کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جہاں مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ پر عام بحث چوتھے روز بھی جاری رہا اجلاس کے آغاز میں مرحوم رکن سندھ اسمبلی نعیم احمد کھرل کے انتقال پر تعزیتی قرارداد منظور کی گئی جس کے بعد بجٹ پر بحث کا باقاعدہ آغاز ہو۔
بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ سندھ حکومت نے محدود وسائل اور مشکل معاشی حالات کے باوجود ایک متوازن عوام دوست اور ترقیاتی بجٹ پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں صحت، تعلیم، زراعت، انفراسٹرکچر، بلدیاتی خدمات اور سماجی بہبود کے شعبوں کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ سندھ وفاق کو سب سے زیادہ محصولات فراہم کرنے والا صوبہ ہے، اس کے باوجود عوامی فلاح کے منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔
اجلاس کے دوران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات، نئے اسپتالوں، طبی سہولیات کی فراہمی اور بجٹ میں مختص فنڈز پر روشنی ڈالی صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی بہتری، نئی جامعات، اسکولوں کی بحالی اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے حکومت کی مجموعی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کا محور عوامی خدمت اور صوبے کی ترقی ہے۔
صوبائی وزیر زراعت مخدوم محبوب الزمان نے زرعی شعبے کے لیے حکومتی اقدامات، صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو نے شہری ترقی، پانی، نکاسی آب اور بلدیاتی منصوبوں، جبکہ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک محمد بخش مہر نے مویشی پال حضرات کی معاونت اور لائیو اسٹاک کے فروغ کے لیے مختص فنڈز اور منصوبوں پر ایوان کو آگاہ کیا۔
دوسری جانب اپوزیشن بالخصوص ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے کراچی کے لیے ترقیاتی فنڈز، شہری سہولیات اور وسائل کی تقسیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا بجٹ بحث کے دوران اپوزیشن کے ایک رکن کے متنازع ریمارکس پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جس پر اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے ریمارکس کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت دی بعد ازاں بجٹ پر مزید بحث کے لیے اجلاس 27 جون تک ملتوی کر دیا گیا۔