اسلام آباد، (اسٹاف رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد کے سیکٹر F-7/1 میں کارروائی کرتے ہوئے انسانی اعضاء کی مبینہ غیر قانونی پراسیسنگ اور اسمگلنگ میں ملوث ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کا سراغ لگاتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں تین چینی اور دو پاکستانی شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق چھاپے کے دوران ایک رہائشی مکان میں انسانی اعضاء، بالخصوص ہیومن پلیسینٹا، کی مبینہ غیر قانونی پراسیسنگ کے لیے قائم پلانٹ برآمد کیا گیا، جہاں سے مختلف انسانی اعضاء اور مبینہ طور پر انسانی بافتیں (ٹشوز) بھی قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دی گئیں۔
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہیومن پلیسینٹا کو غیر قانونی طور پر پراسیس اور خشک کرنے کے بعد مبینہ طور پر "شی پلیسینٹا” کے نام سے ویتنام سمیت دیگر ممالک برآمد کیا جاتا تھا۔ گرفتار ملزمان میں چینی شہری لی گینگ لئی، وانگ بھاؤ اور پینگفی گاؤ جبکہ پاکستانی شہری وقاص سرور اور قیصر حنیف شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسی نیٹ ورک کی نشاندہی پر اسلام آباد کے سیکٹر E-11 میں واقع ایک اور مقام پر بھی کارروائی کی گئی۔ تمام ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے، جبکہ نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے مواد کی حتمی نوعیت کا تعین فرانزک رپورٹ کے بعد کیا جائے گا، جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔