Home/اہم خبریں/منی بجٹ، پاکستانی معیشت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، میڈیا پر قرض واپس کرنے کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہو رہا ہے۔ الطاف شکور چیئرمین پی ڈی پی
منی بجٹ، پاکستانی معیشت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، میڈیا پر قرض واپس کرنے کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہو رہا ہے۔ الطاف شکور چیئرمین پی ڈی پی
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ منی بجٹ، پاکستانی معیشت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ میڈیا پر قرض واپس کرنے کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہو رہا ہے، سچ سامنے لانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی مودی کی جھوٹ اور فریب پر مبنی چانکیہ سیاست کی پیروکار بن گئی ہے۔ عمران خان نے ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے۔ ہم پہلے ہی استطاعت سے زائد قرضے لے چکے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پاکستانی قومی معاملات میں مداخلت کا پہلا شکار، پاکستان کی معیشت ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں نے پاکستان کو مکمل معاشی تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے قرضے کے لیے قومی خود مختاری کو پامال کیا جو کہ سابقہ قرضوں کے بھاری سود کی ادائیگی کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ ”تبدیلی“ کا خواب پاکستانی عوام کے لیے عذاب ہوگیا ہے۔ عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کا پرانا پاکستان، نام نہاد نئے پاکستان سے ہزار گنا بہتر تھا۔ الطاف شکور نے حکمرانوں سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی سماجی اقتصادیات کی مکمل تباہی کو روکیں اور نئے عام انتخابات کا راستہ ادا کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ دیں۔ ڈوبتی ہوئی معیشت کو بچانے اور پاکستانی معاشرے کو مکمل تباہی سے بچانے کا یہی واحد راستہ ہے۔ پاسبان پبلک سیکریٹریٹ میں، ایک وفد سے ملاقات میں، متوقع منی بجٹ کی تباہ کاریوں پر گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ منی بجٹ حکومتی نااہلی ہے، ملکی معیشت تباہ کی جا رہی ہے۔ عمران خان نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے، بھگتنا عوام کو پڑے گا۔ بجٹ ہمیشہ مہنگائی کا طوفان لے کر آتا ہے جس کا براہ راست بوجھ عام صارفین پر پڑتا ہے۔ پورے سال جو مہنگائی ہوتی رہتی ہے اس کا کوئی بھی نوٹس لینے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی سازشوں کی وجہ سے ایل این جی درآمد نہیں ہو سکی اور گیس کی کمی کے ذریعے پاکستان کو پہلے سے منصوبہ بند موت کے جال میں دھکیل دیا گیا۔ اب حکمران 360 ارب روپے کا منی بجٹ لا کر آئی ایم ایف کی ایک اور ڈکٹیشن پر عمل درآمد کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوگا۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکمرانوں کی حکومت میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی اور نئے اندرونی و بیرونی قرضوں نے بھی پرانے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ قرض بھی لئے جا رہے ہیں اور مہنگائی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، عوام چکی کے دو پاٹوں میں پس رہی ہے۔معروف ماہر اقتصادیات شبر زیدی کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے الطاف شکور نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی تکنیکی طور پر ڈیفالٹر ہوچکا ہے، اس حوالے سے صرف سرکاری اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ملک کی آدھی آبادی کو خودکشی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ملک میں نہ کوئی معاشی پالیسی ہے اور نہ کوئی صنعتی ترقی نظر آرہی ہے۔ فصلیں برباد ہونے کا شدید خطرہ ہے کیونکہ کھاد ذخیرہ اندوزوں کے گوداموں میں بند ہیں۔ یہ نوبت آگئی ہے کہ ملک میں انارکی پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔ حکومت سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے جنہوں نے لوٹ کر ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے۔عمران خان کو اٹھانے والے کے پی کے عوام نے جھوٹ کو رد کر دیا ہے، اب پورے ملک سے بوریا بستر گول ہو جائے گا۔