Home/اہم خبریں/اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں جنگلی حیات آزادانہ ماحول میں گھومنے پھرتے ہیں طلباء کی تحقیق کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں جنگلی حیات آزادانہ ماحول میں گھومنے پھرتے ہیں طلباء کی تحقیق کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے
بہاولپور (رپورٹ: گل حماد فاروقی) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور چولستانی خطے میں شاید ملک کی واحد جامعہ ہے جہاں محتلف علوم پڑھانے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کیلئے بھی قدرتی ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ شیخ زید وائلڈ لائف سنٹر میں ہرن، اونٹ، محتلف پرندے اور دیگر جنگلی حیات آزادنہ طور پر گھومتے پھرتے ہیں۔ یہ جنگلی حیات یہاں بچے بھی دیتے ہیں اور یوں ان کی نسل بڑھتی جاتی ہے۔ اس جامعہ میں مچھلیوں کو پالنے کیلئے فش فارم بھی تعمیر کیا گیا ہے جس میں محتلف انواع و اقسام کی مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ مگر سب سے زیادہ دلچسپی کا باعث یہ جنگلی حیات ہیں جو بالکل یوں گھومتے پھرتے ہیں جیسے یہ قدرتی جنگل میں موجود ہوں اور یہ جنگلی حیات اب انسان دوست بھی بن گئے یعنی انسانوں کو دیکھ کر نہیں ڈرتے کیونکہ ان کو اپنے تحفظ کا احساس جو ہوچکا ہے۔ ہمارے نمائندے نے خصوصی طور پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں اس جنگلی حیات کیلئے بنائے گئے جنگل کا دورہ کیا جہاں ہرنوں کے بے شمار بچے بھی موجود تھے اور یہ ہرن نہایت آزادی سے اچل کھود کر دوڑتے اور خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ یہ جنگلی حیات سیاحوں کی توجہ کا بھی مرکز بنا ہوا ہے جہاں ان کو نہایت قریب سے قدرتی ماحول میں یہ جنگلی حیات دیکھنے کو ملتی ہے۔ جامعہ بہاولپور کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے ہمارے نمائندے کو خصوصی انٹر ویو دیتے کہا کہ چولستانی خطے میں جنگلی حیات کو فروغ دینے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ساتھ بھی مل کر ان جنگلی حیات کو تحفظ فراہم کرنے، ان کی نسل بڑھانے اور ان کے ذریعے سیاحت کو بھی فروغ دینے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگلی حیات کیلئے جنگل کی بہت ضرورت ہوتی ہے اسلئے ان کا عملہ دن رات محنت کرکے چولستانی خطے میں ایسے پودے لگا رہے ہیں جو کم پانی میں بھی خشک نہ ہو اور جنگل بننے میں آسانی ہو۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں جنگی حیات کا یہ مسکن اگر ایک طرف اس سے متعلقہ شعبے کے طلبا و طالبات کو تعلیم و تحقیق کا موقع فراہم کرتا ہے تو دوسری طرف سیاحوں کو بھی انہیں قریب سے دیکھنے کی بہترین کاوش ہے جو یقینی طور پر قابل ستائش ہے۔