Home / بین الاقوامی / پینٹاگون چیف کا چین کے ساتھ ایشیا میں ’مستحکم توازن‘ پر زور

پینٹاگون چیف کا چین کے ساتھ ایشیا میں ’مستحکم توازن‘ پر زور

سنگاپور: امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا ایشیا میں چین کے ساتھ غیر ضروری تصادم نہیں چاہتا، بلکہ ایک ایسا “مستحکم توازن” چاہتا ہے جس میں خطے کا کوئی بھی ملک اپنی بالادستی مسلط نہ کر سکے۔

سنگاپور میں شنگری لا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے ہیگسیتھ نے کہا کہ واشنگٹن کا مقصد کشیدگی بڑھانا نہیں، مگر چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی طاقت پر خطے میں پائی جانے والی تشویش کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رہے اور کسی ملک کو دھونس یا دباؤ کے ذریعے علاقائی نظام تبدیل کرنے کا موقع نہ ملے۔

ہیگسیتھ کا لہجہ نسبتاً محتاط تھا۔ انہوں نے چین کو براہِ راست جنگی انداز میں للکارنے کے بجائے اسے ایک بڑی طاقت کے طور پر مخاطب کیا اور کہا کہ امریکا ایسے تعلقات چاہتا ہے جو استحکام پیدا کریں۔ مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر چین اپنی فوجی سرگرمیوں کے ذریعے پڑوسی ممالک پر دباؤ بڑھاتا ہے تو امریکا خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔

امریکی وزیرِ دفاع نے ایشیائی اتحادیوں سے بھی کہا کہ وہ اپنی دفاعی تیاریوں میں اضافہ کریں۔ رائٹرز کے مطابق ہیگسیتھ نے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے کم از کم 3.5 فیصد تک لے جائیں، کیونکہ ان کے بقول صرف امریکا پر انحصار کر کے خطے کی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط اتحادی ہی مؤثر ڈیٹرنس کی بنیاد بنتے ہیں۔ آسان الفاظ میں، واشنگٹن چاہتا ہے کہ جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، فلپائن اور دیگر شراکت دار نہ صرف امریکی سکیورٹی چھتری سے فائدہ اٹھائیں بلکہ اپنی عسکری صلاحیت بھی بڑھائیں۔ یہ پیغام خاص طور پر ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب جنوبی چین سمندر، تائیوان کے اطراف فوجی نقل و حرکت، اور بحرالکاہل میں چینی بحری سرگرمیوں پر مسلسل بحث جاری ہے۔

تاہم خطاب کی ایک نمایاں بات یہ رہی کہ ہیگسیتھ نے تائیوان کا ذکر نسبتاً کم کیا۔ عام طور پر امریکا چین سکیورٹی مباحثوں میں تائیوان مرکزی موضوع بن جاتا ہے، مگر اس بار امریکی وزیرِ دفاع نے وسیع تر علاقائی توازن اور اتحادیوں کی دفاعی ذمہ داریوں پر زیادہ زور دیا۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ انداز اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن فی الحال چین کے ساتھ کھلی لفظی محاذ آرائی سے بچتے ہوئے دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

چین طویل عرصے سے امریکی فوجی موجودگی کو ایشیا میں عدم استحکام کی وجہ قرار دیتا آیا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ امریکا خطے میں اتحادوں کو مضبوط کر کے چین کو گھیرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کہتا ہے کہ اس کی موجودگی آزاد تجارت، سمندری راستوں کی سلامتی اور چھوٹے ممالک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

شنگری لا ڈائیلاگ ہر سال ایشیا پیسیفک خطے کی سکیورٹی پالیسی کا اہم فورم سمجھا جاتا ہے، جہاں دفاعی حکام، عسکری ماہرین اور پالیسی ساز خطے کے حساس معاملات پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ اس سال بھی چین امریکا رقابت گفتگو کا مرکزی نکتہ رہی، مگر ہیگسیتھ کے بیان نے یہ پیغام دیا کہ واشنگٹن سخت مقابلے کے باوجود رابطے اور توازن کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا۔

مبصرین کے مطابق اصل امتحان بیانات سے آگے شروع ہوگا۔ اگر امریکا اتحادیوں کو دفاعی اخراجات بڑھانے پر آمادہ کرتا ہے اور چین اپنی فوجی سرگرمیاں اسی رفتار سے جاری رکھتا ہے تو خطے میں مقابلہ کم نہیں ہوگا۔ البتہ “مستحکم توازن” کی بات کم از کم یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں بڑی طاقتیں، شدید اختلافات کے باوجود، مکمل ٹکراؤ سے بچنے کی ضرورت کو سمجھتی ہیں۔

About Mabruka Waseem

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کی ایران امریکا کشیدگی کم کرانے کیلئے سفارتی کوششیں تیز، محسن نقوی کی تہران میں اہم ملاقاتیں

تہران، (نوپ نیوز ) ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کیلئے پاکستان کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے