن لگتا تھا پھر ان تمام باتوں کو آہستہ آہستہ اپنانے کی کوشش کریں. اللہ پاک ہم سب کو اپنے فرائض خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے پہلے ٹی 20 میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد روایتی حریف بھارت کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی

دبئی، (نوپ انٹرنیشنل اسپورٹس) متحدہ عرب امارات میں ہونے والی 3 میچوں کی سیریز کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے