کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) انسداد دہشتگری عدالت میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ اور دیگر کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل پیش نہیں ہوئے، پولیس فائل موجود نہ ہونے کی وجہ سے ملزموں کو مقدمہ کی نقول فراہم نہیں کی جاسکی، سماعت 30 اگست تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ سینٹرل جیل کراچی کے باہر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا میں کل اسی وقت گھوٹکی کی عدالت میں پیش ہوا، کبھی ملیر، کبھی عمر کورٹ کبھی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں پیش ہو رہا ہوں، سندھ کے عوام کو میرا قصور بتایا جائے، کبھی مجھ پر حملے ہو رہے ہیں کبھی مجھے دہشت گرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے، سندھ کی اینٹی کرپشن کی عدالت میں صرف ایک کا سات ماہ میِں چالان پیش ہوا ہے، چالان بھی صرف ہیڈ کانسٹبل کے خلاف، کیا سندھ میں کرپشن ختم ہوگئی؟
سندھ کے عوام کو لوٹنے والے دہشتگردوں کے میں خلاف ہوں، میں نے ہمیشہ سندھ کی مظلوم عوام کے حقوق کی بات کی ہے۔ پیپلز پارٹی 13 سالوں سے سندھ کی عوام کے حقوق کھا رہی ہے عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں، یہ آخری باری زرداری ہے اس کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹی کی کبھی حکومت نہیں آئے گی، سندھ کے اداروں کو بے دردی سے مال غنیمت سمجھ کر لوٹا گیا ہے، اب مرتضیٰ وہاب کو کھیلنے کے لیے کراچی دے دیا، غیر قانونی کاموں کو قانونی شکل دینے کے لیے کراچی کو مرتضیٰ وہاب کے حوالے کر دیا گیا ہے، کراچی سے پورا پاکستان چلتا ہے لیکن سندھ حکومت نے کراچی کو تباہ کرنے میں کوئی قصر نہیں چھو ڑی ہے، مرتضیٰ وہاب کو کراچی کی عوام نے الیکشن میں مسترد کر دیا تھا لیکن ایک مسترد شخص کے حوالے کراچی کو کر دیا گیا ہے۔ مرتضیٰ وہاب کی تعیناتی سے قبل مشاورت نہیں کی گئی، سندھ حکومت نے کراچی کو تباہ کرنے کے لیے مرتضیٰ وہاب کے حوالے کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایک ایک وزیر کو کئی کئی عہدے دے دیے گئے ہیں اور مشیروں کی فوج کھڑی کر دی گئی ہے، ہم ان کے خلاف عدالتوں سے رجوع کریں گے، سندھ میں وفاقی ادارے متحرک ہو رہے ہیں، وزیر اعظم سندھ میں جلسے جلوس کریں گے، 35 ارب روپے کی لاگت سے کراچی کے بڑے نالے جن میں گجر، اورنگی اور محمود آباد نالے پر کام وفاقی حکومت نے کروایا ہے۔ کے فور منصوبے پر کام شروع ہوگیا، گرین لائن ستمبر تک سڑکوں پر نظر آئے گی عوام کو ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی وفاق دلوائے گی، کے سی آر، موٹر وے پر کام چل رہا ہے، سندھ میں وزرا کی تبدیلی عمران خان کے خوف کی وجہ سے ہے، اب ہوچکا آخری باری زرداری۔ سندھ حکومت نے نادر شاہ حکم کے تحت سندھ میں لاک ڈاؤن لگا دیا ہے، ان فیصلوں سے پاکستان کی معیشت کو خطرہ ہوا ہے، ایک ہفتے کا لاک ڈاؤن پاکستان کو کئی ماہ واپس لے جاسکتا ہے، ہمارے کئی لوگ ڈیلی ویجر ہیں، پورے سندھ میں صحت کی سہولیات موجود نہیں ہیں، ہیپاٹائٹس، کتوں کے کاٹنے کی مراد علی شاہ کو پرواہ نہیں، لوگوں سے گزارش ہے ماسک پہنیں ویکسین لگوائیں، سندھ حکومت صرف الزام تراشی میں مصروف ہے، گزشتہ برس کورونا وبا سے لڑنے کے لئے سندھ حکومت کے پاس 5 ارب روپے کا بجٹ تھا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا سارا بجٹ واپس ہوگیا، ایک ویکسین تک سندھ حکومت نہیں خریدی ہے۔